الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

سائبر اسپیس اور انٹرنیٹ پر ’’امن و امان، حفاظت اور اعتماد کے حقوق اتنے ہی بنیادی ہیں جس قدر اظہار كی آزادی‘‘: مملكتی وزیر راجیو چندر شیکھر


غیر محدود اور ابدی یوٹوپیائی ٹیكنو رجائیت پسند نقطہِ نظر كی جگہ اب ٹیكنالوجی اور انٹرنیٹ نے لے لی ہے: مملكتی وزیر راجیو چندر شیکھر

’’ہم ڈیجیٹل ناگرکوں کے واضح حقوق کو یقینی بناتے ہوئے اختراعات اور ترقی کی ضرورت کے درمیان توازن قائم کر رہے ہیں‘‘: مملكتی راجیو چندر شیکھر

’’ہندوستان میں انقلاب لانے سے ملك كو ایک نیا ہندوستان كہنے تلك بڑھنے كے بعد اب ہم اپنی زندگی میں ’وکست بھارت‘ دیکھیں گے‘‘: مملكتی وزیر راجیو چندر شیکھر

Posted On: 29 NOV 2023 6:26PM by PIB Delhi

ہنرمندی کے فروغ اور صنعت كاری كے علاوہ الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیكنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر نے آج یہاں منعقدہ دو اہم ٹیکنالوجیائی تقریبات انڈین ایکسپریس ڈیجی فراڈ اینڈ سیفٹی سمٹ 2023 اور یور اسٹوری ٹیك اسپاركس '23 میں شرکت کی۔ فائر سائڈ چیٹس میں وزیر موصوف نے مصنوئی ذہانت میں ہندوستان کے سفر، ٹیک پالیسی ریگولیشن اور ملک کے امید افزا مستقبل پر زور دیا۔

ٹیك اسپاركس '23 تقریب میں جناب راجیو چندر شیکھر نے یور اسٹوری کے سی ای او اور بانی شردھا شرما کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ہندوستان میں پہلے سے فروغ پذیر اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھانے میں حکومت کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

"ہماری توجہ نئی صنعتوں، اختراعات اور فنڈنگ اور کمپیوٹنگ کا بنیادی ڈھانچہ بنانے پر ہے۔ جنوری میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اختراعات اور بنیادی ماڈلز کو سامنے لانے کی خاطر ہندوستان میں اسٹارٹ اپس كیلئے جی پی یو کی قابل قدر مقدار قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ مصنوعی ذہانت میں ہم جو حاصل كرنے كا یقین ركھتے ہیں اس كے تعلق سے میں ذاتی طور پر بہت پرجوش ہوں اور میں نئی صنعتوں اور وسیع تر ماحولیاتی نظام کو ہندوستان کو چلانے کے لیے ایک بہت بڑی قوت بنتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ میرٹھ، غازی آباد، کوہیما، سری نگر، کوٹائیم، بیلگام، دھارواڑ، وشاکھاپٹنم، ناگپور اور اس سے آگے كے علاقوں سے بڑی اور کامیاب نئی صنعتیں سامنے آئیں۔  وزیر موصوف نے کہا كہ ہمیں قطعی طور پر کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے کہ ان میں سے کسی بھی جگہ کے طلباء اور نوجوانان بنگلورو، ممبئی، دہلی یا کسی دوسرے شہر کے طلباء اور نوجوانان كا مقابلہ نہیں کر سکتے‘‘۔

جناب راجیو چندر شیکھر نے عزت مآب وزیر اعظم کے ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک کا درجہ دینے کے وژن کو اجاگر کرتے ہوءے ہندوستان کو ایک 'انقلاب پذیر قوم' سے 'نئے ہندوستان' میں تبدیل کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا كہ ’’ہم ہندوستان کو انقلاب آفریں کرنے سے لے کر یہ کہنے تک گئے کہ یہ ایک نیا ہندوستان ہے۔ اب ہم ایک ایسا وزیر اعظم ركھتے ہی جو کہتے ہیں كہ 'میں مزید داو لگانے جا رہا ہوں۔' وہ ہمارے عہد میں ہیوکست بھارتبنانا چاہتے ہیں۔ وہ ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کا تصور کرتے ہیں اور بہت سے نوجوانان اپنی زندگی میں ہی ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر دیکھیں گے۔

انڈین ایکسپریس كے سومیریندر بارک اور انیل سسی کے ساتھ بات چیت کے دوران وزیر موصوف نے انٹرنیٹ ریگولیشن کے لیے ہندوستان کے تیار کردہ نقطہ نظر پر روشنی ڈالی جس میں ڈیجیٹل ناگرکوں کے لیے حفاظت اور اعتماد كے علاوہ جوابدہی کے پلیٹ فارم پر زور دیا۔

"ہم نے انٹرنیٹ کی طاقت کو پہچان لیا ہے۔ ایک جملہ کا حوالہ دینے کے لیے، 'ہم تکنیک رُخی امید پرست رہے ہیں'، ٹیکنالوجی، خاص طور پر انٹرنیٹ، کے پاس موجود اچھے امکانات کا جشن منا رہے ہیں۔ لیكن ہم نے تاخیر سے ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے وابستہ مسائل کو تسلیم کیا ہے، جن میں جرائم اور نقصان بھی شامل ہیں۔ حکومت ہند کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی بہت سی دوسری حکومتوں نے زور دے کر کہا ہے کہ تحفظ اور اعتماد کی پكار کسی بھی پہلے سے موجود حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔ یہ دعویٰ کرنا کہ حفاظت اور اعتماد کو ترجیح دینا دوسرے حقوق کو مجروح کرتا ہے ایك غلط تشریح ہے۔ وزیر نے مزید اجاگر كیا كہ حفاظت اور اعتماد حکومت کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ ایسے اقدامات ہیں جن کا مقصد ڈیجیٹل ناگرک کی اکثریت کی حفاظت کرنا ہے۔"

برطانیہ میں مصنوعی ذہانت پر چوٹی كانفرنس میں اپنے تجربے کی عکاسی کے ساتھ وزیرموصوف نے 2021 سے حکومت کے رہنما اصولوں پر زور دیتے ہوئے ایک محفوظ اور بھروسہ مند انٹرنیٹ کو یقینی بنانے کے ہندوستان کے عزم كو اجاگر كیا۔

وزیر موصوف نے مزید کہا كہ "ہم چاہتے ہیں کہ انٹرنیٹ محفوظ اور قابل اعتماد ہو۔ یہ ایك بھروسے كی چیز ہے۔ ہمارا مقصد پلیٹ فارموں کو قانونی طور پر جوابدہ بنانا ہے۔ یہ تین وسیع اصول 2021 سے ہمارا رہنما فریم ورک رہے ہیں اور ہم انہی اصولوں کو مصنوعی ذہانت پر لاگو کرتے ہیں۔ درحقیقت، باقی دنیا بھی اسے اپنا رہی ہے اور بلیچلے پارک میں اے آئی سیفٹی چوٹی كانفرنس میں بنیادی طور پر اس کی بازگشت سنائی دی جس پر ہمارا ملک زور دے رہا ہے۔ پچھلے دو برسوں میں عزت مآب وزیر اعظم نے یہ سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ بھلائی کے لیے ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کیا جائے۔ میں مکمل طور پر اس تصور کی حمایت اور اتفاق کرتا ہوں کہ مصنوعی ذہانت بحیثیت انسان ہمارے زمانے کی سب سے بڑی اور اہم ایجادات میں سے ایک ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت کو شیطان بنانا نہیں چاہتے۔ یہ بہت اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ارد گرد خطرات کی داستان جدت طرازی پر حاوی نہ ہو اور ہم ڈیجیٹل معیشت اور اپنے لوگوں کے لیے اس كے امكانی فوائد سے محروم ہو جائیں۔

*****

U.No:1566

ش ح۔رف۔س ا



(Release ID: 1980952) Visitor Counter : 61


Read this release in: English , Hindi , Tamil