جل شکتی وزارت
آبی اکائیوں کی اعداد شماری
Posted On:
03 AUG 2023 3:32PM by PIB Delhi
جل شکتی کےوزیر مملکت جناب بشیشور ٹوڈو نے آج لوک سبھا میں اپنے ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی ہیں کہ جل شکتی کی وزارت نے مرکز کی اسپانسرڈ اسکیم - ‘‘ آبپاشی اعداد شماری ’’ کے تحت چھٹی چھوٹی آبپاشی اعدادشماری ( حوالہ سال 18-2017) کے ساتھ آبی اکائیوں کی پہلی اعدادشماری کا آغاز کیا۔ آبی اکائیوں کی اعدادشماری کا مقصد تمام آبی اکائیوں کے حجم ،صورتحال ، ناجائز قبضے کی صورتحال ، استعمال ، ذخیرے کی صلاحیت وغیرہ سمیت موضوعات کے تمام پہلوؤں پر معلومات جمع کرکے ایک قومی ڈاٹا بیس تیار کرنا ہے۔ آبی اکائیوں کی پہلی اعدادشماری کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں آبی اکائیوں کی مجموعی تعدا د 2424540 ہے۔ ان میں سے 2355055 آبی اکائیاں دیہی علاقوںمیں اور 69485 آبی اکائیاں شہری علاقوںمیں ہیں۔ آبی اکائیوں کی پہلی اعدادشماری سے دستیاب دیہی اور شہری علاقوںمیں آبی اکائیوں کی تعداد کے تعلق سے ریاست و ار معلومات ضمیمے میں دی گئی ہے۔
شہری علاقوںمیں آبی اکائیوں کا کم تناسب بالکل واضح ہے۔ کیونکہ شہری علاقوںمیں توسیع اور ڈھانچہ جاتی ترقی ہوئی ہے جس کے سبب آبی اکائیوں کی کمی ہوسکتی ہے۔ پانی ، ریاست کا موضوع ہونے کے سبب پانی کا تحفظ رکھ رکھاؤ اور انتظام وانصرام کے لئے اقدامات خاص طورسے متعلقہ ریاستی سرکاروں کے ذریعہ کئے جاتے ہیں۔ ریاستی سرکاروں کی کوششو ں کو پورا کرنے کے لئے مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعہ انہیں تکنیکی اور مالی امداد فراہم کرتی ہے۔
آبپاشی یا دیگر مقاصد ( جیسے صنعتی ، ماہی پروری ، گھریلو / پینے کا پانی ، تفریح ، مذہبی ،زیر زمین پانی کا ریچارج وغیرہ ) کے لئے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے لئے استعمال کی جانے والی تمام قدرتی یا انسانی تعمیر شدہ اکائیوں کو آبی اکائیوں کی پہلی اعدادشماری میں آبی اکائیاں ہی کہا گیا ہے۔ اعدادشماری کے آغاز کے وقت ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے ذریعہ دستیاب کرائے گئے ماسٹر ڈاٹا کے مطابق ایسی تمام آبی اکائیوں کی اعدادشماری دیہی اور شہری علاقوں میں کی گئی ۔
آبی اکائیوں کی پہلی اعدادشماری چھٹی چھوٹی آبپاشی اعدادشماری کے ساتھ مل کر منعقد کی گئی تھی ۔عام روایت کے مطابق اعدادشماری اس مقصد کے لئے ہر ریاست / مرکز کے زیر انتظام ریاست میں شناخت شدہ نوڈ ل محکمے کے توسط سے ریاست / مرکز کے زیر انتظام ریاستی سرکاروں کے ذریعہ منعقد کی گئی تھی ۔ ڈاٹا جمع کرنے کا ابتدائی کام اعدادشماری جمع کرنے والوں کے ذریعہ کیا گیا تھا جو یا تو گاؤں سطح کے کارکن یا لیکھ پال یا پٹواری یا ریاست / مرکز کے زیر انتظام ریاستی سرکاروں کے ذریعہ نامزد دیگر افسران تھے۔ فیلڈ ورک کے مجموعی معیار کی نگرانی بلاک /ضلع سطح / ریاستی سرکاروں کے ذریعہ کی گئی تھی ۔
ضمیمہ
آبی اکائیوں کی پہلی اعداد شماری میں رپورٹ شدہ آبی اکائیوں کی ریاست وار تعداد
.
نمبرشمار
|
ریاست/ مرکز کےزیر انتظام خطہ
|
آبی اکائیوں کی تعداد
|
دیہی
|
شہری
|
کل تعداد
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
3497
|
31
|
3528
|
2
|
آندھرا پردیش
|
190263
|
514
|
190777
|
3
|
اروناچل پردیش
|
893
|
100
|
993
|
4
|
آسام
|
170112
|
2380
|
172492
|
5
|
بہار
|
43831
|
1962
|
45793
|
6
|
چنڈی گڑھ
|
23
|
165
|
188
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
33519
|
481
|
34000
|
8
|
دہلی
|
849
|
44
|
893
|
9
|
گوا
|
1406
|
57
|
1463
|
10
|
گجرات
|
53156
|
913
|
54069
|
11
|
ہریانہ
|
14898
|
0
|
14898
|
12
|
ہماچل پردیش
|
87364
|
653
|
88017
|
13
|
جموں اور کشمیر
|
9687
|
78
|
9765
|
14
|
جھارکھنڈ
|
106176
|
1422
|
107598
|
15
|
کرناٹک
|
26224
|
789
|
27013
|
16
|
کیرالہ
|
49725
|
6009
|
55734
|
17
|
مدھیہ پردیش
|
81012
|
1631
|
82643
|
18
|
مہاراشٹر
|
96343
|
719
|
97062
|
19
|
منی پور
|
1369
|
289
|
1658
|
20
|
میگھالیہ
|
12798
|
534
|
13332
|
21
|
میزورم
|
1436
|
749
|
2185
|
22
|
ناگالینڈ
|
1287
|
145
|
1432
|
23
|
اوڈیشہ
|
178054
|
3783
|
181837
|
24
|
پڈوچیری
|
1050
|
121
|
1171
|
25
|
پنجاب
|
15831
|
181
|
16012
|
26
|
راجستھان
|
16750
|
189
|
16939
|
27
|
سکم
|
122
|
12
|
134
|
28
|
تمل ناڈو
|
99414
|
7543
|
106957
|
29
|
تلنگانہ
|
63063
|
992
|
64055
|
30
|
تریپورہ
|
32140
|
4099
|
36239
|
31
|
اتراکھنڈ
|
2970
|
126
|
3096
|
32
|
اترپردیش
|
240139
|
4948
|
245087
|
33
|
مغربی بنگال
|
719654
|
27826
|
747480
|
کل تعداد
|
2355055
|
69485
|
2424540
|
*************
ش ح۔ج ق۔ رم
U-7953
(Release ID: 1945702)
Visitor Counter : 120