سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ’ٹی بی مکت بھارت ‘ کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی کا حوالہ دیا
انہوں نے کہا، محکمہ بایو ٹکنالوجی 2025 تک وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ٹی بی مکت بھارت‘ کے عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے تپ دق کے خاتمے کے خلاف مربوط جامع صحت کی دیکھ بھال کے نقطہ نظر میں ایک اہم کردار ادا کرنے جا رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAR 2023 6:06PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی؛ وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارضیاتی سائنسز؛ پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاکے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج ’ٹی بی مکت بھارت‘ کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی کا اعلان کیا اور کہا کہ بایو ٹیکنالوجی کا محکمہ، جس نے دنیا کو کووڈ کے خلاف پہلی ڈی این اے ویکسین دی،2025 تک وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ٹی بی مکت بھارت‘ کے عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے، تپ دق کے خاتمے کے خلاف اس مربوط جامع صحت کی دیکھ بھال کے نقطہ نظر میں ایک اہم کردار ادا کرنے جارہاہے۔
24 مارچ کو وارانسی میں ون ورلڈ ٹی بی سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے واضح اعلان سے متاثر ہو کر، وزیر موصوف نے ٹی بی مریضوں سے الگ تھلگ ایم ٹی بی کے 182 داغوں کےڈبلیو جی ایس کی کامیاب تکمیل کے ساتھ ہندوستانی تپ دق جینومک سرویلنس کنسورشیم (آئی این ٹی جی ایس) اورڈی بی ٹی۔ان اسٹیم ، بنگلورو میں ایک نئی بلڈ بیگ ٹیکنالوجی کی ترقی کے آزمائشی مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ بایو- نیکسٹ- ٹیک –اختراعات کے بارے میں پریس سے بات چیت کر رہے تھے۔
تپ دق کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے نئے اقدامات پر پریزنٹیشنز -اے) تپ دق کے مریضوں کی زندگی کے معیار(کیو او ایل) کو بہتر بنانے کے لیے آیوش اقدامات- بی) جینومکس اور مصنوعی ذہانت(اےآئی) کے ذریعہ دواؤں کی مزاحمت کا نقشہ بنانا اورذخیرہ شدہ خون کی شیلف لائف اورمعیار کو بڑھانے کے لئےنئے بلڈ بیگ ٹیکنالوجی پرپرزنٹیشنز پیش کی گئیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تپ دق کی وجہ سے ہونے والے گہرے سماجی اور اقتصادی اثرات پر غور کرتے ہوئے حکومت ہندوستان نے 2025 تک ’ٹی بی مکت بھارت‘ کو اعلیٰ ترجیح دی ہے اور بایو ٹیکنالوجی تپ دق کے خاتمے کے خلاف مربوط جامع صحت کی دیکھ بھال کے نقطہ نظر میں زبردست کردار ادا کرنے جا رہی ہے۔ ٹی بی کے خاتمے کے لیے ڈیٹا پر مبنی تحقیق- ’’ڈیئر 2 ایراڈ ٹی بی‘‘ جوکہ ڈیپارٹمنٹ آف بائیوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کا ایک سرپرست پروگرام ہے، 2022 میں عالمی ٹی بی ڈے پر شروع کیا گیاتھا۔ ہندوستانی تپ دق جینومک سرویلنس کنسورشیم (آئی این ٹی جی ایس) ، جو کہ پروگرام کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے ، سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت اور وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے درمیان ایک مشترکہ پہل ہے، جس کی قیادت محکمہ بائیو ٹیکنالوجی کرتا ہے۔ ڈی بی ٹی ، آئی سی ایم آر ،سی ایس آئی آر اور دوسرے تحقیق و ترقی کے ادارے اس کنسورشیم کاحصہ ہیں اور ان کا مقصد تپ دق کے 32500 داغوں کے ہول جنوم سکویسنگ (ڈبلیو جی ایس ) کی کارکردگی ہے۔
محکمہ بایو ٹکنالوجی کے سکریٹری، ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلےنے بتایا کہ آئی این ٹی جی ایس کو انتہائی کامیاب ہندوستانی ایس اے آر ایس۔ سی او وی-22 جینومکس کنسورشیم (آئی این ایس اے سی او جی کی طرز پر بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مائکوبیکٹیریم تپ دق (ایم ٹی بی) کی حیاتیاتی خصوصیات اور ٹرانسمیشن، علاج اور بیماری کی شدت پر تغیرات کے اثرات کو پوری طرح سے سمجھنے کے لیے اس پیمانے پر یہ پورے ہندوستان کا پہلا اقدام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مستقبل میں ٹی بی کی تشخیص اور نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈبلیو جی ایس کے استعمال کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ عزت مآب وزیر اعظم نے حال ہی میں 24 مارچ 2023 کو عالمی ٹی بی ڈے کے موقع پر وارانسی میں ون ورلڈ ٹی بی سربراہی اجلاس سے خطاب کیا تھا جہاں کئی اقدامات کا آغاز کیا گیا تھا اور محکمہ کی کوششیں 2025 تک’ٹی بی مکت بھارت‘ کے وژن کے مطابق ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ذکر کیا کہ حکومت کی توجہ مجموعی صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کے لیے ادویات کے مختلف نظاموں کے لیے ایک مربوط نقطہ نظر پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آیوش کی وزارت اور بایو ٹکنالوجی کے محکمے کے درمیان دستخط کیے گئے ایک مفاہمت نامے کے تحت، زندگی کے معیار کو بہتر بنانے، کیچیکسیا کے انتظام، اے ٹی ٹی اور ہیپٹو –پروٹیکشن کے بایو انہینسنگ کے لیے اینٹی ٹی بی تھیریپی (اے ٹی ٹی) کے معاون کے طور پر آیوروید کے اقدام پر اعلیٰ اثرات کے تحقیقی مطالعات کےانعقاد کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نےنشاندہی کہ حکومت صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں مقامی تحقیق و ترقی اور اختراعات کی بھی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیم سیل سائنس اینڈ ری جنریٹیو میڈیسن (ڈی بی ٹی-ان اسٹیم)، جو کہ بایو ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کا ایک خود مختار ادارہ ہے، کے سائنسدانوں کے ذریعہ ایک نئی ہندوستانی بلڈ بیگ ٹیکنالوجی کی ترقی کا اعلان کیا۔ یہ نانوفائبرس شیٹس پر مبنی ہے جو خون سے نقصان پہنچانے والے اجزاء کو محفوظ کر سکتی ہے تاکہ ذخیرہ شدہ خون کے معیار اور شیلف لائف کو بڑھایا جا سکے اور اس ٹیکنالوجی کو اسپن آف اسٹارٹ اپ کمپنی، کیپچربایو پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعہ تجارتی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
**********
ش ح۔ ا ک ۔ ف ر
U. No.5131
(ریلیز آئی ڈی: 1924151)
وزیٹر کاؤنٹر : 128