کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

تیل کے کھانوں پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں اپریل-نومبر 2023 کے دوران بالترتیب 34.33 فیصد اور 15.10 فیصدکا اضافہ ہوا ہے


اپیڈا(اے پی ای ڈی اے ) باسمتی چاول کی برآمدات میں16 فیصد اضافہ دیکھا گیا

اپیڈا(اے پی ای ڈی اے) نے مالی سال 2023-24 کے اپریل سے اکتوبر کی مدت میں کل زرعی برآمدات میں51 فیصد کا تعاون  دیا

प्रविष्टि तिथि: 21 DEC 2023 5:41PM by PIB Delhi

زرعی مصنوعات تیل کے کھانے، پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں اپریل تا نومبر 2023 میں بالترتیب 34.33 فیصد اور 15.10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کچھ دیگر زمرے جن میں قابل ذکر کارکردگی دیکھنے میں آئی، ان میں تمباکو (10.44فیصد)، تلہن (9.56فیصد)، اناج کی تیاری اور خوراک کو ڈبہ بند کرنے سے متعلق  متفرق اشیاء(6.27فیصد)اور گوشت، ڈیری اور پولٹری مصنوعات (6.31فیصد)ہیں۔ اس عرصے کے دوران زرعی مصنوعات کی اکثریت نے برآمدات میں اضافہ درج کیا ہے۔

پرنسپل کموڈٹیز، ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(اے پی ای ڈی اے)کی مختلف سطح پر باسمتی چاول کی برآمدات میں16 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ باسمتی چاول کے آر سی اے سی کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے دسمبر 8 تک برآمدات میں20 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مطابق ہے۔ اے پی ای ڈی اے نے  پربوائلڈ چاول کی برآمدات کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جو کہ 8 ہندسوں کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے اور اس میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے اپریل-ستمبر 2023 کے عرصے میں برآمدات میں21.54 فیصد نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکی ڈالر کی قدر کے لحاظ سے، اپریل سے اکتوبر کی مدت میں پھلوں اور سبزیوں میں15.10 فیصد قابل ذکر اضافہ بھی شامل ہے۔ کچھ تازہ پھل،جنہوں نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، ان میں انگور، کیلے، انار وغیرہ شامل ہیں۔ ہندوستان اب 111 ممالک کو تازہ پھل فراہم کرتا ہے، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں پیش کیے گئے 102 مقامات سے حاصل قابل ذکر اضافہ ہے۔

ہندوستان کی پولٹری مصنوعات کی برآمدات میں41 فیصد اضافہ ہوا ہے اور موجودہ مدت کے دوران یہ43  مقامات سے بڑھ کر 50 مقامات تک پہنچ گئی ہے۔ سرکردہ ممالک کو برآمدات میں نمایاں اضافہ، بشمول عمان میں61.61فیصد، جاپان میں112.0فیصد، مالدیپ میں 32.10فیصد، انڈونیشیا میں 20.44فیصد، متحدہ عرب امارات میں94.17فیصد، قطر میں 74.14فیصد اور ویتنام میں9.95فیصد شامل  ہے۔ سری لنکا کی معاشی بحران میں مدد کرتے ہوئے ہندوستان نے پولٹری مصنوعات کی برآمد میں اضافے کی خاطر سری لنکا کو  انڈے فراہم کیے ہیں۔

50 سے 65 ممالک کے برآمدی مقامات میں زبردست اضافے کے ساتھ موجودہ مدت میں ہندوستان کی مونگ پھلی کی برآمد میں41 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ بھینس کے گوشت کی برآمد میں11.3فیصد، بھیڑ/بکری کے گوشت میں 10فیصد، کوکو کی مصنوعات میں 18.13فیصد اور الکوحل والے مشروبات کی موجودہ مدت میں اپریل تا اکتوبر 2023 میں گزشتہ اسی مدت کے مقابلے میں 21.7فیصد اضافہ ہوا ہے۔

23-2022کی مدت میں مجموعی طور پر زرعی برآمدات کی مالیت53.1 بلین تھی، جس میں اپیڈا کا حصہ مالی سال 24-2023 کے اپریل سے اکتوبر کے عرصے میں50.2فیصد اور 27.3 بلین تھا،جس میں اپیڈا نے کل زرعی برآمدات میں51فیصد کا تعاون دیا۔اپیڈا کی مصنوعات، جن کی مالیت 15030.52 ملین امریکی ڈالر ہے، میں مختلف شعبوں میں خاطر خواہ ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔

