بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آبی گزرگاہوں کے ذریعے کارگو کی نقل و حرکت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 FEB 2024 3:57PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایاکہ قومی آبی گزرگاہوں کے ذریعے کارگو کی نقل و حرکت کو بڑھانے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات ضمیمہ 1 میں ہیں۔

20-2019 سے لے کر 24-2023 (دسمبر) سال کے حساب سے قومی آبی گزرگاہوں کے ذریعے کارگو کی نقل و حرکت کی تفصیلات ضمیمہ 2 میں ہیں۔

ضمیمہ-1

آبی راستوں پر کارگو کی نقل و حمل میں اضافے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات

1. قومی آبی گزرگاہوں پر ٹریفک میں اضافے کے لیے اقدامات

  1. فیئر وے کے ترقیاتی کام:

جل مارگ وکاس پروجیکٹ (جے ایم سی پی) کے تحت ہلدیہ بارہ میں 3.0 میٹر، بارہ-غازی پور میں 2.5 میٹر اور این ڈبلیو1- پر غازی پور-وارانسی اسٹریچ میں 2.2 میٹر کی کم سے کم دستیاب گہرائی (ایل اے ڈی) کو یقینی بنانے کے لیے فیئر وے کے ترقیاتی کام عالمی بینک سے تکنیکی اور مالی مدد کے ساتھ آئی ڈبلیو اے آئی کے ذریعہ شروع کیے گئے ہیں ۔اسی طرح، انڈو بنگلہ دیش پروٹوکول (آئی  بے  پی)روٹ جو کہ آئی بی پی روٹ نمبر ایک اوردو پر سراج گنج اورڈائیکھوا کے درمیان اور بنگلہ دیش میں  آئی بی پی روٹ  نمب 3اور 4پر آشوگنج اورزکی گنج کے درمیان ایک اہم اور خالی اسٹریچ ہیں ، پورے سال   بحری جہازرانی کے  (2.5میٹر کے مطلوبہ  ایل اے ڈی کے ساتھ )کے لئے ہندوستا ن اور بنگلہ دیش کے ذریعہ مشترکہ طورپر ترقیاتی کام شروع کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح، سندربنس  میں این  ڈبلیو -97 پر فیئر وے کے ترقیاتی کام کئے جاتے ہیں تاکہ آئی بی پی  روٹ پر جہازوں کی آسانی سے نیویگیشن ہو سکے۔

ii -نئی قومی آبی گزرگاہوں کی ترقی:

 

آئی ڈبلیو اے آئی  نے 25 نئے این ڈبلیوز(قومی آبی گزرگاہوں) کی شناخت تکنیکی اقتصادی فزیبلٹی اسٹڈیز کے ذریعے کی ہے تاکہ نقل وحمل کے مقصد سے  آبی گزرگاہوں کو  قابل بحری  سفربنانے کے لیے تکنیکی اقدام  کیا جا سکے۔

iii-آراو-آراو/آراو-پیکس  سروس مختلف قومی آبی گزرگاہوں میں شروع کی گئی:

آراو-آراو/آراو-پیکس جہازوں کے آپریشن کا افتتاح فروری 2021 کے دوران عزت مآب وزیر اعظم نے مندرجہ ذیل راستوں کے لیے کیا:

Vessel Name

Ro-Ro/Ro-Pax Services between

Date of Inauguration by Hon'ble Prime Minister

MV Rani Gaidinliu& MV SachinDeve Barman

Neamati and Kamalabari (Majuli)

18.02.2021

MV JFR Jacob

Guwahati and North Guwahati

18.02.2021

MV Bob Khathing

Dhubri and Fakirganj (U/S Hatsingimar

18.02.2021

MV AdiShankara& MV

C.V. Raman

Wellingdon Island and Bolghaty

14.02.2021

 

iv -لیوی اور فیس کی وصولی پر نظر ثانی:

اندرون ملک آبی گزرگاہوں کو نقل و حمل کے ضمنی موڈ کے طور پر فروغ دینے کے حکومت ہند کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے ابتدائی طور پر تین سال کی مدت کے لیے آبی گزرگاہ کے صارف کے چارجز کو معاف کرنے کی اجازت دی ہے۔

2 -کاروبار میں آسانی کے لیے ڈیجیٹل حل:

 

