صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ ہند نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا


جبل پور کا نام نظامِ انصاف کے ترقی پسند سفر کی علامت ہے: صدر مرمو

प्रविष्टि तिथि: 27 SEP 2023 8:02PM by PIB Delhi

  صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (27 ستمبر، 2023) جبل پور، مدھیہ پردیش میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے عدلیہ سے وابستہ ہر فرد پر زور دیا کہ وہ عوام کو آسان، قابل رسائی اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کوششیں کریں۔ انھوں نے عدلیہ کو درپیش چیلنجز جیسے بڑی تعداد میں زیر التوا مقدمات، انڈر ٹرائل قیدیوں کی بڑی تعداد، عدالتوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ ملک بھر کی نچلی عدالتوں میں تقریبا 4.5 کروڑ مقدمات زیر التوا ہیں اور ان میں سے بہت سے معاملے 20 سے 30 سال سے زیر التوا ہیں۔ انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ضلع عدالتوں میں دہائیوں سے زیر التوا معاملوں کو نمٹانے کے لیے ’25 ڈی ای بی ٹی‘ کے نام سے ایک خصوصی مہم شروع کی ہے جس کے تحت ضلعی عدلیہ کے ججوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی عدالتوں میں 25 پرانے معاملوں کو باقاعدگی سے نمٹائیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ پنچ پرمیشور کا ملک ہے اور انصاف کا تصور شروع سے ہی ہمارے دیہی نظام میں موجود تھا۔ انھوں نے تنازعات کے متبادل حل کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ایک طرف تنازعات کا حل سستا اور آسان ہو جائے گا تو دوسری طرف عدلیہ پر بوجھ کم ہوگا۔ انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ثالثی ایکٹ 2023 کی دفعات کے استعمال سے ثالثی کو وسیع پیمانے پر اور ادارہ جاتی قبولیت حاصل ہوگی اور قانونی چارہ جوئی کا بوجھ کم ہوگا۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج ٹیکنالوجی ہر شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عدلیہ میں ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ای کورٹ، ویڈیو کانفرنسنگ، ای پروسیڈنگ اور ای فائلنگ کی مدد سے جہاں انصاف کی فراہمی میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں وہیں کاغذ کے استعمال میں کمی کی وجہ سے قدرتی وسائل کا تحفظ بھی ممکن ہوا ہے۔ انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ حکومت نے حال ہی میں ای کورٹ پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے کو منظوری دی ہے۔ انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس مرحلے کے کامیاب نفاذ سے انصاف کے نظام کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے زیادہ قابل رسائی، سستا، قابل اعتماد اور شفاف بنایا جائے گا۔

صدر جمہوریہ نے وکلاء کی تنظیموں اور گروپوں پر زور دیا کہ وہ محروم طبقے کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے آگے آئیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ انصاف اتنا مہنگا نہ ہوجائے کہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوجائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ادارہ جاتی کوششوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا ایک جامع بھارت کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ میں خواتین کی مناسب شرکت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین میں انصاف کا فطری احساس ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ماں اپنے بچوں کے درمیان تفریق نہیں کرتی۔ انصاف کی فراہمی کا عمل کسی ایک ریاضیاتی فارمولے پر مبنی نہیں ہے اور انصاف کی انتظامیہ میں کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی حکمت کا استعمال بھی ضروری ہے۔ اس عمل میں جذبات، حالات اور حساسیت جیسی دیگر جہتیں بھی اہم ہیں۔ لہٰذا عدالتی نظام میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت بھی عدلیہ کے مفاد میں ہوگی۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ جب عدلیہ کے ذریعہ اپنی اصلاح کا نقطہ نظر سامنے آتا ہے تو جبل پور کا نام خود بخود ذہن میں آتا ہے۔ اے ڈی ایم جبل پور بنام شیوکانت شکلا مقدمے میں زندگی اور ذاتی آزادی کے تحفظ کے حق میں جبل پور ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا، اسے سپریم کورٹ نے سال 1976 میں مسترد کردیا تھا۔ 42 سال بعد سال 2017 میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور بنیادی حقوق کے حق میں جبل پور ہائی کورٹ کے ذریعے اس وقت کے فیصلے کے بنیادی اصولوں کو سپریم کورٹ نے دوبارہ قائم کیا ہے۔ اس طرح بھارتی عدلیہ کی تاریخ میں جبل پور کا نام نظام انصاف کے ترقی پسند سفر کی علامت بن گیا ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی نئی عمارت کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔ انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ خواتین وکیلوں کے لیے ایک علیحدہ بار روم تجویز کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ انتظام نہ صرف خواتین وکیلوں بلکہ خواتین درخواست گزاروں کے لیے بھی آسان ہوگا۔ انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نئی عمارت مکمل ہونے پر ججوں، وکلاء اور انتظامی عملے کو ایک نئی توانائی فراہم کرے گی تاکہ وہ زیادہ لگن، عزم اور کارکردگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

صدر جمہوریہ کی مکمل تقریر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں -

 

***

(ش ح ع ا ع ر)

U. No. 10057


(रिलीज़ आईडी: 1961594) आगंतुक पटल : 142
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी