جل شکتی وزارت

آبی وسائل کے محکمے کے سکریٹری نے اٹل بھوجل یوجنا کی قومی سطح کی سٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کی


کمیٹی نے فیصلہ کیاہے کہ اٹل بھوجل یوجنا کو 2025کے بعد بھی مزید دوسال کے لئے جاری رکھاجاناچاہیئے

ریاست کو اب ،پانی کے بہترسے بہتراستعمال میں اضافہ کرنے کی غرض سے آب پاشی سے متعلق اختراعی ٹیکنالوجیوں کو اختیارکرنے پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیئے :سکریٹری ، ڈی اوڈبلیو آر

ورلڈبینک نے پانی کے بہترسے بہتراستعمال کو پیش پیش رکھنے  اور گذشتہ تین سالوں کے دوران کی  گئی پیش رفت کے لئے اٹل بھوجل یوجنا کی ستائش کی ہے

Posted On: 26 MAY 2023 6:53PM by PIB Delhi

اٹل بھوجل یوجنا کی قومی سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی (این ایل ایس سی ) کی چوتھی میٹنگ آج نئی دہلی میں منعقد ہوئی ۔جل شکتی کی وزارت ، آرڈی اینڈ جی آر،کے آبی وسائل کے محکمے کے سکریٹری کی صدارت میں یہ میٹنگ منعقد ہوئی ۔ اٹل بھوجل یوجنا (اٹل جل)کو،پانچ سالہ مدت (25-2020)کے لئے  7ریاستوں کے 80اضلاع میں 229انتظامی بلاکس /تعلقہ کی پانی کی قلت سے دوچار8220 گرام پنچایتوں میں اپریل 2020سے مرکزی شعبے کی ایک اسکیم کے طورپر نافذ کیاجا رہاہے ۔ یہ ریاستیں ہیں گجرات ، ہریانہ ، کرناٹک ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹر، راجستھان اور اترپردیش ۔

اٹل بھوجل یوجنا کی قومی سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے اسکیم کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیا اورریاستوں کوہدایت کی کہ وہ پانی کی یقینی فراہمی سے متعلق منصوبوں (ڈبلیو ایس پیز) کے تحت  مجوزہ اقدامات کے نفاذ کی غرض سے سرکاری خرید کے ساتھ ساتھ تال میل قائم کرنے سمیت سبھی سرگرمیوں میں تیزی لائیں ۔ کمیٹی نے اس بات کو نمایاں کی کہ اس اسکیم کے نفاذ میں شروعاتی دوسالوں کے دوران کووڈ کی وجہ سے رخنہ پڑا ۔ اوراس بات کے مدنظر کہ برادری کابرتاؤتبدیل ہونے میں وقت لگتاہے ، یہ فیصلہ کیاگیا کہ اسکیم کی  موجودہ مدت  پوری ہونے کے بعد بھی مزید دوسالوں کے لئے اسے جاری رکھاجاناچاہیئے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001K3AD.jpg

آبی مسائل کے محکمے –ڈی اوڈبلیو آرکے سکریٹری جناب پنکج کمارنے کہاکہ اسکیم کی مجموعی کارکردگی اطمینان بخش ہے اور ادائیگی سے منسلک اشاریوں  کے تحت حصولیابیاں بھی قابل تعریف ہیں ۔البتہ ریاست کو اب آبپاشی کے شعبے میں اختراعی ٹیکنالوجیوں کو اختیارکرنے پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیئے ، تاکہ پانی کے بہترسے بہتراستعمال اور بچت میں اضافہ کیاجاسکے ۔ انھوں نے ریاستوں کو ہدایت کی کہ وہ پینے کے پانی کے ذرائع کی نقشہ بندی کریں اور ان کی ہمہ گیری اورپائیداری کو سمجھنے کی غرض سے اوریہ کہ اٹل جل کے تحت کئے جانے والے اقدامات ان ذرائع میں اس طرح معاونت کرسکتے ہیں ، کے بارے میں مطالعات کا کام انجام دیں ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002ZE01.jpg

چونکہ برادریاں اس اسکیم میں پیش پیش ہیں ، اس لئے برادریوں کی صلاحیت سازی کی اہمیت پربھی زوردیاگیا۔ آبی وسائل کے محکمے کی اسپیشل سکریٹری محترمہ دیباشری مکھرجی نے گرام پنچایت کی سطح پر فراہم کی جانے والے تربیت کے معیارکا جائزہ لینے کی اہمیت کو اجاگرکیا۔ انھوں نے شرکت کرنے والی سبھی ریاستوں سے درخواست بھی کی کہ وہ گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پیز) میں ڈبلیو ایس ایز کو شامل کریں گے ۔ اس ارتباط کی بدولت اسکیم سے متعلق  طریقہ کار میں  مقررہ مدت مکمل ہوجانے کے بعد بھی ہمہ گیری فراہم ہوگی ۔

ورلڈبینک کے پریکٹس منیجرنے پانی کی بچت اوراس کے بہترسے بہتراستعمال  کو مقدم رکھنے میں اسکیم کی ستائش کی اوراس بات کو نمایاں کیا کہ یہ پیش رفت  گذشتہ تین سالوں کے دوران کی گئی ہے ۔انھوں نے برادری کی قیادت میں زیرزمین پانی کے پائیداربندوبست  کی اہمیت پرزوردیااوراس اسکیم کے لئے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

اس میٹنگ میں ان 7ریاستوں کے سرکردہ عہدیداروں نے شرکت کی ، جن میں اس اسکیم کا نفاذ کیاجارہاہے ، اس کے علاوہ کمیٹی کے ارکان میں شامل متعلقہ محکموں کے سینئرافسران نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی ۔آبی وسائل کے محکمے ، آرڈی اینڈ جی آر کے اسپیشل سکریٹری اورجوائنٹ سکریٹری  کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک کے جنوبی ایشیاسے متعلق واٹرپریکٹس منیجرنے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی ۔این ایل ایس سی میٹنگ کے بعد زیرزمین پانی کے  بہترسے بہتر اوردیرپا بندوبست سے متعلق  بہترین طورطریقوں  کے بارے میں ایک ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا ۔ اس ورکشاپ میں 7ریاستوں نے  اپنی اپنی متعلقہ ریاستوں میں اٹل بھوجل یوجنا کے نفاذ  اوراسکیم پرعمل درآمدکے  مقصد سے  زیرزمین پانی کے ریچارج ، پانی کے بہترسے بہتراستعمال ، آبپاشی کے تحت اختراعی ٹیکنولوجیز کے بارے میں اپنے بہترین طورطریقے پیش کئے اوریہ بھی بتایاکہ یہ اسکیم زیرزمین پانی کے بندوبست میں کس طر ح تبدیلی لارہی ہے ،جس کے تحت مانگ سے متعلق اقدامات کے فروغ پرخصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔

اٹل جل کے کلیدی پہلوؤں میں سے ایک برادری کے برتاؤمیں تبدیلی لاناہےاور اس کے تحت پانی کے استعمال کے بارے میں موجودہ برتاؤاورطریقہ کارکو تبدیل کرکے پانی کے تحفظ اوربچت اور اس کے بہترسے بہتربندوبست میں تبدیل کرناہے ۔گرام پنچایت سطح پر برادریوں کی پانی سے متعلق اعدادوشمار اکٹھاکرنے اورپھرپانی سے متعلق بجٹ  اورپانی کی یقینی فراہمی سے متعلق منصوبوں (ڈبلیو ایس پیز) کی تیاری میں مدد کی جاتی ہے۔اس اسکیم کا مقصد پانی کے شعبے میں کام کرنے والے سبھی متعلقہ محکموں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجاکرنا ہے تاکہ ڈبلیو ایس پیز کے نفاذ میں ان مسائل کو موثر طورپر  بروئے کارلایاجاسکے ۔ اس اسکیم کے تحت ایسے اقدامات پر بھی زوردیاگیاہے جن سے آبپاشی میں پانی کی مانگ میں کمی آتی ہے اورآبپاشی کی سہولت والی  4.5لاکھ ہیکٹیئر آراضی کو پانی کی موثرتکنیکوں کے تحت لایاگیاہے ۔ ان تکنیکوں میں  ڈرپ /چھڑکاؤ، پائپ لائن کے ذریعہ آبپاشی ، ملچنگ یعنی پتّوں وغیرہ کی نباتاتی کھاد کا استعمال جو پودوں پران کے اردگرد زمین کی حفاظت یا تقویت کے لئے بچھادی جاتی ہے ، فصلوں میں تنوع پیداکرنا وغیرہ شامل ہیں ۔یہ اسکیم چنوتیوں والے طریقہ کارکے تحت نافذ کی جارہی ہے ، جس کے تحت  بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں مزید ترغیبی فنڈ جاری کیاجاسکتاہے ۔ ان کارکردگیوں کو ادائیگی سے منسلک اشاریے کہلائے جانے والے پہلے سے واضح کئے گئے اہداف کے ذریعہ ماپاجاتاہے اوریہ ریاستوں کو  ترغیبات کی ادائیگی کی بنیاد تیارکرتی ہے ۔

***********

(ش ح ۔ ع م۔ ع آ)

U -5578



(Release ID: 1928042) Visitor Counter : 112


Read this release in: English , Hindi , Manipuri