 سی اے آر-ڈی) کارگو ڈیٹا) پورٹل:سی اے آر-ڈی ایک ویب پر مبنی پورٹل ہے جو اسٹیک ہولڈرز تک نیشنل واٹر ویز کے تمام کارگو اور کروز کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کو جمع اور تالیف، تجزیہ اور پھیلانے کے لیے ہے۔

  • پی اے این آئی (پورٹل فاراسیٹ اینڈ نیوی گیشن انفارمیشن ): پی اے این آئی ایک مربوط حل ہے جو ایک پلیٹ فارم پر دریا کی نیویگیشن اور بنیادی ڈھانچے کی معلومات فراہم کرتا ہے۔

یہ قومی آبی گزرگاہوں کی مختلف خصوصیات اور اثاثوں کی تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے جیسے فیئر وے، بنیادی ڈھانچے کی سہولیات، دریا کے پار ڈھانچے، جیٹیوں پر رابطہ، کارگو کی نقل و حمل کی سہولت کے لیے ہنگامی خدمات۔

یہ حل مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کو بڑھاتے ہیں، تنظیمی تسلسل کو بہتر بناتے ہیں، وسائل کی چستی میں اضافہ کرتے ہیں، ہر اسٹیک ہولڈر کے لیے ملکیت اور جوابدہی کو بڑھاتے ہیں، جس سے سرگرمیوں کا انتظام بہتر ہوتا ہے۔ آئی ڈبلیو اے آئی  کی جانب سے سیکٹر کے لیے کیے جانے والے کلیدی کاموں تک عوامی رسائی حاصل کرنے سے، مارکیٹ میں آئی ڈبلیو اے آئی  کا موقف بڑھے گا اور اس شعبے میں اعتماد بڑھے گا۔

3 – آئی ڈبلیو ٹی وضع کا استعمال کرتے ہوئے علاقائی تجارت میں اضافہ:

الف–پی آئی ڈبلیو ٹی اینڈ ٹی کے تحت ہندوستان اور بنگلہ دیش میں کال کی نئی بندرگاہوں اور راستوں کا اضافہ: ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پی آئی ڈبلیو ٹی اینڈ ٹی کے تحت موجودہ 8 راستوں کے علاوہ ہر طرف موجودہ 6 کے علاوہ 7 نئی بندرگاہوں کے ساتھ ساتھ 2 واٹر وے روٹس کے علاوہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کے لیے آئی ڈبلیوٹی  موڈ کی رسائی میں اضافہ متوقع ہے اور اس کے نتیجے میں این ڈبلیوز پر ٹریفک میں اضافہ ہوگا۔

ب- بھوٹان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت: بھوٹان کے پتھر کے برآمد کنندگان نے آبی گزرگاہوں کے موڈ سے منسلک فوائد جیسے کہ کم نقل و حمل کی لاگت، سڑک کے مقابلے میں بڑی کھیپ کا سائز، زمینی راستوں پر بھیڑ سے بچنا وغیرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اندرون ملک آبی گزرگاہوں کو نقل و حمل کے متبادل طریقے کے طور پر شناخت کیا ہے۔ آئی ڈبلیو اے آئی  کی نگرانی میں پہلی نقل وحرکت کو جولائی 2019 میں کامیابی کے ساتھ عمل میں لایا گیا۔ آئی ڈبلیو ٹی  موڈ کا استعمال کرتے ہوئے اس  تجارت  کے آنے والے سالوں میں جاری رہنے اور ایک اہم پیمانے پر پہنچنے کی امید ہے۔

4 -اسٹیک ہولڈرز کو اندرون ملک واٹر ٹرانسپورٹ استعمال کرنے اور قومی آبی گزرگاہوں سے متعلق مختلف معلومات تک رسائی کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار )ایس اوپیز):

مختلف قومی آبی گزرگاہوں کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار(ایس اوپیز ( کی فہرست جو آئی ڈبلیو اے آئی  کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے ذیل میں دی گئی ہے:

  1. عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی حکومت اور جمہوریہ ہند کی حکومت کے درمیان ہندوستان کو اور ہندوستان سے سامان کی نقل و حرکت کے لئے چٹگرام اور مونگلا بندرگاہوں کے استعمال سے متعلق معاہدے کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس اوپی )

-ii عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی حکومت اور جمہوریہ ہند کی حکومت کے درمیان ساحلی اور پروٹوکول روٹ پر مسافروں اور کروز سروسز پر مفاہمت نامے کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار(ایس اوپی )۔

iii -عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی حکومت اور جمہوریہ ہند کی حکومت کے درمیان دو طرفہ تجارت اور ٹرانزٹ کارگو کی نقل و حمل کے لیے اندرون ملک آبی گزرگاہوں کے استعمال پر مفاہمت نامے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس اوپی )۔

iv -کووڈ 19 کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ان لینڈ واٹر ٹرانزٹ اینڈ ٹریڈ (پی آئی ڈبلیو ٹی اینڈٹی ) پر پروٹوکول پر جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار  (ایس اوپی )۔

v-قومی آبی گزرگاہوں پر آراو-آراو/آراو-پکس جہاز کے آپریشن کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار  (ایس اوپی )اور چیک لسٹ۔

-vi کار ڈی پورٹل کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار  (ایس اوپی )۔

5- اسٹیک ہولڈر مشاورت:

 آئی ڈبلیو اے آئی نے مالی سال -20 ، نمبر 9میں چھ مختلف مقامات (کولکتہ، کوچی، ممبئی، پٹنہ، گوا اور ڈھاکہ) پر اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کی،۔ مالی سال 21 اور 06 کے دوران کارگو کے فروغ کے لیے مالی سال 22 میں کانفرنس-اور-ویبنارزکاانعقاد کیا۔

  • پی ایم  گتی شکتی ملٹی موڈل واٹر وے کنیکٹیویٹی سمٹ وارانسی میں 11 سے 12 نومبر 2022 تک منعقد ہوئی،  جس میں بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (پی ایس ڈبیلیو) کے مرکزی وزیر،عزت مآب وزیر اعلیٰ، اتر پردیش، عزت مآب مرکزی وزیر تجارت،پی ایس ڈبلیو کے عزت مآب وزراءنے شرکت کی۔ اس سربراہی اجلاس میں پی ایم گتی شکتی کے بارے میں مزید بیداری پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی اور 07 کمیونٹی جیٹیوں کا افتتاح کیا گیا، اور گنگا پر 08 کمیونٹی جیٹیوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔
  • 13 جنوری 2023 کو وارانسی میں عزت مآب وزیر اعظم نے پی ایس ڈبلیوکے عزت مآب وزیراور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں دنیا کے سب سے طویل دریائی کروز اور آبی گزرگاہوں کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور ورچوئل  طور پر سنگ بنیاد رکھا۔ گنگا ولاس ندی کے کروز نے 28.02.2023 کو ہند-بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ کے ذریعے برہم پترا پر ڈبرو گڑھ میں 3200 کلومیٹر کا سفر کامیابی سے مکمل کیا۔
  • بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر نے 12.6.2023 کو اندرون ملک آبی نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے اے ڈبلیو اے آئی  دھوبری ٹرمینل پراے ڈبلیو اے آئی کے چیئرمین اور ممبرٹیکنالوجی اے ڈبلیو اے آئی کی موجودگی میں ہندوستان-بنگلہ دیش-بھوٹان آئی ڈبلیو ٹی  آپریٹرز کے ساتھ اسٹیک ہولڈرز کی میٹنگ کی۔
  • ملک میں ان لینڈ واٹر وے ٹرانسپورٹ کی مجموعی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ریاستوں کی فعال ایسوسی ایشن کے ساتھ کارگو، مسافروں کی نقل و حرکت اور دریائی کروز ٹورازم کو فروغ دینے کے لیے، ایک ان لینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ کونسل (آئی ڈبلیو ڈی سی) کا قیام  بندرگاہوں ، جہازرانی وآبی گزرگاہوں اورآیوش کے عزت مآب وزیر کی صدارت میں ریاستی حکومتوں /مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے نمائندوں کے ساتھ  قومی آبی گزرگاہوں،دیگران لینڈ گزرگاہوں اورمتعلقہ ایکوسسٹم  کی جامع ترقی کے لئے کیاگیاہے ۔ آئی ڈبلیو ڈی سی کی پہلی میٹنگ 8 جنوری 2024 کو کولکتہ میں ہوئی۔

