وزارت دفاع

آئی این ایس سندھائک، پہلی سروے ویسل لارج شپ جسے وشاکھاپٹنم میں رکشا منتری کی موجودگی میں بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا


یہ جہاز بحر ہند و بحرالکاہل خطے میں بھارت کے کردار کو ایک سپر پاور کے طور پر مزید مستحکم کرے گا: جناب راج ناتھ سنگھ

’’آئی این ایس سندھائک ہمارے بحری مفادات کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کا بھی تحفظ کرے گا‘‘

’’ سمندری قزاقی اور اسمگلنگ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ ’نیو انڈیا‘ کا عہد ہے‘‘

’’بھارت جہاز رانی کی آزادی، صنعت و تجارت اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کا حامی ہے‘‘

Posted On: 03 FEB 2024 1:45PM by PIB Delhi

وشاکھاپٹنم کے نیول ڈاک یارڈ میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں پہلے سروے ویسل لارج (ایس وی ایل) جہاز آئی این ایس سندھائک (یارڈ 3025) کو بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا۔ جہاز کا بنیادی کردار پورٹس، بندرگاہوں، آبی شاہراہوں / راستوں، ساحلی علاقوں اور گہرے سمندروں کا مکمل پیمانے پر ہائیڈرو گرافک سروے کرنا ہے، تاکہ محفوظ سمندری جہاز رانی کو ممکن بنایا جاسکے۔ اپنے ثانوی کردار میں، جہاز متعدد بحری کارروائیوں کو انجام دینے کے قابل ہوگا۔

وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں اس کمیشن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آئی این ایس سندھائک بحر ہند و بحرالکاہل خطے میں ایک سپر پاور کے طور پر بھارت کے کردار کو مزید مستحکم کرے گا اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں بھارتی بحریہ کی مدد کرے گا۔ انھوں نے انسان کی ترقی کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کسی ملک کے سلامتی کے پہلو کی وضاحت کی۔ ’’ابتدائی برسوں میں خاندان پر منحصر رہنے سے، ایک بچہ آہستہ آہستہ خود مختار ہوجاتا ہے اس سے پہلے کہ وہ معاشرے میں علم پھیلانا شروع کرے۔ اسی طرح، ایک ملک، اپنی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں، سلامتی کے لیے دوسرے ممالک پر منحصر ہے، اس سے پہلے کہ وہ اپنے دفاع کی صلاحیت پیدا کرنا شروع کرے. اس کے بعد تیسرا مرحلہ آتا ہے جب وہ اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ اپنے دوست ممالک کی حفاظت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ آئی این ایس سندھائک سمندروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ملک کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کی حفاظت کے دوہرے مقصد کو حاصل کرنے میں ایک طویل سفر طے کرے گا۔ ’’سمندر بہت وسیع و بسیط ہے۔ جتنا زیادہ ہم اس کے عناصر کو تلاش کرنے کے قابل ہوں گے، اتنا ہی زیادہ ہمارا علم وسیع ہوگا، اور ہم مضبوط ہوں گے. جتنا زیادہ ہم سمندر، اس کی ماحولیات، اس کے نباتات اور حیوانات کے بارے میں معلومات جمع کریں گے، اتنا ہی ہم اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے قریب پہنچیں گے۔ جتنا زیادہ ہم سمندر کے بارے میں جانیں گے، اتنا ہی ہم اپنے اسٹریٹجک مفادات کو پورا کرنے کے قابل ہوں گے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ آزادی کے بعد کئی محاذوں پر چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود بھارت اپنی سلامتی کے لیے آگے بڑھتا رہا اور خود کو خطرات سے محفوظ رکھا۔ انھوں نے کہا کہ آج ملک ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بحریہ بحر ہند اور بحرہند و بحرالکاہل کے خطے میں سب سے پہلے سیکورٹی فراہم کر رہی ہے۔

رکشا منتری نے بحر ہند کو عالمی تجارت کا مرکز قرار دیا۔ ’’خلیج عدن، خلیج گنی وغیرہ جیسے بہت سے چوک پوائنٹس بحر ہند میں موجود ہیں، جن کے ذریعے بڑی مقدار میں بین الاقوامی تجارت ہوتی ہے۔ انھوں نے بحیرہ عرب میں تجارتی بحری جہازوں کو ہائی جیک کرنے کی کوششوں اور بحری قزاقوں سے جہازوں کو بچانے کے لیے بھارتی بحریہ کی جرات اور فوری صلاحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ان چوک پوائنٹس پر بہت سے خطرات موجود ہیں، جن میں سب سے بڑا قزاقوں کی طرف سے ہے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے یقین دلایا کہ سمندری قزاقی اور اسمگلنگ میں ملوث افراد کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے ’نیو انڈیا‘ کا عہد قرار دیا۔ حال ہی میں آئی این ایس امپھال کے افتتاح  کے دوران وزیر دفاع نے کہا تھا کہ بھارت سمندر کی گہرائی سے مذموم سرگرمیوں میں ملوث افراد کا پتہ لگائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔

آئی این ایس سندھائک کی کمیشننگ تقریب میں وزیر دفاع نے نہ صرف بھارتی بحری جہازوں بلکہ دوست ممالک کے جہازوں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھارتی بحریہ کی ستائش کی۔ انھوں نے خلیج عدن میں برطانوی بحری جہاز پر حالیہ ڈرون حملے کا حوالہ دیا جس کے نتیجے میں آئل ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔ انھوں نے آگ بجھانے کے لیے فوری ردعمل کے لیے بھارتی بحریہ کی ستائش کی اور کہا کہ اس کوشش کو دنیا نے تسلیم کیا اور سراہا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے 80 ماہی گیروں / میرینز کو بچانے کے علاوہ گذشتہ چند دنوں میں بحری قزاقی کی پانچ کوششوں کو روکنے اور ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کرنے والے بحری جہازوں کی مدد کرنے کے لیے بھارتی بحریہ کی ستائش کی۔ بحر ہند کے خطے میں بھارتی بحریہ امن اور خوشحالی کو یقینی بناتے ہوئے محفوظ تجارت کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ بہت سے دفاعی ماہرین اسے سپر پاور کا عروج قرار دے رہے ہیں۔ یہ ہماری ثقافت ہے– ہر ایک کی حفاظت کرنا۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ بھارت نہ صرف خطے سے بلکہ پوری دنیا سے انتشار کو ختم کرنے کے لیے عہد بستہ ہے۔ انھوں نے مختلف ممالک کے درمیان جہاز رانی، تجارت اور تجارت کی آزادی کو برقرار رکھنے کے بھارت کے موقف کی تائید کی۔ ہماری بڑھتی ہوئی طاقت کا مقصد قواعد پر مبنی عالمی نظام کو یقینی بنانا ہے۔ ہمارا مقصد بحر ہند اور بحر ہند و بحرالکاہل کے خطے میں غیر قانونی اور غیر منظم ماہی گیری کو روکنا ہے۔ بحریہ اس خطے میں منشیات اور انسانی اسمگلنگ کو روک رہی ہے۔ وہ نہ صرف بحری قزاقی کو روکنے کے لیے پرعزم ہے بلکہ اس پورے خطے کو پرامن اور خوشحال بنانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ آئی این ایس سندھائک ہمارے مقصد کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جس نیت سے حکومت بحریہ کو مضبوط بنا رہی ہے اس سے عالمی امن کا علم بردار بننے کی ہماری تقدیر کا احساس ہوگا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل آر ہری کمار نے کہا کہ ایس وی ایل پروجیکٹ حکومت اور بحریہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جو سمندر میں کام کرنے کی بنیادی شرط یعنی سمندروں کی ناقابل تسخیر گہرائیوں کا سروے ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مختلف قسم کے کرداروں اور کاموں کو انجام دینے کے لچک سے فائدہ اٹھانے کے لیے، بحریہ مقامی طور پر جدید ترین پلیٹ فارم لانچ کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا، ’’چاہے طاقتور طیارہ بردار جہاز وکرانت ہو، وشاکھاپٹنم کلاس کے مہلک تباہ کن جہاز ہوں، نیلگری کلاس کے ورسٹائل فریگیٹ ہوں، کلواری کلاس کی آبدوزیں ہوں، تیز رفتار شیلو واٹر اے ایس ڈبلیو کرافٹ ہو یا خصوصی غوطہ خوری سپورٹ ویسلز ہوں، ہم احتیاط سے ایک متوازن ’آتم نربھر‘ فورس تیار کر رہے ہیں۔‘‘

ایڈمرل آر ہری کمار نے زور دے کر کہا کہ 66 میں سے 64 بحری جہاز اور آبدوزیں بھارتی شپ یارڈ میں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحریہ اس شعبے میں ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی، شپ یارڈز کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی، کارکنوں کے ساتھ ساتھ معاون صنعتوں میں کام کرنے والوں کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرے گی۔

وزیر دفاع کی اس یقین دہانی پر کہ بحر ہند میں امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، چیف آف دی نیول اسٹاف نے کہا، ’’نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا نے گذشتہ چار پانچ ہفتوں میں راج ناتھ سنگھ کی ہدایات کا اثر دیکھا ہے۔ بھارتی بحریہ اس وقت تک نہیں رکے گی جب تک بحر ہند مکمل طور پر کھلا، محفوظ اور آزاد نہیں ہو جاتا۔ ہم تیار ہیں!‘‘

کمیشننگ کی تقریب میں گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز (جی آر ایس ای)، کولکاتا میں زیر تعمیر ایس وی ایل پروجیکٹ کے چار جہازوں میں سے پہلے جہاز کو باضابطہ طور پر شامل کیا گیا۔ اس پروجیکٹ کو بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز ڈیزائن بیورو نے چلایا ہے۔

کیل 12 مارچ 2019 کو بچھائی گئی تھی اور جہاز کو 05 دسمبر 2021 کو لانچ کیا گیا تھا۔ بندرگاہ اور سمندر میں اس کی آزمائشوں کا ایک جامع شیڈول جاری کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا افتتاح کیا گیا۔ اس جہاز کا وزن 3,400 ٹن ہے اور اس کی مجموعی لمبائی 110 میٹر ہے اور اس کی بیم 16 میٹر ہے۔

آئی این ایس سندھائک جدید ترین ہائیڈروگرافک آلات سے لیس ہے جس میں ڈیپ اینڈ شیلو واٹر ملٹی بیم ایکو سونڈرز، خودمختار زیر آب گاڑی، ریموٹ آپریٹڈ وہیکل، سائیڈ اسکین سونارز، ڈیٹا ایکوزیشن اینڈ پروسیسنگ سسٹم، سیٹلائٹ بیسڈ پوزیشننگ سسٹم اور زمینی سروے کا سامان شامل ہے۔ یہ جہاز دو ڈیزل انجنوں سے چلتا ہے اور 18 ناٹ سے زیادہ کی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں لاگت کے لحاظ سے 80 فیصد سے زیادہ دیسی مواد ہے اور یہ ایم ایس ایم ای سمیت بھارتی بحریہ اور صنعت کے مابین مشترکہ کوششوں کو خراج تحسین ہے۔ اس کی شمولیت قوم کے بڑھتے ہوئے بحری مفادات اور صلاحیتوں کی غماز ہے۔

’سندھائک‘ سے مراد ہے ایک خاص جستجو کرنے والا۔ جہاز کی چوٹی میں ایک میرینر کے کمپاس کے سولہ پوائنٹس دکھائے گئے ہیں، جس میں سمندر کے دوش پر سوار ایک ’ڈیوائڈر‘ اور ایک ’لنگر‘ شامل ہے، جو سمندروں کے سفر کی علامت ہیں، یہی اس مساحتی جہاز کا بنیادی کردار ہے۔ یہ کمیشننگ جنگی جہازوں کی ڈیزائننگ اور تعمیر میں بھارت کی مہارت کی عکاس ہے۔

***

(ش ح – ع ا – ع ر)

U. No. 4377



(Release ID: 2002209) Visitor Counter : 136


Read this release in: English , Marathi , Hindi