وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

دوسرے آنند کینٹش کماراسوامی یادگاری لیکچرکا انعقاد کل کیا جائےگا ،جس کا موضوع ہے ‘‘چترسوترمیں نقالی کے مسئلے کے ذریعہ بھارت کی آرٹ کی تاریخ کو غیراستعماری بنانا’’

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 OCT 2023 4:38PM by PIB Delhi

اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس(آئی جی این سی اے)، آنند کینٹش کماراسوامی کی76 ویں برسی کے موقع پر 6 اکتوبر 2023 کو دوسرے آنند کماراسوامی یادگاری لیکچر کا انعقاد کرنے جا رہا ہے جس کا موضوع ‘‘چترسوترمیں نقالی کے مسئلے کے ذریعہ بھارت کی آرٹ کی تاریخ کو غیراستعماری بنانا’’ ہے۔ اسکول آف آرٹس اینڈ ایستھیٹکس، جواہرلال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نئی دہلی کی پروفیسر پارول دیو مکھرجی یہ یادگاری لیکچر دیں گی ،جبکہ اجلاس کی صدارت پروفیسر سچیدانند جوشی، ممبر سکریٹری، آئی جی این سی اے، نئی دہلی کریں گے۔

آنند کینٹش کماراسوامی 20 ویں صدی کے ان اہم آرٹ مورخوں میں سے ایک تھے جن کی فنی تاریخی تحریر اپنی تشریحی فصاحت اور ہندوستانی آرٹ کی مقامی جڑوں کے حق میں پرجوش وکالت کی وجہ سے ایک فکری نشان  اورامتیاز ہے۔ وہ مطالعہ کے بہت سے شعبوں میں ایک منفرد اور متاثر کن اسکالر اور مصنف تھے۔

اس خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئےاندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس(آئی جی این سی اے) دوسرے یادگاری لیکچر کا انعقاد کر رہا ہے جس کا موضوع ‘‘چترسوترمیں نقالی کے مسئلے کے ذریعہ بھارت کی آرٹ کی تاریخ کو غیراستعماری بنانا’’ ہے۔ پروفیسر پارول دیو مکھرجی،آنند کینٹیش کماراسوامی کے میدان میں کیے گئے تنقیدی اور جامع کام کو تسلیم کرنے کا جائزہ لیں گی۔ 2008 میں  آئی جی این سی اے نے ان کی کتابوں کا مجموعہ، آرٹ کی اشیاء اور پینٹنگز (بنگال اسکول، راجپوت اور پہاڑی اسکول آف پینٹنگز وغیرہ)، تصاویر اور ہندوستانی اور مغربی فلسفیوں، مورخین، چرچ کے تاریخ دان/مورخین، کیوریٹر اور دوستوں کے ساتھ ان کی خط و کتابت  کو ان کے قانونی وارثوں سے حاصل کیا۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے میکولائی نظام تعلیم کے دور رس نتائج کو پہچانا اور اس کی بھر پورمذمت کی۔

ہندوستانی آرٹ کی تاریخ کا مطالعہ 19ویں صدی کے وسط اور 20ویں صدی کے اوائل کے درمیان مغربی اسکالرز نے ہندوستانی آرٹ پر یورپی اصولوں اور طریقہ کار کا اطلاق کیا۔ ابھی حال ہی میں یوروپی لوگوں کا تعصب کم ہوا ہے۔ ہندوستانی آرٹ کی اشیاء اور ان کی جمالیاتی زبان سے زیادہ واقفیت نے ایسی اشیاء کو ان لوگوں کے نقطہ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے جن کے لئے وہ بنائے گئے تھے۔

اس گفتگو کا مقصد اس نظریہ کے ذریعے ہندوستانی آرٹ کی تاریخ کوغیراستعماری بنانے کے خیال کو تیار کرنا اور ہندوستان کے ابتدائی بصری فنون کے ساتھ ایک نیا رشتہ قائم کرنا ہے۔ ہندوستانی آرٹ کی تاریخ کو غیراستعماری بنانے کا آج کیا مطلب ہے؟ اس سوال کو ہندوستانی جمالیات کے نظر انداز کردہ نظریہ، انوکرنا ودا یا پرفارمیٹو مائیمیسس کے نظریہ پر نظر ثانی کرنے سے حل کیا جائے گا۔

************

ش ح۔م ع۔ف ر

 (U: 10414)


(ریلیز آئی ڈی: 1964702) وزیٹر کاؤنٹر : 115
یہ ریلیز پڑھیں: English , Urdu , हिन्दी