عالمی بینک کی مدد سے جے ایم وی پی II- (ارتھ گنگا) کے تحت  اقدامات 746کروڑروپے کی لاگت کے ساتھ کئے گئے  ہیں  ،جن کا مقصد اقتصادی سرگرمیوں کو تقویت دینے کے لیے پائیدار ترقی کے ماڈل کے اصولوں پر مبنی ایک نقطہ نظرہے ۔جو دریائی کنارے کے ساتھ مجموعی ماحولیاتی نظام  پر اثراندز ہوگا،جس سے این ڈبلیو-1 کے کناروں پر رہنے والی آبادی کی سماجی و اقتصادی ترقی ہوگی۔

یہ جامع ترقی کا باعث بن سکتا ہے اور قومی آبی گزرگاہ نمبر 1 کے ذریعے سامان اور مسافروں (بشمول سیاحوں) کی نقل و حمل کے ساتھ آبادیوں کے ذریعہ معاش کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ضمیمہ -2

 

National Waterways Cargo Data 2019-20 to 2023-24 December (in Million Tons)

 

National

Waterways (NW)

2019-20

2020-21

2021-22

2022-23

2023-24 till Dec

 

 

NW-1 (Ganga-Bhagirathi-Hooghly River System (Haldia-Allahabad))

9.11

9.21

10.93

13.17

9.60

 

NW-2 (Brahmaputra River (Dhubri-Sadiya))

0.39

0.31

0.43

0.63

0.40

 

NW-3 (West Coast Canal)

0.55

0.73

1.70

3.23

2.42

 

NW-4 (Krishna Godavari River Systems)

0.08

6.83

11.23

8.42

3.57

 

NW-5 (East Coast Canal And Matai River/Brahmani-Kharsua-Dhamra Rivers/Mahanadi Delta Rivers)

-

 

0.02

0.40

0.45

 

NW-8 (Alappuzha-Changanassery Canal)

 

 

 

0.03

0.03

 

NW-9 (Alappuzha-Kottayam Athirampuzha Canal)

 

 

 

0.02

0.01

 

NW-14 (Baitarni River)

 

 

 

-

0.00

 

NW-16 (Barak River)

0.00

0.00

0.01

0.01

0.00

 

NW-23 (BudhaBalanga)

 

 

 

0.03

0.02

 

NW-31 (Dhansiri/Chathe)

 

 

 

 

0.01

 

NW-44 (Ichamati River)

0.90

0.28

0.82

0.46

0.33

 

NW-64 (Mahanadi River)

-

-

0.02

0.45

0.48

 

NW-86 (Rupnarayan River)

-

0.00

0.00

0.09

0.07

 

NW-94 (Sone River)

0.80

-

-

-

0.88

 

NW-97 (Sunderbans Waterway)

3.46

3.86

6.10

5.47

3.84

 

Sub Total (National Waterways 1,2,3,4,5,16,44,64,86,94,&97)

15.30

21.22

31.24

32.41

22.10

 

Maharashtra Waterways

 

 

 

 

 

 

NW-10 (Amba River)

22.01

17.69

20.23

28.54

22.94

 

NW-83 (Rajpuri Creek)

0.67

0.21

0.23

0.24

0.29

 

NW-85 (Revadanda Creek-Kundalika River System)

1.59

1.08

0.70

0.50

0.66

 

NW-91 (Shastri River - Jaigad Creek System)

0.12

9.24

22.45

33.87

8.49

 

TOTAL Maharashtra Waterways

24.39

28.21

43.61

63.15

52.38

 

Goa Waterways

 

 

 

 

 

 

NW-68 (Mandovi River)

1.58

4.00

2.62

2.54

1.75

 

NW-111 (Zuari River)

1.36

4.47

1.96

0.39

0.82

 

TOTAL Goa Waterways

2.93

8.46

4.58

2.93

2.57

 

Gujarat Waterways

 

 

 

 

 

 

NW-73 (Narmada River)

0.10

0.08

0.05

0.04

0.04

 

NW-100 (Tapi River)

30.92

25.63

29.32

27.62

23.42

 

TOTAL Gujarat Waterways

31.02

25.71

29.37

27.66

23.46

 

Grand Total Million Tonnes

73.64

83.61

108.79

126.15

100.51

 

 

************

 

U-4505

 (ش ح۔ اک ۔ع  آ)


(ریلیز آئی ڈی: 2003221) وزیٹر کاؤنٹر : 88
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी