محنت اور روزگار کی وزارت

جی-20 روزگار ورکنگ گروپ  کا پہلا اجلاس  جودھپور میں ایک مثبت نوٹ پر اختتام پذیر ہوا ، جس میں تمام جی-20 ممالک نے ہندوستان کی زیر صدارت مقرر کردہ تین ترجیحی شعبوں کے مقصد  کے حصول کے لیے تعمیری طور پر کام کرنے میں دلچسپی اور عزم ظاہر کیا

Posted On: 04 FEB 2023 3:44PM by PIB Delhi

 

جی-20  روزگار ورکنگ گروپ کا  پہلا  اجلاس آج جودھپور میں ایک مثبت نوٹ پر اختتام پذیر ہوا جس میں تمام جی-20   ممالک نے عالمی ہنر کے فرق کو ختم کرنے، گگ اور پلیٹ فارم معیشت اور سماجی تحفظ نیز سماجی تحفظ کی پائیدار مالی اعانت کے لیے  ہندوستان کی زیر صدارت مقرر کردہ تین ترجیحی شعبوں کے مقصد کے لیے تعمیری طور پر کام کرنے میں دلچسپی اور عزم ظاہر کیا ہے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001PC6G.jpg

حکومت ہند کی وزارت محنت و روزگار کی  زیر قیادت ہندوستان کی صدارت  میں منعقد ہ روزگار ورکنگ گروپ (ای ڈبلیو جی) کی تین روزہ میٹنگ [2-4 فروری]  میں سب کے لیے مضبوط، پائیدار، متوازن، اور روزگار  سے بھرپور ترقی  کے لیے محنت ، روزگار اور سماجی مسائل کی ترجیحات کو حل کرنے کا مینڈیٹ ہے۔

روزگار  ورکنگ گروپ کے اجلاس کا آغاز جمعرات کو ایک خصوصی تقریب کے ساتھ ہوا جس میں 'عالمی ہنر اور قابلیت کی ہم آہنگی کے لیے حکمت عملیوں کی تلاش اور مشترکہ ہنر کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے' پر ایک پینل بحث شامل تھی۔

 

تمام مندوبین کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے اور جودھ پور میں جی-20   روزگار ورکنگ گروپ   کے  تئیں ان کی لگن کی ستائش کرتے ہوئے مرکزی وزیر جل شکتی جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے دوسرے دن کے افتتاحی اجلاس میں بین الاقوامی برادری کے اراکین سے مل کر کوشش کرنے  اور تمام لوگوں کے لیے اچھے کام اور جامع ترقی کے مزید مواقع پیدا کرنے میں بامعنی پیش رفت کرنے  کی اپیل کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002ACXJ.jpg

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کی زیر صدارت  جی-20   کا موضوع، "وسودھیو کٹمبکم" یا "ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل" خاص طور پر موزوں ہے کیونکہ ہم اپنی معیشتوں اور اپنے لوگوں کے باہمی ربط پر بات چیت کرنے کے لیےجمع  ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری مشترکہ انسانیت اور سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت کی ایک طاقتور یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ آج ہمیں جن محنت اور روزگار کے چیلنجوں کا سامنا ہے، ان کا حل سب کے لیے جامع، پائیدار اور مساوی ہونا چاہیے۔ ہندوستان کی جی-20   روزگار ورکنگ گروپ    کی صدر اور وزارت محنت اور روزگار کی سکریٹری محترمہ آرتی آہوجا کے وزارتی خطاب کے بعد، ہندوستان کی زیر صدارت جی-20  روزگار ورکنگ گروپ   ترجیحات پر انڈونیشیا اور برازیل کے شریک  صدور  نے تبصرے کیے ۔

دوسرے سیشن میں ’عالمی ہنر کے فرق کو دور کرنے‘ کی ترجیح پر ممالک اور آئی او (بین الاقوامی تنظیموں) کی جانب سے پریزنٹیشن اور تجاویز   پیش کی گئیں ۔ بین الاقوامی تنظیموں، آئی ایل او، او ای سی ڈی نے لیبر مارکیٹ میں مہارتوں اور قابلیت کے درمیان مختلف قسم کے عدم توازن کو اجاگر کیا۔

