|
بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
ایم ایس ایم ایز کی ملکیت والی دو لاکھ سے زیادہ خواتین نے خصوصی مہمات کے دوران ادیم پورٹل پر اندراج کرایا
’’سمرتھ‘‘ پہل کو ہنر مندی کے فروغ اور مارکیٹ کی ترقی میں مدد کے ساتھ ایم ایس ایم ایز کی ملکیت والی خواتین کو مدد کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا تاکہ مالی سال 23-2022 میں 7500 دیہی اور مضافاتی علاقوں کی خاتون امیدواروں کو تربیت فراہم کی جاسکے
प्रविष्टि तिथि:
23 MAR 2023 3:37PM by PIB Delhi
بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے وزیر مملکت بھانو پرتاپ سنگھ ورما نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نےملک میں خاتون کاروباریوں اور بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں میں شرکت کو بڑھانے کے لئے ایم ایس ایم ایز کی مدد کی خاطر متعدد اقدامات کئے ہیں۔
یہ اقدامات حسب ذیل ہیں:
- ادیم رجسٹریشن پورٹل کے تحت 23-2022 میں ایم ایس ایم ایز کی ملکیت والی خواتین کے اندراج کے لئے خصوصی مہمات چل رہی ہیں۔ ان مہمات کے دوران پورٹل پر دو لاکھ سے زیادہ خواتین نے اندراج کرایا۔
- خواتین کاروباریوں کے فائدے کےلئے 2018 میں سرکاری خریداری پالیسی میں ترمیم کی گئی۔ یہ ترمیم مرکزی وزارتوں/ محکموں/ کمپنیوں کے لئے خواتین کاروباریوں سے کم از کم تین فیصد خریداری کو لازمی قرار دینے کے لئے کی گئی تھی۔
- بہت چھوٹی اور چھوٹی صنعتوں کے لئے کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے تحت خاتون کاروباریوں کی مدد کےلئے یکم دسمبر 2022 کو خاتون کاروباریوں کے لئے دو دفعات کی شروعات کی گئی جو اس طرح ہے:
- سالانہ گارنٹی فیس میں دس فیصد رعایت ، اور
- دس فیصد اضافی گارنٹی کوریج 85 فیصد تک جبکہ دیگر صنعت کاروں کےلئے 75 فیصد تک
- ایم ایس ایم ای کی وزارت خواتین کے درمیان صنعت کاری کو فروغ دینے کے لئے کوائر وکاس یوجنا کے تحت ’’مہارت کی ترقی اور مہیلا کوائر یوجنا‘‘ کا نفاذ کررہی ہے جو ایک خصوصی تربیتی پروگرام ہے، جس کا مقصد کوائر شعبے سے وابستہ خاتون کاری گروں کی مہارت کی ترقی ہے۔
- وزارت نے وزیراعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) کو نافذ کیا ہے جو ایک اہم قرض سے متعلق رعایتی پروگرام ہے۔ جس کا مقصد روایتی کاری گروں اور دیہی / شہری بے روزگار نوجوانوں کی مدد کرکے غیر زرعی شعبے میں چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے قیام کے ذریعہ خود روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔پی ایم ای جی پی کے کل استفادہ کنندگان میں سے 39 فیصد خواتین ہیں اور انہیں غیر مخصوص زمرہ (25فیصد تک) کے مقابلے سب سے زیادہ رعایت (35 فیصد) تک فراہم کی جارہی ہے۔
- خریداری اور مارکیٹنگ میں اسکیم کے تحت تجارتی میلوں میں خاتون کاروباریوں کی شرکت کے لئے دیگر صنعت کاروں کے 80 فیصد کے مقابلے 100 فیصد رعایت فراہم کی جارہی ہے۔
- ’’سمرتھ‘‘ پہل کی شروعات خواتین کو ہنر مندی کے فروغ کی فراہمی اور مارکیٹ کی ترقی میں مدد فراہم کرنے کے مقصد کے ساتھ ایم ایس ایم ایز کی ملکیت والی خواتین کی مدد کے لئے کی گئی ہے اور مالی سال 23-2022 میں دیہی اور مضافاتی علاقوں کے 7500 سے زیادہ خاتون امیدواروں کو تربیت فراہم کرنے کے لئے کی گئی۔ سمرتھ کے تحت کاروبار کی خواہش مند خواتین اور موجودہ کاروباری خواتین کو وزارت کی ہنر مندی کے فروغ کی اسکیموں کے تحت منظم ہنر مندی کے فروغ کے مفت پروگراموں میں 20 فیصد نشستیں فراہم کی جاتی ہیں۔وزارت کے ذریعہ مارکیٹنگ میں مدد کے لئے اسکیموں کے تحت گھریلو اور بین الاقوامی نمائشوں میں ایم ایس ایم ای کے کاروباری وفود کو 20 فیصد اور این ایس آئی سی کی تجارتی اسکیموں کے لئے سالانہ پروسیسنگ فیس پر 20 فیصد رعایت فراہم کی جاتی ہے۔
ادیم پورٹل کے تحت ایم ایس ایم ای کی ملکیت والی خواتین کی ریاست وار تفصیلات کا اندراج پورٹل پر کیا گیا ہے جس میں کاروبار کی شروعات سے 17 مارچ 2023 تک تفصیلات موجود ہیں اور اس متعلق جانکاری ضمیمہ – 1 میں دی گئی ہے۔
