خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت

اورنگ آباد میں ویمن- 20  کی ابتدائی میٹنگ کا آغاز


ڈبلیو-20 ابتدائی میٹنگ میں ایس ایم ایز کے تناظر میں  خواتین کے کردار، موسمیاتی کارروائی، تعلیم اور ہنر مندی، صنفی ڈیجیٹل تقسیم اور نچلی سطح کی قیادت پر تبادلہ خیال کیا گیا

Posted On: 27 FEB 2023 8:38PM by PIB Delhi

وومن-20 (ڈبلیو-20)  انڈیا نے آج اورنگ آباد میں (27 فروری 2023) کو خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی  وزیر محترمہ اسمرتی زوبن ایرانی کی موجودگی میں اپنے ابتدائی اجلاس کا افتتاح کیا۔وزیر مملکت برائے مالیات ڈاکٹر بھگوت کشن راؤ کراڈ، ریلوے، کوئلہ اور کانوں کے مرکزی وزیر مملکت جناب راؤ صاحب دانوے پاٹل ۔  اور جی-20  انڈیا کے شیرپا  جناب  امیتابھ کانت ،ڈبلیو-20  انڈیا کی چیئرمین  ڈاکٹر سندھیا پوریچا، ڈبلیو-20  کی بانی چیئرمین محترمہ گلدین ترکٹان اور ڈبلیو-20  انڈیا کی چیف کوآرڈینیٹر محترمہ دھریتری پٹنائک بھی موجود تھے۔ ڈبلیو-20  کی چیئر مین  ڈاکٹر سندھیا پوریچا نے مندوبین کا ‘‘ویدوں کی سرزمین’’ پر خیرمقدم کیا اور مساوات، برابر ی  اور وقار کی دنیا کے قیام کے ہندوستان کے وژن کا اعادہ کیا۔

ڈبلیو- 20 انڈیا نے نینو، مائیکرو، اور اسٹارٹ اپ انٹرپرائزز میں خواتین کو بااختیار بنانے پر اپنا پہلا سیشن منعقد کیا۔ سیشن کا آغاز ڈبلیو-20  انڈیا کی چیئر ڈاکٹر سندھیا پوریچا نے آئی ڈبلیو این 365 پہل شروع کرنے کے ساتھ کیا تاکہ خواتین کو اپنے کاروبار قائم کرنے اور مالی آزادی حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ جی سی ایم ایم ایف انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب جین مہتا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کس طرح تمام اسپیکٹرم سے خواتین نے ہندوستانی ڈیری صنعت  کو تبدیل کرنے میں امول کی مدد کی ہے۔ اس کے بعد پینل ڈسکشن کا آغاز ہوا جس میں امریکہ سے ورجینیا لٹل جان نے ورچوئلی طور پر حصہ لیا، جب کہ ہندوستان سے جہنا بائی فوکن، ترکی سے سیویم زہرا کایا، ہندوستان سے نتاشا مجمدار اور جاپان سے ساتوکو کونو موجود رہیں۔ سیشن میں ایک ایسا فریم ورک قائم کرنے پر زور دیا گیا جس سے خواتین بغیر کسی امتیاز اور تعصب کے اپنے کاروبار قائم کر سکیں۔

دوسرے سیشن میں ’کلائمیٹ ریسائکلنگ ایکشن میں تبدیلی کے لیے خواتین کا کردار‘ نے عالمی سطح پر پالیسی ڈیزائننگ کے لیے صنفی بنیادوں کو متعارف کرانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ محترمہ مارٹینا روگاٹو، چیئرمین ،ڈبلیو-20  ٹاسک فورس برائے موسمیاتی تبدیلی نے اس بات پر زور دیا کہ‘‘موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریہ نہیں ہے۔ یہ افسوسناک طور پر اب ایک حقیقت ہے۔’’ اس سیشن کے پینلسٹ میں جی سی ای ایف کی بانی اور ایگزیکٹو صدر محترمہ انجیلا جو ہیون کانگ ایشین ڈویلپمنٹ بینک میں صنفی مساوات تھیمیٹک گروپ کی چیف سمانتھا جین ہنگ؛ محترمہ نتاشا زرین، شریک بانی اور ایم ڈی، سینٹر فار اپلائیڈ ریسرچ اینڈ پیپلز اینگیجمنٹ، اورنگ آباد؛ ایلینا میاکوٹنیکووا، سی ای او اور مشیر،سیبیور؛ اور محترمہ پراچی شیوگاؤںکر، ینگ کلائمیٹ چینج میکر اور ایڈوائزر کلائمیٹ لیڈر شپ کولیشن شامل تھیں ۔

