امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

ایتھنول سیکٹر  کی ترقی دنیا کے لئے  ایک مثال ہے: جناب گوئل کابیان


ایتھنول جیسا ماحول دوست ایندھن وزیراعظم کی اعلیٰ ترجیح ہے: جناب گوئل

مکئی اور ایتھنول پر ایک روزہ قومی سمینار

اناج پر مبنی ڈسٹلریز ان علاقوں میں مکئی کی  پیداوار اور خریداری کے لئےکسانوں کے ساتھ تعاون کریں گی

Posted On: 02 MAY 2023 8:48PM by PIB Delhi

ایتھنول شعبے کی ترقی زبردست رہی ہے جس نے دنیا کے لیے ایک مثال قائم کی ہے، یہ بات صارفین کے امور، خوراک اور عوامی نظام تقسیم، ٹیکسٹائل اور کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نےآج یہاں مکئی سے ایتھنول سے متعلق ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جس کا یہاں محکمہ خوراک اور عوامی تقسیم کے زیر اہتمام کیا گیا تھا۔

جناب گوئل نے کہا کہ گزشتہ 9 برسوں میں چینی کا شعبہ گزشتہ سیزن کے لیے کسانوں کو 99.9 فیصد سے زیادہ ادائیگی کے ساتھ خود کفیل ہوا ہے۔ اب، ایتھنول مکئی کے کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے اور گنے کے کاشتکاروں کی طرز پر استحکام کے ساتھ ترقی لانے میں مدد کرے گا۔ ہزاروں کروڑ کی سرمایہ کاری سے دیہی شعبے میں روزگارکے ہزاروں  مواقع  پیدا ہوئی ہیں جس نے ہندوستانی معیشت پر کئی گنا زیادہ اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایتھنول جیسا ماحول دوست ایندھن عزت مآب وزیر اعظم کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کے نتیجے میں صرف 2 برسوں میں ایتھنول کی ملاوٹ میں دوگنا اضافہ ہوا ہے اور 2025  سے 2030تک ایتھنول کی ملاوٹ کا ہدف 20 فیصد پہلے سے طے کیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001R9KT.jpg

انہوں نے کہا کہ صنعت کے اشتراک سے ہندوستانی حکومت کی  بروقت منصوبہ بندی، صنعت دوست پالیسیوں اور شفاف نقطہ نظر نے ان کامیابیوں کو حقیقت بنا دیا ہے۔ انہوں نے کسانوں کے مفادات کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے ہوئے 20 فیصد ایتھنول ملاوٹ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مرکزی حکومت، ریاستوں، تحقیقی اداروں، او ایم سی اور ڈسٹلریز کی ہم آہنگ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان نےعالمی لیڈر بننے کیلئے مختصروقت میں بڑے اہداف کوحاصل کرنے میں خود کو تبدیل کیا ہے۔ ای 20 کا ہدف2025 سے 2030تک پہلے سے طے کیا گیا تھا تاکہ ہندوستان کے پاس کسانوں کے مفادات کےفروغ کے ساتھ صاف ایندھن مل سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002YAUC.jpg

زراعت کے سکریٹری جناب منوج آہوجا نے بھی ملک میں مکئی کی کاشت کو فروغ دینے میں زیادہ ہدف بند اور علاقے پر مخصوص نقطہ نظر کواپنانے کی ضرورت کا اظہار کیا۔ پیٹرولیم کے سکریٹری نے اس خیال کی حمایت کی اور صنعت کے ساتھ تعاون میں او ایم سیز کے کام پر روشنی ڈالی جس کے نتیجے میں پچھلے سال 10 فیصد آمیزش کا ہدف حاصل ہوا اورہم 20 فیصد آمیزش کا ہدف بروقت حاصل کرنے کے لیے درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ ایف اینڈ پی ڈی کےسکریٹری نےایم  ایس پی پر مکئی کی یقینی خریداری اور اناج پر مبنی ڈسٹلریز کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بنیادی ضرورت کے طور پر پورے شعبے کے لیے ایکو نظام وضع کرنے کی ضرورت کو واضح کیا۔