اس کے بعد ہنر مندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت میں سکریٹری جناب  اتل کمار تیواری نے پریزنٹیشن  دیا ،جس میں انہوں نے مختلف ہنر اور ترقی کی سرگرمیوں اور ہندوستان میں اٹھائے جانے والے  ان اقدامات کا ذکر کیا جنہیں مقررہ اہداف کو حاصل صنعت اور حکومتی اداروں  کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس سیشن کے دوران کھلی بحث نے شریک  ممالک کو اپنے اپنےملکوں میں ہنر مندی کی ترقی کے لیے موجودہ حالات اور قانونی فریم ورک میں سے کچھ پر تجربے کے اشتراک کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

تیسرے سیشن میں گگ اور پلیٹ فارم معیشت اور سماجی تحفظ کے ترجیحی مسئلے کا احاطہ کیا گیا۔ اس کی شروعات آئی ایل او، او ای سی ڈی اور آئی ایس ایس اے کی ایک تفصیلی تکنیکی پریزنٹیشن کے ساتھ ہوئی، اس کے بعد حکومت ہند کے  اہم تھنک ٹینک ، نیتی آیوگ کی طرف سے ایک پریزنٹیشن  دی کی گئی۔ چوتھے اور پانچویں سیشن نے عالمی اور ہندوستانی تناظر میں 'گگ اور پلیٹ فارم معیشت کے موضوع پر غور و خوض کیا ۔ شریک ممالک نے موجودہ  گگ اور پلیٹ فارم اکانومی فریم ورک کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن پیش کیں اور اس شعبے میں محنت کشوں کے خدشات کو دور کرنے کے بارے میں اپنے تجربات کا اشتراک کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003IKB0.jpg

اجلاس کے تیسرے دن کا آغاز جی-20   روزگار ورکنگ گروپ   کی صدر اور وزارت محنت و روزگار کی سیکرٹری کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ اس دن کے مختلف  اجلاسوں کے دوران ’سماجی تحفظ کی پائیدار مالی اعانت‘ کے  موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بین الاقوامی تنظیموں، آئی ایل او، او ای سی ڈی اور آئی ایس ایس اے نے مشترکہ طور پر سماجی تحفظ میں موجودہ اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پائیدار فنانسنگ کے لیے دستیاب مجموعی مقصد اور مختلف ڈھانچے پر بھی توجہ  مرکوز کی۔ ورلڈ بینک نے اپنی پریزنٹیشن میں عالمی سماجی تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ وزارت محنت و روزگارکی  ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کی ٹیم نے سماجی تحفظ کو بڑھانے اور مضبوط کرنے کے لیے حکومت ہند کے اقدامات اور اسکیموں کے بارے میں معلوماتی پریزنٹیشن دی۔ اس کے بعد ملک وار  تجاویز پیش کی گئیں  اور کھلی بحث ہوئی، جس میں شریک ممالک نے اپنے اپنے ملکوں میں سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے موجودہ حالات اور قانونی فریم ورک کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

دو دن کے دوران  منعقد ہونے والے ان اجلاسوں میں یوگا  کرنے کے لیے مختصر وقفے بھی شامل کیے گئے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004SGR0.jpg

ای ڈبلیو جی کے شریک صدور انڈونیشیا اور برازیل کے حوصلہ افزا کلمات کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔ روزگار ورکنگ گروپ   کی  صدر اور وزارت محنت و روزگار کی سکریٹری محترمہ آرتی آہوجا نے اپنے اختتامی کلمات میں جی-20  کے تمام مندوبین اور شرکاء بشمول بین الاقوامی تنظیموں کا تبادلہ خیال میں ان کے تعاون اورشرکت  کے لیے شکریہ ادا کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ رض  ۔ ج ا  (

1209

 



(Release ID: 1896376) Visitor Counter : 178


Read this release in: English , Hindi , Tamil