کامرس اور صنعت کی وزارتہ

بھارت نے ایشیائی ترقیاتی بینک کی 2023 کی علاقائی باہمی تعاون اور اتحاد کانفرنس میں پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان پیش کیا

Posted On: 07 SEP 2023 6:35PM by PIB Delhi

بھارت نے تبلسی، جورجیا میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ذریعہ منعقدہ ایک کانفرنس بعنوان ’2023 کی علاقائی باہمی تعاون اور اتحاد کانفرنس: اقتصادی راہداری ترقیات (ای سی ڈی) کے توسط سے علاقائی باہمی تعاون اور یکجہتی کو مضبوط بنانا‘   کے دوران پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان پیش کیا۔ 5 سے 7 ستمبر 2023 تک منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے دوران ای سی ڈی کے لیے ذمہ دار اے ڈی بی کے ترقی پذیر رکن ممالک کے سینئر افسران، ترقیاتی شراکت دار ایجنسیوں اور علاقائی امداد باہمی کی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل 30 سے زائد ممالک کی شرکت ملاحظہ کی گئی۔

بھارتی وفد کی قیادت صنعت اور داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی)، تجارت و صنعت کی وزارت کی خصوصی سکریٹری (لاجسٹکس)محترمہ سمیتا ڈاورا کے ذریعہ کی گئی۔

اس کانفرنس کے مقاصد میں (1) ای سی ڈی کے ساتھ محل وقوع کے تغیر / علاقے پر مرتکز نقطہ نظر کو متحد کرنے کے راستے تلاشنا اور وسیع تر نقطہ نظر کے توسط سے علاقائی باہمی تعاون کو مضبوط کرنا؛ اور (2) اقتصادی راہداری ترقیات (ای سی ڈی) فریم ورک کی ایپلی کیشن سے متعلق معلومات ساجھا کرنا اور سرمایہ کاری کے قابل پروجیکٹوں پر عمل آوری سے متعلق رہنما خطوط جاری کرنا، جیسے موضوعات شامل ہیں۔

محترمہ ڈاورا نے کانفرنس کے دوران مطلع کیا کہ کثیر ماڈل کنکٹیویٹی کے لیے پی ایم گتی شکتی – قومی ماسٹر پلان، ایک میڈ ان انڈیا پہل قدمی ہے، اور یہ اقتصادی نوڈس اور سماجی بنیادی ڈھانچے کے لیے ملٹی ماڈل بنیادی ڈھانچہ کنکٹیویٹی  کی مربوط منصوبہ بندی کے لیے ایک تغیراتی ’مکمل حکومت‘ کا نقطہ نظر ہے، اور اس کا مقصد لاجسٹکس اثر انگیزی کو بہتر بنانا ہے۔ پی ایم گتی شکتی کے اصول علاقائی کنکٹیویٹی کے جزو کے طور پر سماجی اقتصادی علاقے پر مبنی ترقی لے کر آتے ہیں۔ محترمہ نے مکمل لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچہ ایکونظام کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاریوں اور ارضیاتی محل وقوع و دیگر جدید ترین تکنالوجیوں کی اختیارکاری کے لیے حکومت ہند کی جانب سے ہدف بند اقدامات اور اہم اخراجات پر دیے جانے والے زور کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے مربوط بنیادی ڈھانچہ ماسٹر پلاننگ کے لیے پی ایم گتی شکتی، جی آئی ایس اعداد و شمار پر مبنی ’مکمل حکومت‘ کا نقطہ نظر  پیش کیا۔ علاقائی تعاون کے سلسلے میں اے ڈی بی کے ای سی ڈی فریم ورک کے دائرہ کار کی توسیع کے موضوع پر تبادلہ  خیال  کے لیے اے ڈی بی کے ذریعہ عالمی پیش رو حضرات کو ایک اسٹیج پر لایاگیا۔ اس سلسلے میں خصوصی سکریٹری نے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت پہلے ہی پی ایم گتی شکتی پر کام شروع کر چکا ہے اور علاقے پر مبنی بنیادی ڈھانچہ  کے لیے پی ایم گتی شکتی، تغیراتی نقطہ نظر کو کامیابی سے نافذ کر رہا ہے۔ لہٰذا، مقصد صرف بنیادی ڈھانچہ کنکٹیویٹی قائم کرنا ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ اقتصادی اور سماجی ترقی بھی لانا ہے جس کے نتیجہ میں کاروبار کرنے اور زندگی بسر کرنے میں آسانی پیدا ہو۔

پی ایم گتی شکتی 1400 سے زائد ڈاٹا لیئرس اور 50 سے زائد ٹولس سے لیس ایک جی آئی ایس اعداد و شمار پر مبنی ڈجیٹل پلیٹ فارم ہے، جو ٹرنک اور افادیت کے بنیادی ڈھانچے، زمین کے استعمال، موجودہ ڈھانچے (مثلاً، پل، ریلوے کراسنگ، ایک پلیا)، مٹی  کا معیار، رہائش  کے پھیلاؤ، سیاحتی مقامات، جنگل حساس علاقوں، وغیرہ کی بصری عکاسی ، وغیرہ فراہم کرتا ہے، نیز سائٹ کی مناسبت، وغیرہ جیسی ڈاٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے لیے سہولتیں فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی کے تحت پروجیکٹ کے اہم مقامات / صنعتی کلسٹرس/ سیاحتی مقامات/ سماجی شعبے کے اثاثوں کے اردگرد اثر و رسوخ والے علاقوں کو سیر کرنے کے لیے مقامی/علاقے پر مبنی مجموعی ترقی کا طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔ مینوفیکچرنگ ویلیو چین کو مربوط کرنے کے لیے رابطے کے بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کا اندازہ؛ رسد کی سہولت، سماجی شعبے کے ادارے یعنی اسکول  اور ہسپتال؛ ہنرمندی کے مراکز منصوبہ بندی کے مرحلے پر کیے جاتےہیں اور اس کے مطابق مقامی منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔

پی ایم گتی شکتی کا نقطہ نظر علاقائی روابط کو مضبوط بنانے اور ہمسایہ ممالک کے درمیان ہموار تجارت کی سمت میں ملک کے اندرونی ملٹی ماڈل گلیاروں جیسے صنعتی سڑک گلیارے، کلی طور پر وقف ریل مال بھاڑا گلیارے اور آبی راستوں کے نیٹ ورکس کی قدرتی توسیع میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔اس پروگرام کے آغاز کے بعد سے، نیٹ ورک پلاننگ گروپ کی 54 میٹنگوں کے دوران 71.26 بلین امریکی ڈالر کے بقدر کے 100 پروجیکٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جو کہ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں گتی شکتی کے اصولوں کو اپنانے کو یقینی بنانے کے لیے قائم کردہ ایک اہم ادارہ ہے۔یہ رفتار میں اضافہ کرنے، بنیادی ڈھانچہ ترقیات میں اضافہ کرنے اور سرمایہ کاری کے خطرات کو ختم کرنے میں ایک مؤثر طریقہ کار ہے۔

نیپال اور مشرقی بھارت  کی ریاستوں کے درمیان ہموار کنکٹیویٹی اور تجارتی نقل و حرکت کے لیے ہند-نیپال ہلدیہ ایکسیس کنٹرول کاریڈور پراجیکٹ کی مثالوں ، اور ترقی کے مرکز اور سرحدی نکات تک کثیر ماڈل کنکٹیویٹی کے لیے علاقائی آبی گزرگاہ گرڈ (آر ڈبلیو جی) پروجیکٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کنکٹیویٹی میں اضافے کے سلسلے میں پی ایم گتی شکتی کی اختیارکاری کی نمائش کی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے تجویز پیش کی کہ اے ڈی بی اور رکن ممالک گتی شکتی نقطہ نظر کے خطوط پر علاقے پر مبنی ترقی کے ماڈلس کو مربوط کرکے اپنے علاقائی تعاون  کے پروگراموں جیسے جنوبی ایشیائی ذیلی علاقائی اقتصادی تعاون (ایس اے ایس ای سی) کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے تجربات حاصل کر سکتے ہیں، جس میں پروجیکٹ منصوبہ بندی میں وقت اور لاگت کی بچت کے سا تھ ساتھ بنیادی ڈھانچوں کے کاربن اخراج کو کم کرنے کے فوائد  بھی مضمر ہیں۔

متعلقہ فریقوں کے درمیان مزید تبادلہ خیال کے دوران اسپشل سکریٹری (لاجسٹکس) نے لاجسٹکس شعبے میں حکومت ہند کی دیگر ڈجیٹل پہل قدمیاں پیش کیں جن میں خصوصی طور پر، یونیفائیڈ لاجسٹکس انٹرفیس پلیٹ فارم (یو ایل آئی پی) اور لاجسٹکس ڈاٹا بینک (ایل ڈی بی) شامل ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے کارگو کی کھوج اور پتہ لگانے ؛ خدمات فراہم کاروں کی تصدیق؛ ڈجیٹل دستاویز کی تیاری اور تبادلے ،جیسے مختلف امور کے توسط سے تجارت اور لاجسٹکس میں آسانی پیدا کرنے کے لیے گئے اثر انگیز اقدامات  کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں کاروبار کرنے میں آسانی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری راغب ہو رہی ہے۔ حکومت ہند صنعتی گلیاروں کی ترقی، ایکٹیویشن زون اور انفرادی نوڈس/ کلسٹرس ؛ مناسب ٹرنک اور یوٹیلیٹی نیٹ ورک اور بین وزارتی کوآرڈی نیشن کے ذریعہ منظوری کے عمل کو آسان بنانے کی سمت میں نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے خطرات کو ختم کر رہی ہے۔

محل وقوع کے تغیر/ لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچہ ترقی  کی علاقے پر مبنی جامع منصوبہ بندی   کے لیے پی ایم گتی شکتی کا نقطہ نظر ملک میں جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کرکے زندگی بسر کرنے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دے رہا۔ بھارت کی اندرونِ ملک تیار کردہ جی آئی ایس پر مبنی تکنالوجی علم ساجھا کرنے کے عمل کے ذریعہ اے ڈی بی اور ایس اے سی ای سی ممالک کو پیش کی گئی، تاکہ سماجی اقتصادی منصوبہ بندی اور علاقائی باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

**********

 

 (ش ح ۔اع ۔ر ا)

U.No:9273



(Release ID: 1955491) Visitor Counter : 91


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Tamil