حکومت نے حالیہ دنوں ملک میں خواتین سمیت تمام زمروں میں ایم ایس ایم ای شعبے میں مدد کی خاطر آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت متعدد اقدامات کئے ہیں۔ اس سے متعلق تفصیلات حسب ذیل ہیں:
- ایم ایس ایم ایز سمیت کاروبار کے لئے پانچ لاکھ کروڑ کی ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس)
- سیلف ریلائنٹ انڈیا (ایس آر آئی) فنڈ کے ذریعہ 50 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری
- ایم ایس ایم ایز کی درجہ بندی کے لئے نئے ترمیم شدہ معیارات
- دوسو کروڑ روپے تک کی خریداری کے لئے کوئی عالمی ٹینڈر نہیں
- ایم ایس ایم ایز ، ایز آف ڈوئنگ کاروبار ، ادیم رجسٹریشن
- جون 2020 میں ایک آن لائن پورٹل ’’چمپئنس‘‘ کی شروعات کی گئی تاکہ شکایات کے ازالے اور ایم ایس ایم ایز کی سرپرستی سمیت ای-حکمرانی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ۔
- ایم ایس ایم ای کے طور پر خوردہ اور تھوک فروش تاجروں کی شمولیت
- ایم ایس ایم ای کی کیفیت میں تبدیلی کی صورت میں غیر ٹیکس فوائد کو تین سال کے لئے بڑھا دیا گیا
- گیارہ جنوری 2023 کو ادیم اسسٹ پلیٹ فارم (یو اے پی) کی شروعات کی گئی تاکہ ترجیحی شعبے کے قرض (پی سی ایل) کے تحت فوائد حاصل کرنے کے لئے غیر رسمی چھوٹے پیمانے کی صنعتوں (آئی ایم ایز) کو رسمی دائرے میں لایا جاسکے۔
ضمیمہ-1
|
ریاست کے لحاظ سے کل خواتین کی ملکیت میں اندراج کئے گئے ایم ایس ایم ای اور ادیم کے تحت یکم جولائی 2020 سے اپنے آغاز سے لے کر 17 مارچ 2023 تک کی تفصیلات
|
|
نمبر شمار
|
ریاست
|
بہت چھوٹی
|
چھوٹی
|
درمیانی
|
میزان
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
1,12,410
|
2,382
|
113
|
1,14,905
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
2,166
|
39
|
4
|
2,209
|
|
3
|
آسام
|
58,065
|
621
|
26
|
58,712
|
|
4
|
بہار
|
1,02,895
|
1,278
|
47
|
1,04,220
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
29,947
|
750
|
32
|
30,729
|
|
6
|
گوا
|
6,467
|
103
|
8
|
6,578
|
|
7
|
گجرات
|
1,62,752
|
3,949
|
161
|
1,66,862
|
|
8
|
ہریانہ
|
74,451
|
2,176
|
90
|
76,717
|
|
9
|
ہماچل پردیش
|
14,592
|
299
|
12
|
14,903
|
|
10
|
جھارکھنڈ
|
51,223
|
495
|
17
|
51,735
|
|
11
|
کرناٹک
|
1,75,808
|
3,515
|
164
|
1,79,487
|
|
12
|
کیرالہ
|
86,067
|
1,387
|
60
|
87,514
|
|
13
|
مدھیہ پردیش
|
91,824
|
2,026
|
78
|
93,928
|
|
14
|
مہاراشٹر
|
5,60,948
|
6,451
|
359
|
5,67,758
|
|
15
|
منی پور
|
18,553
|
57
|
3
|
18,613
|
|
16
|
میگھالیہ
|
2,914
|
57
|
6
|
2,977
|
|
17
|
میزورم
|
5,832
|
41
|
2
|
5,875
|
|
18
|
ناگالینڈ
|
4,216
|
23
|
1
|
4,240
|
|
19
|
اوڈیشہ
|
62,976
|
1,086
|
37
|
64,099
|
|
20
|
پنجاب
|
95,236
|
1,492
|
60
|
96,788
|
|
21
|
راجستھان
|
1,38,022
|
3,290
|
135
|
1,41,447
|
|
22
|
سکم
|
1,656
|
15
|
2
|
1,673
|
|
23
|
تمل ناڈو
|
3,83,436
|
5,807
|
275
|
3,89,518
|
|
24
|
تلنگانہ
|
1,09,394
|
2,253
|
113
|
1,11,760
|
|
25
|
تریپورہ
|
4,503
|
70
|
3
|
4,576
|
|
26
|
اتر پردیش
|
1,80,872
|
4,282
|
184
|
1,85,338
|
|
27
|
اتراکھنڈ
|
25,519
|
486
|
15
|
26,020
|
|
28
|
مغربی بنگال
|
76,642
|
2,146
|
89
|
78,877
|
|
29
|
انڈمان اور نیکوبار جزائر
|
2,144
|
26
|
2
|
2,172
|
|
30
|
چنڈی گڑھ
|
4,070
|
91
|
7
|
4,168
|
|
31
|
دہلی
|
63,238
|
2,158
|
133
|
65,529
|
|
32
|
جموں اور کشمیر
|
39,175
|
313
|
11
|
39,499
|
|
33
|
لداخ
|
901
|
6
|
-
|
907
|
|
34
|
لکشدویپ
|
83
|
-
|
-
|
83
|
|
35
|
پڈوچیری
|
6,476
|
147
|
7
|
6,630
|
|
36
|
دادرا اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
1,951
|
81
|
5
|
2,037
|
|
|
میزان
|
27,57,424
|
49,398
|
2,261
|
28,09,083
|
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ع ح۔ ن ا۔
U-7171
(रिलीज़ आईडी: 1940659)
|