سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ڈاکٹر جتیندر سنگھ  کا کہنا ہے ، "بھارت اور امریکہ 'خلاء کے میدان' میں نئے  امکانات تلاش کریں گے"


پی ایم مودی کے تاریخی امریکی دورے کے دوران آرٹیمس معاہدے پر دستخط ہمارے خلائی تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

"معاہدہ اہم ٹیکنالوجیز کی درآمد پر پابندیوں میں نرمی کی راہ ہموار کرے گا"

ہندوستان چاند اور دیگر اجرام سماوی کی تلاش کے لیے امریکی قیادت والے آرٹیمس پروگرام میں حصہ لے سکتا ہے

Posted On: 23 JUN 2023 6:58PM by PIB Delhi

"مختصر طور پر، یہ کہنا کافی ہے کہ ہندوستان اور امریکہ 'خلاء کے میدان' میں نئے امکانات  تلاش کریں گے ۔" اور، اس کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کو جاتا ہے، جنہوں نے گزشتہ 9 سالوں کے دوران، کئی غیر روایتی  اور ڈگر سے ہٹ کر فیصلے  کئے ہیں ، جنہوں نے ہندوستان کو ہمارے خلائی شعبے کی صلاحیتوں میں زبردست جست حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ، جس نے ہم سے کئی سال پہلے اپنا خلائی سفر شروع کیا تھا، آج برابری کے شراکت دار کے طور پر ہمارے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔

یہ بات آج یہاں مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی،  ایم او ایس  پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے  مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے میڈیا کو وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ کے جاری دورے کے دوران کئے گئے کئی اہم فیصلوں اور معاہدوں کے متعلق، خاص طور پر "آرٹیمس معاہدہ" پر دستخط کرنے کے سلسلے میں اور 2024 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے مشترکہ ہند-امریکہ مشن کے بارے میں  بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا "کیا ہمیں اس سے بڑا فخر اور کوئی چیز ہو سکتی ہے کہ امریکہ جیسا ملک، جس نے چاند کی سطح پر پہلا انسان اس وقت اتارا جب ہم چاند کے بارے میں نرسری نظمیں گا رہے تھے، آج چاند کے مشن پر ہماری معلومات اور مہارت کی  چاہت  میں ہے،"۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001TGPM.jpg

میڈیا کو بتاتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ آرٹیمس معاہدے کا مقصد امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ اصولوں، رہنما خطوط اور بہترین طریقوں کے ذریعے ایک مشترکہ ویژن ہے ،تاکہ ہم پرامن مقاصد کے لیے ایک دوسرے کی سرگرمیوں کو شفافیت کے ساتھ مکمل کر سکیں اور نقصان دہ سرگرمیاں  سے بچنے کے لیے مل کر کام کر سکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دوسری طرف، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے مشترکہ مشن،  جو کہ آرٹیمس معاہدے پر دستخط کرنے سے الگ ہے،  2024 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے مشترکہ مشن کے لیے ایک فریم ورک تیار کرے گا، جس کا امریکہ نے ،چاند اور اس کے بعد مریخ اور دیگر سیاروں کی حقیقتوں کے قریب جانے کے لیے دونوں ممالک کی خلائی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تعاون کے امکان کے  طور پر تصور پیش کیا ہے۔

جہاں تک سائنس اور ٹیکنالوجی کا تعلق ہے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ سیمی کنڈکٹرز پر، مائیکرون ہندوستانی حکومت کی اضافی مالی مدد کے ساتھ 800 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اسی طرح یو ایس کوانٹم کنسورشیم نے ہندوستانی کوانٹم صنعت کو اپنے ممبر کے طور پر خوش آمدید کہا اور مدعو کیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے تاریخی دورہ امریکہ کے دوران ہندوستان اور امریکہ کے درمیان خلائی تحقیق میں تعاون پر جو دستخط کئے گئے ، وہ ہمارے باہمی تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں  گے۔

وزیر موصوف نے کہا "جیسا کہ وزیراعظم  مودی نے کہا، 'امریکہ کے ساتھ تعاون کی حد آسمان بھی نہیں ہے" ۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان خلائی سائنس کے میدان میں ہندوستان-امریکہ تعاون کے ایک حصے کے طور پر اگلے سال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں حصہ ڈالے گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں پہلے ہی اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔

  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ امکان ہے کہ اسرو ناسا کے ساتھ مل کر کام کرے گا، کیونکہ وہ 2025 تک انسان بردار مشن کے ساتھ چاند پر واپس جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پی ایم مودی کے جاری دورے کے دوران، ہندوستان اور امریکہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ناسا ہندوستانی خلابازوں کو،  اپنے مختلف اداروں میں سے  ایک ادارے  میں  "جدید تربیت" فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، آرٹیمس معاہدہ کے مطابق، ہندوستان مشترکہ پروٹوکول کے تحت چاند اور دیگر اجرام سماوی کی تلاش کے لیے امریکی قیادت والے آرٹیمس پروگرام میں حصہ لے سکتا ہے۔ یہ معاہدہ خلائی ڈومین خاص طور پر الیکٹرانکس میں اہم ٹیکنالوجیز کی درآمد پر پابندیوں کو کم کرنے کی راہ بھی ہموار کرے گا، جس سے ہندوستانی کمپنیوں کو نظام تیار کرنے اور امریکی منڈیوں کے لیے اختراعات کرنے میں فائدہ ہوگا۔ یہ مشترکہ طور پر مزید سائنسی پروگراموں میں ہندوستان کی شرکت میں بھی سہولت فراہم کرے گا، انسانی اسپیس فلائٹ پروگراموں سمیت سرگرمیوں میں طویل مدتی مصروفیات کے لیے مشترکہ معیارات تک رسائی اور مزید اسٹریٹجک شعبوں بشمول مائیکرو الیکٹرانکس، کوانٹم، خلائی تحفظ وغیرہ میں امریکہ کے ساتھ مضبوط مصروفیات کی اجازت دے گا ۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج امریکہ کو ہمارے ساتھ شراکت داری کی اہمیت کا احساس ہے۔ "اگرچہ ہندوستان اور امریکہ طویل عرصے سے خلائی شعبے میں تعاون کرتے رہے ہیں، لیکن مودی حکومت کے پچھلے نو سالوں میں سفر نے حقیقت میں ترقی کی رفتار کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ہندوستان خلائی تحقیق میں اب پیچھے نہیں ہے، اور آج، ہم گہرے خلائی مشن میں برابر کے شراکت دار ہیں۔  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے واضح کیا کہ امریکہ کی طرف سے  ورچول طور پر کوئی پابندیاں اور ٹیکنالوجی سے انکار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا "حقیقت میں، ہم آج تکنیکی طور پر اہل ہیں"۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسرو نے عالمی کلائنٹس کے لیے سیٹلائٹ لانچ کر کے خاطر خواہ زرمبادلہ کمایا ہے۔ اسرو نے اپنے تجارتی بازوؤں کے ساتھ مل کر پی ایس ایل وی پر 34 ممالک کے 385 غیر ملکی سیٹلائٹس کو کامیابی سے لانچ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ریونیو کا تقریباً 90 فیصد پچھلے نو سالوں میں حاصل ہوا ہے۔

آرٹیمس معاہدے پر، 13 اکتوبر 2020 کو آٹھ بانی ممالک - آسٹریلیا، کینیڈا، اٹلی، جاپان، لکسمبرگ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ نے دستخط کیے تھے۔ اس کے ارکان میں، جاپان، فرانس، نیوزی لینڈ، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور اسپین جیسے امریکہ کے روایتی اتحادی شامل ہیں، جبکہ افریقی ممالک جیسے روانڈا، نائجیریا وغیرہ نئے شراکت دار ہیں۔ 22 یورپی ممالک میں سے صرف آٹھ (لکسمبرگ، اٹلی، برطانیہ، رومانیہ، پولینڈ، فرانس، جمہوریہ چیک اور اسپین) نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

آرٹیمس معاہدہ ایک غیر پابند معاہدہ ہے، جس میں کوئی مالی عہد بندی نہیں ہے ۔  ان معاہدوں کا مقصد آرٹیمس پروگرام کو آگے بڑھانے کے ارادے کے ساتھ سول ایکسپلوریشن اور بیرونی خلا ءکے استعمال کی حکمرانی کو بڑھانے کے لیے اصولوں، رہنما خطوط اور بہترین طریقوں کے عملی سیٹ کے ذریعے ایک مشترکہ ویژن قائم کرنا ہے۔ بیرونی خلا ء میں سرگرمیاں انجام دینے کے لیے اصولوں، رہنما خطوط، اور بہترین طریقوں کے عملی سیٹ کی پابندی کا مقصد آپریشنز کی حفاظت کو بڑھانا، غیر یقینی صورتحال کو کم کرنا، اور تمام بنی نوع انسان کے لیے خلاء کے پائیدار اور فائدہ مند استعمال کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدے یہاں بیان کیے گئے اصولوں کے لیے سیاسی عہد بندی کی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں سے بہت سے بیرونی خلائی معاہدے اور دیگر آلات میں موجود اہم ذمہ داریوں کے عملی نفاذ کے لیے  راہ  فراہم کرتے ہیں۔

ان معاہدوں میں طے شدہ اصولوں کا مقصد، ہر دستخط کنندہ کی سول اسپیس ایجنسیوں کے ذریعے کی جانے والی سول اسپیس سرگرمیوں پر لاگو ہونا ہے۔ یہ سرگرمیاں چاند، مریخ، دمدار تارے، سیارچے بشمول ان کی سطحوں اور ذیلی سطحوں کے ساتھ ساتھ چاند یا مریخ کے مدار میں، زمین-چاند کے نظام کے لیے لگریجیئن پوائنٹس میں، اور ان اجرام سماوی  اور مقامات کے درمیان ٹرانزٹ میں ہو سکتی ہیں۔ دستخط کنندگان ،ان معاہدوں میں طے شدہ اصولوں کو ، مناسب، مشن کی منصوبہ بندی اور ان کی جانب سے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ معاہدہ کے طریقہ کار کو لے کر اپنی سرگرمیوں کے ذریعے نافذ کرنے کا  ارادہ رکھتے ہیں۔

آرٹیمس معاہدے کے تحت تمام سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے کی جائیں گی۔ شراکت دار ریاستوں کو عوامی طور پر پالیسیوں اور منصوبوں کی وضاحت کرتے ہوئے شفافیت کے اصول کو برقرار رکھنا ہے۔ شراکت دار ممالک کھلے بین الاقوامی معیارات کو بروئے کار لاتے ہیں، ضرورت پڑنے پر نئے معیارات تیار کرتے ہیں، اور باہمی تعاون کو سپورٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شراکت دار ممالک مصیبت میں پڑنے والے خلاء بازوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے اور اس بات کا تعین کرنے کا عہد کرتے ہیں کہ ان میں سے کس کو رجسٹریشن کنونشن کے مطابق متعلقہ خلائی آبجیکٹ کو رجسٹر کرنا چاہیے۔

شراکت دار قومیں اپنے سائنسی ڈیٹا کو عوامی طور پر جاری کرنے کی پابند ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پوری دنیا آرٹیمس کے سفر سے مستفید ہو سکے۔ رکن ممالک کو اقوام متحدہ کو اپنی خلائی سرگرمیوں سے آگاہ کرنا ہے ۔ شراکت دار ممالک نقصان دہ مداخلت سے گریز کریں گے اور اس طریقے سے کام کریں گے جویو  این سی او پی یو او ایس  کے خلائی ملبے کے تخفیف کے رہنما خطوط میں دکھائے گئے اصولوں کے مطابق ہو۔

بین الاقوامی تعاون شروع سے ہی ہندوستانی خلائی پروگرام کا حصہ رہا ہے۔ چاند کے لیے اسرو کا پہلا مشن، چندریان-1، اپنے بین الاقوامی پے لوڈز کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کی ایک منفرد مثال ہے۔ اس نے کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل کیے ہیں اور چاند کی سطح پر پانی کے مالیکیولز کی اسرو- ناسا  کی مشترکہ دریافت میں اہم کردار ادا کیا تھا، جو اس نوعیت کے کسی بھی سابقہ مشن سے حاصل نہیں ہوئے تھے۔

اسرو اور ناسا  زمینی سائنس کے مطالعہ کے لیے ایک مشترکہ سٹیلائٹ مشن ، جسے  این آئی ایس اے آر (ناسا اسرو سینتھیٹک اپرچر رڈار ) کہا جاتا ہے، حاصل کر رہے ہیں۔ اسرو کے باوقار گگن یان پروگرام کے حصے کے طور پر، انسانی خلائی پرواز میں مہارت رکھنے والے ممالک اور خلائی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں۔ تعاون کی سرگرمیاں، خلابازوں کی تربیت، لائف سپورٹ سسٹم، ریڈی ایشن شیلڈنگ حل وغیرہ پر مرکوز ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح- ا ک- ق ر)

U-6493



(Release ID: 1935303) Visitor Counter : 150


Read this release in: English , Hindi