بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
دیسی جہاز سازی کو فروغ دینے کے لیے ہر قسم کے ٹینڈر کے لیے رائٹ آف فرسٹ انکار (RoFR) کے درجہ بندی پر نظر ثانی کی گئی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 DEC 2023 3:06PM by PIB Delhi
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایاہے کہ ملک میں مقامی جہاز سازی کی صنعت کے فروغ کے لیے حکومت کی طرف سے درج ذیل کوششیں کی گئی ہیں۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے بھارت میں اندرون ملک جہاز سازی کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے، بھارتی شپ یارڈز کے لیے جہاز سازی کی مالی معاونت کی پالیسی (ایس بی ایف اے پی) اسکیم متعارف کرائی ہے تاکہ گھریلو اور بین الاقوامی منڈیوں سے آرڈر حاصل کیے جا سکیں اور عالمی آرڈرز کو حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کی جا سکے۔ مذکورہ اسکیم بھارتی شپ یارڈز کو یکم اپریل 2016 سے 31 مارچ 2026 کے درمیان طے پانے والے جہاز سازی کے معاہدوں کے لیے مالی امداد کی پیشکش کرتی ہے، جس میں مالی امداد کی شرح 2016 میں 20فیصد سے شروع ہوئی اور 2026 میں 11فیصد تک کمی آجائے گی ۔
جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے حوالے سے مقامی جہاز سازی کووسعت دینے کے لیے، وزارت نے ایس بی ایف اے پی کے رہنما خطوط میں ترمیم کی ہے۔
الف ۔خصوصی جہازوں کے طور پرونڈ فارم کی تنصیب اور جدید ترین ڈریجرز کی تعمیر جو زیادہ مالی امداد حاصل کرنے کے اہل ہیں،
ب ۔ان جہازوں کے لیے 30فیصد کی مالی امداد جس میں ماحول کے لئے سازگارایندھن جیسے میتھانول/امونیا/ہائیڈروجن فیول سیلز کے ذریعے مین پروپلشن حاصل کیا جاتا ہے،
ج-پروپلشن کے الیکٹرک ذرائع والے جہازوں یا ہائبرڈ پروپلشن سسٹم سے لیس جہازوں کے لیے 20فیصد کی مالی امداد۔
اندرون جہاز سازی کو فروغ دینے کے لیے، جہاز کی تعمیر اور جہاز کی ملکیت سے متعلق سرکاری اداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے ( پبلک پروکیورمنٹ)سرکاری خریداری (میک ان انڈیا کو ترجیح دینے)کے حکم 2017 کے مطابق مقامی مواد کو یقینی بنائیں۔ اس آرڈر کے مطابق، ہندوستانی شپ یارڈز سے جہازوں کی خریداری کے لئے 200 کروڑ سے بھی کم کی ضرورت ہے۔
حکومت نے جہاز سازی کی صنعت کو بنیادی ڈھانچہ کا درجہ بھی دیا ہے، جو جہاز سازی کی فرموں کو ان کے اثاثوں کی اقتصادی ہیئت کے مساوی طویل مدت کے لیے سود کی کم شرحوں پر طویل مدتی پراجیکٹ قرضوں کی لچکدار ساخت حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے اوریہ ورکنگ سرمائے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے سے بانڈز جاری کرنے اور جہاز سازی کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ٹیکس فوائد حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
حکومت نے بھارتی شپ یارڈز میں تعمیر کیے جانے والے ٹگس کی خریداری کے لیے بڑی بندرگاہوں کے استعمال کے لیے پانچ قسموں کے معیاری ٹگ ڈیزائن جاری کیے ہیں۔
حکومت نے سرکاری محکموں یا ایجنسیوں بشمول سرکاری سیکٹر کے تحت آنے والے اداروں کے ذریعے سرکاری مقاصد یا ان کے اپنے استعمال کے لیے کام آنے والے جہازوں کے حصول کی خاطرنئے جہاز سازی کے آرڈرز کا جائزہ لینے اور ٹینڈر دینے کے لیے رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ جب بھی کسی جہاز (ایس ) کا حصول ٹینڈرنگ کے راستے سے کیا جاتا ہے، اہل بھارتی شپ یارڈز کے پاس ‘‘پہلے انکار کا حق’’ ہوگا تاکہ وہ غیر ملکی شپ یارڈ کی طرف سے پیش کردہ کم ترین قیمت سے مماثل ہو سکیں جس کا مقصدھارتی شپ یارڈزسے جہاز سازی کی سرگرمیوں کو بڑھانا ہے۔
اندرون ملک جہاز سازی کو فروغ دینے کے لیے، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے ہر قسم کے ٹینڈر کے لیے رائٹ آف فرسٹ انکار (آراوایف آر) کے درجہ بندی پر نظر ثانی کی ہے۔ آراوایف آر کا نظر ثانی شدہ درجہ بندی درج ذیل ہے:
(1)بھارت میں تعمیرکیاگیا ، بھارتی پرچم برداراور بھارت کی ملکیت ۔
(2) بھارت میں تعمیرکیاگیا ، بھارتی پرچم برداراور اور بھارتی آئی ایف ایس سی اے کی ملکیت
(3) بیرون ملک تیارکیاگیا، ہندوستانی پرچم والا اور ہندوستان کی ملکیت والا،
(4) بیرون ملک تیارکیاگیا، ہندوستانی پرچم والا اور ہندوستانی آئی ایف ایس سی اے کی ملکیت،
()5 بھارت میں تعمیرکیاگیا، غیر ملکی پرچم والا اور غیر ملکی ملکیت
*********
U.NO.2451
(ش ح۔ش م۔ع آ)
(ریلیز آئی ڈی: 1986785)
وزیٹر کاؤنٹر : 81