پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بی پی ایل کنبوں کے لیے پی این جی کنکشن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 DEC 2023 5:40PM by PIB Delhi

 پائپ سے قدرتی گیس (پی این جی) کنکشن فراہم کرنا سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) نیٹ ورک کی ترقی کا حصہ ہے اور یہ کام پیٹرولیم اینڈ نیچرل گیس ریگولیٹری بورڈ (پی این جی آر بی) کے ذریعہ منظور شدہ اداروں کی جانب سے کم از کم کام پروگرام (ایم ڈبلیو پی) اور ٹیکنو کمرشل فزیبلٹی کے مطابق کیا جارہا ہے۔ پی این جی آر بی نے سی جی ڈی نیٹ ورک کی ترقی کے لیے 300 جغرافیائی علاقوں (جی اے) کو اہل بنایا ہے جس میں بی پی ایل کنبوں سمیت تقریبا 98 فیصد آبادی اور ملک کے کل جغرافیائی علاقے کا 88 فیصد شامل ہے۔ 31 اکتوبر 2023تک ملک بھر میں اسی جی ڈی اداروں کے ذریعہ 1.19 کروڑ پی این جی کنکشن (بی پی ایل کنبوں کو فراہم کردہ کنکشن سمیت) فراہم کیے گئے ہیں۔

پی این جی کی سہل الحصولی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے او این جی سی / او آئی ایل کے نامزدگی فیلڈز ، نیو ایکسپلوریشن لائسنسنگ پالیسی (این ای ایل پی) بلاکس اور پری این ای ایل پی بلاکس سے پیدا ہونے والی گیس کے لیے گزٹ نوٹیفکیشن مجریہ 07.04.2023 کے ذریعہ گھریلو قدرتی گیس کی قیمتوں کے نظر ثانی شدہ رہنما خطوط کو منظوری دی ہے ، جس میں پروڈکشن شیئرنگ کنٹریکٹ (پی ایس سی) قیمتوں کی حکومت کی منظوری کا التزام کیا گیاہے۔ اس طرح کی قدرتی گیس کی قیمت بھارتی خام تیل کی ماہانہ اوسط کا 10 فیصد ہوگی اور اسے ماہانہ بنیاد پر مطلع کیا جائے گا۔ او این جی سی اور او آئی ایل کے ذریعہ ان کے نامزدگی بلاکس سے تیار کردہ گیس کے لیے ایڈمنسٹریٹڈ پرائس میکانزم (اے پی ایم) کی قیمت بالترتیب 4.0 ڈالر / ایم ایم بی ٹی یو اور  6.5 ڈالر/ ایم ایم بی ٹی یو کی حد سے مشروط ہوگی۔ اصلاحات کے نتیجے میں گھروں کے لیے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور نقل و حمل کے لیے کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ پی این جی (ڈومیسٹک) / سی این جی (ٹرانسپورٹ) کو گھریلو گیس مختص کرنے کو نو کٹ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ حکومت نے سی جی ڈی سیکٹر کے سی این جی (ٹی)/ پی این جی (ڈی) سیگمنٹ کے لیے مختص رقم 2013-14کی پہلی ششماہی میں 8.32 ایم ایم ایس سی ایم ڈی سے بڑھا کر جولائی-ستمبر 2023-24کے لیے 21.143 ایم ایم ایس سی ایم ڈی کردی ہے۔

حکومت نے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں 2013- 14میں گھریلو گیس کی تقسیم کو 250 فیصد تک بڑھانا، سی این جی (ٹرانسپورٹ) اور پی این جی (گھریلو) شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بجلی اور دیگر غیر ترجیحی شعبوں سے گھریلو گیس کا رخ موڑنا، گھریلو قدرتی گیس کی تقسیم کے لیے سی این جی (ٹی) / پی این جی (ڈی) سیگمنٹ کو پہلی ترجیح قرار دینا وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت نے یہ بھی مطلع کیا ہے کہ ڈیپ واٹر، الٹرا ڈیپ واٹر اور ہائی پریشر ہائی ٹمپریچر والے علاقوں میں دریافت ہونے والی گیس کسی بھی صورت میں جس میں بولی کے عمل کے تحت پیش کی جانے والی گیس کی متناسب تقسیم کی ضرورت پڑسکتی ہے، ٹھیکیدار ترجیحی بنیادوں پر سی این جی (ٹی) / پی این جی (ڈی) سیکٹر سے تعلق رکھنے والے بولی دہندگان کو گیس پیش کرے گا۔

یہ جانکاری پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر مملکت جناب رامیشور تیلی نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

***

(ش ح – ع ا – ع ر)

U. No. 2614

 


(ریلیز آئی ڈی: 1987941) وزیٹر کاؤنٹر : 89
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी