سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کے قیام سےمتعلق بل پیش کیا
این آر ایف ریاضیاتی سائنسیز ، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی، ماحولیاتی اور ارضیاتی سائنسیز،صحت اور زراعت سمیت نیچرل سائنسیز کے شعبوں میں تحقیق ، اختراع اور صنعتکاری کے لئے اعلی سطح کی اسٹریٹیجک ہدایت فراہم کرائے گا :ڈاکٹر جتیندر سنگھ
این آر ایف پانچ برسوں(28-2023)کے دوران 50 ہزار کروڑ روپے کی کل تخمینہ لاگت سے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)کی سفارشات کے مطابق ملک میں سائنسی تحقیق کی اعلی سطحی اسٹریٹیجک ہدایت فراہم کرانے والا ایک اعلی سطحی ادارہ ہوگا
Posted On:
04 AUG 2023 3:04PM by PIB Delhi
سائنس اور ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادنہ چارج)، وزیراعظم کے دفتر، عملے، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کے قیام سےمتعلق ایک بل پیش کیا۔
بل پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس کئےجانے پر یہ ایکٹ ریاضیاتی سائنسیز ، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی، ماحولیاتی اور ارضیاتی سائنسیز،صحت اور زراعت سمیت نیچرل سائنسیز کے شعبوں میں تحقیق ، اختراع اور صنعتکاری کے لئے اعلی سطح کی اسٹریٹیجک ہدایت فراہم کرائے گا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ یہ ہیومینٹیز اور سوشل سائنسیز کے سائنسی اور ٹکنالوجی سے متعلق انٹر فییسزکو بھی فروغ دے گا تاکہ ایسی تحقیق کو فروغ دیا جاسکے ،مانیٹر کیا جاسکےاور اس کے لئےاور اس سے متعلق معاملات کے لئےضروری امداد فراہم کرائی جاسکے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 28 جون 2023 کو وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے پارلیمنٹ میں نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (این آر ایف) بل 2023 پیش کئے جانے کو منظوری دی تھی۔منظور ہونے پر یہ بل این آر ایف قائم کئے جانے کی راہ ہموار کرے گا، جس سے تحقیق اور ترقی (آر اینڈ ڈی)کا کام شروع کرنے میں مدد ملے گی ،اس کی نشوونما ہوگی اور اسے فروغ حاصل ہوگا اور ہندستان کی یونیورسٹیوں ، کالجوں، تحقیقی اداروں اور آر اینڈ ڈی تجربہ گاہوں میں تحقیق اور اختراع کے کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔
پارلیمنٹ میں منظور ہونے کے بعد یہ بل 5 برسوں (28-2023)کے دوران 50 ہزار کروڑ روپے کی کل تخمینہ لاگت سے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)کی سفارشات کے مطابق ملک میں سائنسی تحقیق کی اعلی سطحی اسٹریٹیجک ہدایت فراہم کرانے والا ایک اعلی سطحی ادارہ این آر ایف قائم کرے گا۔
سائنس اور ٹکنالوجی کا محکمہ (ڈی ایس ٹی)این آر ایف کا انتظامی محکمہ ہوگاجو مختلف مضامین کے ممتاز محققین اور پروفیشنلز پر مشتمل ایک گورننگ بورڈ کے ذریعہ چلایا جائے گا۔ چونکہ این آر ایف کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور یہ تمام وزارتوں کا احاطہ کرتا ہے اس لئے وزیراعظم بورڈ کے بحیثیت صدر کے ہوں گے اور سائنس اور ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر اور مرکزی وزیر تعلیم بحیثیت نائب صدور ہوں گے۔ این آر ایف کا کام کاج حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کی صدارت والی ایک ایگزیکٹیو کونسل کے ذریعہ چلایا جائے گا۔
این آر ایف صنعت ، تعلیمی ادارے اور سرکاری محکموں اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون قائم کرے گا اور سائنسی اور متعلقہ وزارتوں کے علاوہ صنعتوں اور ریاستی حکومتوں کی شرکت اور تعاون کے لئے ایک انٹرفیس میکانزم تیار کرے گا۔ یہ ایک ایسا پالیسی فریم ورک تیار کرنے او ر ضابطہ بندی کےعمل کو بروئے کار لانے پر توجہ مرکوز کرے گا جس سے تعاون کی حوصلہ افزائی ہوسکے اور آر اینڈ ڈی پر صنعت کے خرچ میں اضافہ ہوسکے۔
یہ بل سال 2008 میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعہ قائم کئے گئے سائنس اینڈ انجینئرنگ (ایس ای آر بی) کو بھی منسوخ کردے گا اور اس کو این آر ایف میں شامل کرلے گا، جس کی ذمہ داریاں وسیع ہیں اور یہ ایس ای آر بی کی سرگرمیوں سے زیادہ سرگرمیوں کا احاطہ کرے گا۔
ش ح۔ ا گ ۔ ج
Uno9764
(Release ID: 1945818)
Visitor Counter : 110