ہندوستان میں، ڈسٹلریز عام طور پر گڑ سے ایتھنول تیار کرتی ہیں جو چینی کی ضمنی پیداوار ہے۔ تاہم، 20فیصد ملاوٹ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے صرف گنے کا راستہ ہی کافی نہیں ہے، اس لیے، کھانے کے اناج جیسے مکئی، خراب شدہ غذائی اجناس (ڈی ایف جی) اور ایف سی آئی کے پاس دستیاب چاول سے ایتھنول کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ 2025 تک پیٹرول کے ساتھ 20 فیصد ایتھنول کی ملاوٹ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے تقریباً 1016 کروڑ لیٹر ایتھنول کی ضرورت ہوگی اور تقریباً 334 کروڑ لیٹر ایتھنول  دیگر استعمال کے لیے درکار ہوگا ۔ اس کے لیے تقریباً 1700 کروڑ لیٹر ایتھنول پیدا کرنے کی صلاحیت درکار ہوگی اور اس بات پر غور کیا جائے گا کہ پلانٹ 80 فیصد صلاحیت پر چلتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003TAH3.jpg

ایک اندازے کے مطابق 20 فیصد آمیزش کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ایتھنول کی پیداوار کے لیے غذائی اجناس کی ضرورت تقریباً 165 ایل ایم ٹی ہوگی۔ عالمی سطح پر، مکئی ایتھنول کی پیداوار کے لیے ایک بنیادی فیڈ اسٹاک ہے کیونکہ اس میں  کم پانی کی کھپت ہوتی ہے اوریہ کفایتی ہوتا ہے ، تاہم، ہندوستان میں، ایتھنول کی پیداوار کے لیے مکئی کا فیڈ اسٹاک کے طور پر استعمال ایک بار پھر رفتار پکڑے گا ۔ فی الحال، اناج پر مبنی ڈسٹلریز ٹوٹے ہوئے چاول جیسے ڈیمجڈ فوڈ گرینز(ڈی ایف جی) کا استعمال کرکے یاایف سی آئی چاول کا استعمال کرکے اناج سے ایتھنول تیار کررہی ہیں، ہندوستان میں اناج پر مبنی ڈسٹلریز کے ذریعہ مکئی سے ایتھنول کی شاید ہی کوئی پیداوار ہوتی ہے۔ ایتھنول پیداکرنے کےلئے کثیر فیڈ اسٹاک کا استعمال فیڈ اسٹاک کی حفاظت کو یقینی بنائے گا جس سے کسی ایک فیڈ اسٹاک کی دستیابی پر کوئی دباؤ نہیں پڑے گا۔ مزید یہ کہ مکئی پر مبنی ایتھنول زیادہ کفایتی  ہے اور اس سے پانی کی بچت ہے۔

ملک میں مکئی کی پیداوار کا تسلسل جاری ہے۔ تاہم مکئی کی کم مانگ کی وجہ سے کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے۔ مکئی سے ایتھنول کی پیداوار مکئی کی مانگ میں اضافہ کرے گی اور اس لئے کسانوں کو بہتر قیمت ملے گی۔ فی الحال، برآمدکی مانگ کی وجہ سے، مکئی کی قیمتیں زیادہ ہیں لیکن عام طور پر، مکئی کی مارکیٹ قیمت ایم ایس پی سے نیچے ہیں جس کی وجہ سے فصل کےلئے کاشت کا رقبہ کم ہوتا ہے۔ ایتھنول کی پیداوار کے لیے مکئی کا استعمال بہتر قیمتوں اور مکئی کی مسلسل مانگ کو یقینی بنائے گا جس کی وجہ سے اس فصل کی زیادہ کاشت ہو گی جو دھان کے مقابلے میں کم پانی کی کھپت والی فصل ہے۔ مزید برآں، ڈسٹلریز کو بھی مارکیٹ میں فیڈ اسٹاک کی دستیابی کے بارے میں یقینی بنایا جائے گا جو نہ صرف ڈسٹلریز اور کسانوں دونوں کے لیے نرے فائدے کی صورتحال پیدا کرے گی بلکہ پانی اور ماحولیات کے تحفظ میں بھی بہت مددگار ثابت ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004PHH9.jpg