ڈبلیو- 20 کے آغاز کے تیسرے سیشن میں ‘نچلی سطح پر خواتین لیڈرز کے لیے ایک قابل عمل ماحولیاتی نظام کی تشکیل’ پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں نچلی سطح پر سیاسی اور عوامی قیادت میں لڑکیوں اور خواتین کی مساوی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے چیلنجز اور راستے کی نشاندہی کی گئی۔ نچلی سطح پر قیادت پر ڈبلیو-20  ٹاسک فورس کی شریک چیئر مین، ڈاکٹر فرح دیبا ٹینریلیمبا نے سیشن کی نظامت کی ۔ دیگر پینلسٹس میں پروفیسر شمیکا روی، ممبر، وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل، محترمہ بھارتی گھوش، سابق انڈین پولیس سروس آفیسر اور ہندوستان میں  زمینی  سطح کی سیاسی رہنما، سدھا بین سریش بھائی پٹیل، نائب چیئرپرسن، ولساڈ ڈسٹرکٹ کوآپریٹو  ملک  پروڈیوسرز یونین لمیٹڈ; محترمہ فرح عربی، ہارورڈ کینیڈی اسکول کے خواتین نیٹ ورک کی شریک صدر؛ اور محترمہ  سیبالیلے پوسوائیو، صنفی ماہر، سرحدی دیہی کمیٹی؛ محترمہ رمجھم گور، گراس روٹس ریسرچر، بانی اور ڈائریکٹر، سیپینز ریسرچ اینڈ اینالیسس اور بانی و ڈائریکٹر،  جی آر اے ایم  وائی اے  شامل تھیں۔

‘انفراسٹرکچر کے ذریعے رسائی کو بہتر بنانے اور صنفی ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کے لیے ہنرمندی’ کے چوتھے سیزن میں صنفی ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے، ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانے اور  آئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگز) پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ خواتین رکاوٹوں کو توڑنے اور خود کو انسانی معاشرے کی بنیادی معمار کے طور پر قائم کرنے کے قابل بنائیں۔اس سیشن میں اپنے تعارفی کلمات میں، ڈیولپنگ ورکنگ گروپ، جی-20  انڈیا کے شریک چیئرمین، جناب  ناگارا نائیڈو نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ہندوستان کی نمایاں تبدیلی پر دوبارہ زور دیا جس سے شہریوں کو ان کی صلاحیتوں کا ادراک کرنے کی اجازت دی گئی ہے جسے عوامی بھلائی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ پینلسٹس میں یونیسکو سے گیبریلا راموس، جرمنی سے جولین روزن، اٹلی سے جیوانا ایولیس، ہندوستان سے ندھی گپتا اور یورپی یونین سے شیرل ملر وان ڈائک شامل تھیں۔ سیشن میں چند لوگوں کے ہاتھوں میں وسائل جمع کرنے کے سنگین مسائل کے حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی، جس سے انہیں غیر معقول طاقت ملتی ہے، جبکہ دوسرے اپنی بقا کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

‘تعلیم اور ہنر کے ذریعے خواتین کے لیے راہیں تخلیق کرنا’  پر پانچویں سیشن کی نظامت ڈبلیو-20  ٹاسک فورس کی چیئر اور ڈیجیٹل لیڈرشپ انسٹی ٹیوٹ، یورپی یونین کی بانی ڈائریکٹر چیرل ملر وان ڈیک نے کی۔ پینلسٹ میں ڈاکٹر سندھیا پوریچا، ڈبلیو-20  کی چیئر مین ۔ ڈاکٹر راجیتا کلکرنی، مصنف اور صدر سری سری یونیورسٹی؛ اور محترمہ کیسینہ شیوواستو، ہیڈ آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس آفس، ایچ ایس ای یونیورسٹی، روس شامل تھیں ۔ پینلسٹسوں نے خواتین اور لڑکیوں کو ہنر کی ترقی اور تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کے لیے آمدنی پیدا کرنے کے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کے راستے پیدا کیے جا سکیں اور نئے کاروباری سیٹ اپ بھی تخلیق کیے جا سکیں، جو بدلے میں ساختی تبدیلی اور اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔

دن کا اختتام ‘‘ہندوستان میں خواتین کی زیر قیادت ترقی’’ کے موضوع پر ایک خصوصی سیشن کے ساتھ ہوا، ڈاکٹر سندھیا پوریچا نے خصوصی سیشن کا آغاز کیا جس میں ڈبلیو-20  انڈونیشیا کی چیئر مین ، پینلسٹ محترمہ اولی سلالہی اور محترمہ بنسوری سوراج، ایڈوکیٹ، سپریم کورٹ آف انڈیا نے شرکت کی۔ محترمہ بنسوری سوراج نے کہا، ‘‘میری سرزمین ہندوستان میں خوش آمدید جہاں خوشحالی کی نمائندگی دیوی لکشمی کرتی ہیں اور ہمت کی نمائندگی دیوی درگا کرتی ہیں جبکہ علم کی نمائندگی دیوی سرسوتی کرتی ہیں۔’’ جناب  استک کمار پانڈے، ضلع مجسٹریٹ نے اورنگ آباد کے شاندار ثقافتی ورثے کے بارے میں بات کی۔

ڈبلیو-20کا زور جی-20  رہنماؤں کے اعلامیے اور جی 20  کمیونیک کو متاثر کرنا اور خواتین کاروباریوں کے ساتھ فعال مشغولیت کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرنا، اور ایسی پالیسیوں کے لیے وعدے کرنا ہوں گے جو صنفی مساوات کو آگے بڑھائیں گے اور جی-20  پر تبادلہ خیال میں  خواتین کے ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہوں گے۔

 

*************

( ش ح ۔ج  ق۔ ر ض(

U. No.2157



(Release ID: 1903004) Visitor Counter : 138


Read this release in: English , Marathi