زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

پی ایم- کسان اسکیم

Posted On: 14 MAR 2023 6:54PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی کہ  پی ایم۔ کسان  اسکیم کے تحت  حاصل ہونے والے فوائد کا اجراء ایک جاری اور مسلسل عمل ہے۔ پی ایم۔ کسان کے فوائد متعلقہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں سے ڈیٹا کی وصولی اور پی ایم۔ کسان پورٹل پر اس کی درست تصدیق کے بعد جاری کیے جاتے ہیں۔

بہت سے علاج کے طور طریقے ایسے کسانوں کے لیے دستیاب ہیں جو پی ایم۔ کسان سکیم کے تحت  ہونے والے فوائد  کے حصول کے لئے  خود کو رجسٹر کرنے کے قابل نہیں ہیں یا جنہیں رجسٹر ڈ تو کیا گیا ہے لیکن اس کے فوائد انہیں نہیں ملے ہیں۔ ریاستی حکومتوں نے اس اسکیم کے لیے بلاک، ضلع اور ریاستی سطح پر نوڈل افسر مقرر کیے ہیں جن کے پاس کسان اپنی شکایات درج  کر ا سکتے ہیں۔ عام طور پر ڈسٹرکٹ ایگریکلچر آفیسرز یا ڈسٹرکٹ کلکٹر ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔

 پی ایم۔ کسان پورٹل کا استعمال کسان اپنی شکایات کے فوری ازالے کے لیے بھی کرتے ہیں۔ پی ایم۔ کسان پورٹل کے 'فارمرز کارنر' کے تحت ایک خصوصی شکایات کا طریقہ کار ‘‘ہیلپ ڈیسک’’  شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کسان کی شکایت براہ راست متعلقہ نوڈل آفیسر کو منتقل کی جاتی ہے۔ کسان عوامی شکایات پورٹل کے ذریعے بھی اپنی شکایات درج کر سکتے ہیں یا اپنی شکایت براہ راست زراعت اور کسانوں کی بہبود  کے محکمہ کو بھیج سکتے ہیں۔

مزید برآں، کسان آئی وی آر ایس پر مبنی  ساتویں دن اور چوبیس گھنٹے دستیاب رہنے والی  ہیلپ لائن 155261 کے ذریعے اپنے مستفید ہونے کی  صورت حال  اور تفصیلات کی جانچ کر سکتے ہیں۔

پی ایم۔ کسان اسکیم کے تحت جاری ہونے والے فوائد سے متعلق وقفہ وار تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔

اسکیم کے کام کاج سے متعلق  رہنما خطوط کے مطابق، ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے پی ایم۔ کسان پورٹل پر ڈیٹا اپ لوڈ کرنے سے پہلے اہل کسانوں کی شناخت اور تصدیق کرتے ہیں۔ پی ایم۔ کسان پورٹل پر اپ لوڈ کردہ ڈیٹا کی آدھار تصدیق کے ساتھ، اکاؤنٹ کی توثیق کے لیے پبلک فنانس مینجمنٹ سسٹم (پی ایف ایم ایس) اور سرکاری ملازمین/پنشنرز کے ڈیٹا کی توثیق کے بعد براہ راست فائدہ کی منتقلی کے موڈ کے ذریعے اہل مستفیدین کو  انکم ٹیکس وصول کنندہ کی حیثیت کی توثیق اور اکاؤنٹ کی توثیق اور آدھار پر مبنی ادائیگیوں کے لیے نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا(این پی سی آئی) کے ساتھ فوائد منتقل کیے جاتے ہیں ۔ مزید برآں، اہل کسانوں کا اندراج کیا جا رہا ہے اور متوفی/نااہل مستفیدین کو ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے مستفید ہونے والے  افراد کے اعداد وشمار  کی مسلسل تصدیق اور توثیق  کرنے کے بعد  ہٹایا جا رہا ہے۔