تمام بحث ومباحثے کے دوران، سبھی شراکت داروں نے مکئی کی پیداوار، پیداوار اور رقبہ کو فروغ دینے کے لیے  اشتراک پر مبنی طریقہ کاراپنانے پر اتفاق کیا۔ گنے کے شعبے کی طرز پر، ڈسٹلریز کو مکئی کے کاشتکاروں کی مدد کرنے اور مکئی کی ایم ایس پی شرح پر ان کی فصل کی خریداری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ وزارت پٹرولیم نے اس معاملے پر درمیانی مدت کی مستحکم قیمتوں کی پالیسی کے ساتھ مکئی سے ایتھنول کی ترغیب دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مکئی ریسرچ بہتر اقسام پر کام کرے گا جبکہ ڈسٹلریز کو کیٹل اینڈ اینیمل فیڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (سی ایل ایف ایم اے) کے ساتھ ڈی ڈی جی ایس کے کوالٹی معیارپر اشتراک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ڈسٹلریز اس شعبے میں بڑے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ایتھنول، ڈی ڈی جی ایس اور مکئی سے دیگر ضمنی مصنوعات کی مربوط حکمت عملی کے ساتھ کسانوں، ڈسٹلریز اور مجموعی صنعت کے لیے زیادہ منافع کو یقینی بنایا جا سکتا ہے جو اناج پر مبنی ڈسٹلریز کے ذریعے ایندھن کے لیے ایتھنول کی تقریباً 50 فیصد ضرورت کو بھی پورا کرے گی۔

اس طرح سیمینار نے مختلف تکنیکی شعبوں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم کے تحت لانے پر توجہ مرکوز کی جس کا مقصد مکئی کی کاشت کو فروغ دینے کے خدشات اور چیلنجوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ایک تجویزاتی طریقہ کار کی نشاندہی کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقوں پر غور کرنا تھا۔ ملک میں مکئی کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے میں پیشرفت کرنا جس سے نہ صرف کسانوں اور ڈسٹلریز کو فائدہ پہنچے گا بلکہ پانی اور ماحولیات کے تحفظ میں بھی بہت مدد ملے گی۔

پٹرول ای بی پی پروگرام کے ساتھ ایتھنول آمیزش کے تحت ملک کی  ایندھن کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں آتم نربھر بھارت کے مقصد کو پورا کرنے کے ساتھ مرکزی حکومت کامقصد ی یہ ہے کہ ملک کے مکئی کے کسانوں کے مزید مفادات کاخیال رکھا جائے۔اس سمینار کااہتمام اسی مقصد کےلئے کیا گیا تھا ۔ اس سمینار کامقصد مکئی اور ایتھنول انڈسٹری کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانا اورایتھنول کی پیداوار کےلئے اہم اناج پر مبنی فیڈ اسٹاک کے طور پر مکئی کو فروغ دینے کے لئے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرناہے تاکہ  2025 تک 20 فیصد ملاوٹ کا ہدف حاصل  کیا جاسکے۔ سمینار کے چار اجلاس منعقد ہوئے اورہر اجلاس میں مجموعی منظرنامےکے اہم پہلوؤں پر توجہ دی گئی۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے سکریٹری جناب  پنکج جین  کے ساتھ ڈی ایس پی ڈی کے سکریٹری  سنجیو چوپڑا  نے سمینارمیں شرکت کی جس میں مختلف حکومت کے محکموں، اداروں، تیل مارکیٹنگ کمپنیوں اور صنعت کے سرکردہ ماہرین بھی شریک ہوئے ۔ سیمینار میں ایتھنول انڈسٹری، شوگر سیکٹر، اینیمل فیڈ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن اور بیج/آلات فراہم کرنے والے ممتاز ماہرین نے بھی سیمینارشرکت کی۔

***

ش ح۔  ح ا۔ ف ر

U. No. 4774



(Release ID: 1921579) Visitor Counter : 141


Read this release in: English , Hindi