نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

نائب صدر جمہوریہ نے سی جے آئی کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کی کہ ثالثی کے میدان میں ریٹائرڈ ججوں کا غلبہ ہے جبکہ دیگر اہل امیدواروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے


سی جے آئی نے حال ہی میں تبصرہ کیا تھا کہ ہندوستان میں ثالثی کی جگہ ایک ”اولڈ بوائز کلب“ سے ملتی جلتی ہے

ثالثی کے نظام کو اس گرفت سے نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے معتبر اور قابل اعتبار بنایا جا سکے – نائب صدر

وی پی نے ایک ایسا طریقہ کار تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے جہاں ثالثی کے عمل کو عدالتی مداخلت کا سامنا نہ کرنا پڑے

ہماری بڑھتی ہوئی معیشت کو مضبوط، منظم ثالثی اداروں کی ضرورت ہے – وی پی

ثالثی اداروں کی ترقی میں ایک گہری پیشہ ورانہ چھاپ ہونی چاہیے؛ یہ فرسودہ طرز کا نہیں ہو سکتا – وی پی

نائب صدر نے آج نئی دہلی میں چھٹے آئی سی سی ہندوستانی یوم ثالثی کا افتتاح کیا

Posted On: 02 DEC 2023 3:16PM by PIB Delhi

نائب صدر، جناب جگدیپ دھنکھر نے آج نئی دہلی میں چھٹے آئی سی سی ہندوستانی یوم ثالثی کا افتتاح کرتے ہوئے، چیف جسٹس، ڈاکٹر ڈی وائی چندرچوڑ کے جذبات کی ترجمانی کی جنہوں نے ثالثوں کی تقرری میں تنوع کی کمی کی عکاسی کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ اس میدان میں ریٹائرڈ ججوں کا غلبہ ہے جبکہ دیگر اہل امیدواروں (جیسے وکلاء اور ماہرین تعلیم) کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ سی جے آئی نے حال ہی میں ایک تبصرہ کیا تھا کہ ہندوستان میں ثالثی کی جگہ ”اولڈ بوائز کلب“ سے ملتی جلتی ہے۔ وی پی نے مشاہدہ کیا کہ ہمارے ملک کی طرح دنیا میں کہیں بھی ثالثی اتنے سخت کنٹرول میں نہیں ہے اور اسے قابل اعتبار اور معتبر بنانے کے لیے نظام کو اس گرفت سے نکالنے کی ضرورت ہے۔

جناب دھنکھر نے مزید کہا کہ ہماری بڑھتی ہوئی معیشت اور ترقی کی تیز رفتاری کے لیے ملک میں مضبوط، منظم ثالثی اداروں کی ضرورت ہے جو ہمارے آتم نربھر بھارت کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”وقت آ گیا ہے جب ہمیں خود کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ضروری تبدیلیاں لا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے“۔

اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ ہمارے ملک اور دیگر جگہوں پر عدالتی مداخلتوں نے عام قانونی چارہ جوئی کے ایک درجے کی طرح ثالثی کو کم کیا ہے، وی پی نے ایک ایسا طریقہ کار تیار کرنے پر زور دیا جہاں ثالثی کے عمل کو عدالتی مداخلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ہندوستانی معیشت کی اعلیٰ ترقی کی رفتار کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ایسی صورت میں تجارتی تنازعات ضرور ہوتے ہیں کیونکہ لوگوں میں کسی خاص نقطہ نظر کے بارے میں مختلف خیالات ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں بہترین انسانی دماغ کے ساتھ ایک مضبوط، تیز رفتار، سائنسی اور مؤثر ثالثی نظام کی ضرورت ہے۔

ایڈہاک کے مقابلے میں ادارہ جاتی ثالثی کے بہت سے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے، جناب دھنکھر نے کہا کہ عالمی اقتصادی نظام مزید بلندیوں پر جائے گا اور اگر تنازعات کے حل کا طریقہ کار کافی منصفانہ اور نتیجہ خیز ہوگا تو مساوی ترقی ہوگی۔ ”ہمارے ملک میں ثالثی اداروں میں کچھ اضافہ ہوا ہے لیکن ان اداروں کو مرکزی جگہ لینے کی ضرورت ہے اور ان سب کو بامعنی بنانے کے لیے قانون میں ضروری تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے“۔

”آپ کو ثالثی کے عمل کے بارے میں بہت پرجوش ہونا پڑے گا۔ ثالثی بار تیار کیا جانا چاہیے، جو مرکزی بار سے علیحدہ رہے اور آزاد طور پر کام کرے۔ یہ ایک بہت ماہرانہ موضوع ہے اور ہمارے ملک اور دنیا میں معیشت کی ترقی میں آپ کا تعاون اہم ہے،“ انھوں نے نشاندہی کی۔

آئی سی سی ہندوستانی عدالت کی صد سالہ تقریبات پر اپنی مبارک باد پیش کرتے ہوئے، وی پی نے قانونی پیشہ ور کے طور پر آئی سی سی کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کو یاد کیا اور اسے ایک بھرپور تجربہ قرار دیا۔ انہوں نے محترمہ کلاڈیا سالومن کے آئی سی سی کی پہلی خاتون صدر کے طور پر انتخاب کو بھی ایک اہم موقع قرار دیا۔

صدر، آئی سی سی بین الاقوامی ثالثی عدالت، محترمہ کلاڈیا سالومن، جناب الیگزینڈر جی فیساس آئی سی سی بین الاقوامی ثالثی عدالت کے سیکرٹری جنرل، جناب تیجس چوہان - ڈائریکٹر، جنوبی ایشیا، آئی سی سی ثالثی اور اے ڈی آر، اور دیگر معززین نے اس تقریب میں شرکت کی۔

نائب صدر کی تقریر کا مکمل متن درج ذیل ہے –  https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=1981865

 **************

ش ح۔ ف ش ع- م ف

U: 1694



(Release ID: 1981913) Visitor Counter : 68


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Tamil