اسکیم کے تحت ڈیٹا متحرک نوعیت کا ہے۔ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو یہ اختیار فراہم کیا گیا ہے کہ وہ مستفید ہونے والوں کو مناسب تصدیق کے بعداہل کے طور پر اور اس کے برعکس نشان زد کریں۔ تمام استفادہ کنندگان کی ای۔ کے وائی سی ان کی حیثیت کی تصدیق کے لیے بھی کی جا رہی ہے۔ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ تمام اہل استفادہ کنندگان کے ساتھ اس اسکیم پر 100 فیصد عمل آوری  کی رفتار کو تیز کریں۔

حکومت نے شروع سے ہی پی ایم کسان یوجنا کے نفاذ کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

  1. کسانوں کو خود رجسٹریشن، استفادہ کنندگان کی حیثیت کی جانچ، ای-کے وائی سی، ڈیٹا کی درستگی وغیرہ جیسی مختلف سہولیات فراہم کرنے کے لیے پی ایم۔ کسان پورٹل پر ‘فارمرز کارنر’ کی شمولیت۔
  • II. کسانوں کو پی ایم۔ کسان پورٹل پر ‘فارمرز کارنر’ کے ذریعے دستیاب تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے کامن سروس سینٹرز(سی ایس سیز) کو شامل کرنا۔
  1. آدھار کی تصدیق کے لیے یونیک آئیڈنٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) کے ساتھ پی ایم۔ کسان  پورٹل کا انضمام؛ پبلک فنانس مینجمنٹ سسٹم (پی ایف ایم ایس) کے ساتھ اکاؤنٹ اور سرکاری ملازمین/پنشنرز کے ڈیٹا کی توثیق کے لیے؛ انکم ٹیکس ادا کنندہ کی حیثیت کی توثیق کے لیے محکمہ انکم ٹیکس کے ساتھ؛ اور اکاؤنٹ کی توثیق اور آدھار پر مبنی ادائیگیوں کے لیے نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے ساتھ۔
  2. منی پور، ناگالینڈ اور جھارکھنڈ میں اہلیت کے متبادل طریقہ کار کی تشکیل۔
  • V. پی ایم۔ کسان کے تحت 5فیصدمستفیدین کی طبیعی طور پر تصدیق۔
  1. ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو درپیش کسی بھی اور تمام مسائل کے حل کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد کرنا۔
  2. اسکیم کی تشہیر کے لیے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے مختلف کیمپوں کا انعقاد۔
  3. ضرورت پڑنے پر ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مختلف اقدامات  کی تشکیل اور متعلقہ معیاری  کام کاج  کا طریقہ کار(ایس او پیز) جاری کرنا۔
  4. فائدہ اٹھانے والوں کے ڈیٹا کی زمین کی بیجائی۔
  • X. ایک پروجیکٹ مانیٹرنگ یونٹ (پی ایم یو) کا قیام یعنی کسانوں کی بہبودکے قومی پروگرام کے نفاذ کی سوسائٹی ( نیشنل فارمرز ویلفیئر پروگرام امپلیمنٹیشن سوسائٹی)۔

ضمیمہ

  پی ایم۔ کسان  اسکیم کے آغاز سے لے کر اب تک جاری کردہ فوائد کے بارے میں وقفہ وار تفصیلات (09.03.2023 تک)

مالی سال

عرصہ

رقم( روپے)

(2018-19)

دسمبر۔ مارچ

63,22,87,38,000

(2019-20)

اپریل۔ جولائی

1,32,71,57,40,000

اگست۔ نومبر

1,75,25,96,00,000

دسمبر۔مارچ

1,79,25,55,86,000

(2020-21)

اپریل۔ جولائی

2,09,86,71,88,000

اگست۔ نومبر

2,04,69,16,98,000

دسمبر۔ مارچ

2,04,71,48,38,000

(2021-2022)

اپریل۔ جولائی

2,23,28,04,92,000

اگست۔ نومبر

2,23,85,43,54,000

دسمبر۔ مارچ

2,23,18,58,32,000

(2022-2023)

اپریل۔ جولائی

2,25,54,49,78,000

اگست۔ نومبر

1,79,84,92,78,000

دسمبر۔ مارچ

1,71,07,15,20,000

مجموعی

24,16,51,98,42,000

 

*************

( ش ح ۔ س ب۔ ر ض(

U. No.2739

 



(Release ID: 1907106) Visitor Counter : 141


Read this release in: English