اے پی ای ڈی اے نے نئی برآمدی مصنوعات اور  نئی منزلوں  کے جہازوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔ یہ ترسیل پوروانچل سے خلیجی ملک (یو اے ای) کو ’’تازہ آلو’’ کی پہلی برآمد ہے ۔ ایل بی ایس آئی ہوائی اڈہ وارانسی سے  متحدہ عرب امارات کو شاہ بلوط کی پہلی برآمد ہے  ۔ بھارت سے نسلی زرعی مصنوعات کی برآمد کو فروغ دینے کی مسلسل کوششیں  جاری ہیں ۔ پوروانچل علاقے سے زرعی برآمدات  کو فروغ دینے کی خاطر وارانسی سے شارجہ تک میریگولڈ کی پہلی بار  ہری جھنڈی دکھا کر  روانہ کیا گیا ۔ وارانسی سے متحدہ عرب امارات کو کیلے کے پلانٹ  سے نکلنے والے (پھول، پھل، پتی) کی 3.5 ایم ٹی کی پہلی بار برآمد  کیا گیا ۔  بارامتی مہاراشٹر سے ایف ایف وی ڈویژن کے زیر اہتمام نیدرلینڈز کو کیلے کی آزمائشی کھیپ کے ایک کنٹینر  کو روانہ کیا گیا ۔  علی گڑھ سے گیانا تک 29 ایم ٹی  آلو کی پہلی بار برآمد کیا گیا ۔ وارانسی سے متحدہ عرب امارات کے لیے پہلی بار ہاگ پلم اور کرین بیری (1750 کلوگرام)کی پہلی بار برآمد کی گئی ۔ وارانسی پیک ہاؤس سے پہلی بار تازہ سبزیوں کی ہری مرچ 25 ایم ٹی  اور آم 2ایم ٹی  برآمد کئے گئے ۔ اوڈیشہ سے متحدہ عرب امارات تک پہلی بار پیلے رنگ کے تربوز (150 کلوگرام)کو  روانہ کیا گیا ۔  جنوبی کوریا کے لیے برآمد کی غرض سے میسرز نسارگا فریش پروسیسنگ  پرائیویٹ لمیٹیڈ کی جانب سے کیسر آم کی پہلی تجارتی کھیپ (117 کلوگرام کے 39 ڈبوں) ممبئی میں وی ایچ ٹیمیں پروسیس  کیا گیا ۔

اے پی ای ڈی اے نے زرعی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کچھ اور اقدامات کیے ہیں۔ اے پی ای ڈی اے نے مالی سال 2024 ء میں امریکہ کو برآمد کے لیے آم اور انار کے پری کلیئرنس پروگرام کے لیے یو ایس ڈی اے اے پی ایچ آئی ایس کے ساتھ پری کلیئرنس کوآپریٹر ادائیگی کے منصوبے پر دستخط کیے، جواین پی پی او انڈیا اوریو ایس ڈی اے اے پی ایچ آئی ایس کے درمیاناو ڈبلیو پی  کا حصہ ہے۔ اے پی ای ڈی اے نے آم اور انار کے برآمد کنندگان کی مانگ کے جائزے کی بنیاد پر واشی، ناسک، احمد آباد اور بنگلور میں شعاع ریزی کی سہولت کے پلانٹس میں پری کلیئرنس پروگرام کے لیے امریکی انسپکٹرز کو طلب کیا۔ اے پی ای ڈی اے نے جنوبی کوریا کے انسپکٹرز کو جنوبی کوریا کے لیے  آم کی برآمدات کے لیے نگرانی کے پروگرام کے لیے مدعو کیا ،  جس کے نتیجے میں 2022 ء کے سیزن کے مقابلے میں برآمدات میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نامیاتی مصنوعات کی جانچ کے لیے لیبارٹریوں کو بڑھانے کی کوششیں، بشمول مشاورتی میٹنگ اور مہارت کے دو راؤنڈ کے ٹیسٹ  کی وجہ سے  نامیاتی لیبارٹریوں کی تعداد 38 سے بڑھا کر 62 کر دی ہے۔شمال مشرقی ریاستوں کے لیے گوہاٹی میں ’کرشی اڑان 2.0‘ اسکیم کے بارے میں بیداری کا اہتمام کیا گیا تاکہ اعلیٰ نقل و حمل اور ہوائی جہاز کے اخراجات سے نمٹا جا سکے ۔

اے پی ای ڈی اے نے روم کے ایف اے او  میں کوڈیکس ایلیمنٹیریس کمیشن(سی اے سی )کے 46ویں اجلاس میں شرکت کی اور  بھارت کوسی اے سی کی ایگزیکٹو کمیٹی میں ایشیائی خطے کی نمائندگی کرنے والے رکن کے طور پر منتخب کیا گیا۔

************

ش ح۔ش ر۔ن ع

U. No.2879


(रिलीज़ आईडी: 1989684) आगंतुक पटल : 110
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English