الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

مملکتی وزیر جناب راجیو چندر شیکھر نے انتہائی بڑے پیمانے پر انضمام کے ڈیزائن پر 36ویں بین الاقوامی کانفرنس اور ایمبیڈڈ سسٹم پر 22 ویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کیا


ہندوستان کا تکنیکی عہد انٹرنیٹ کے مستقبل سے بھی اتنا ہی وابستہ ہے جتنا یہ الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرز سے ہے: وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر

ہندوستان کے تکنیکی عہد کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل اور تکنیکی ماحولیاتی نظام کی از سرِ نو تشکیل کی گئی ہے اور اسے متنوع بنایا گیا ہے

Posted On: 10 JAN 2023 4:47PM by PIB Delhi

برقیاتی و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کے وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر نے آج کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے تصور کردہ ہندوستان کے ٹیکڈ کے ہدف کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت نے جدت طرازی اور تکنیکی ماحولیاتی نظام کی از سرِ نو تشکیل اور اسے متنوع بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کے لیے ایک پی ایل آئی اسکیم برائے ہارڈ ویئر اور سرورز جلد شروع کی جائے گی۔ یہ اسکیم اشیا سازوں اور اصل آلات بنانے والوں (او ای ایمس) کے لئے اضافی مراعات فراہم کرے گی جو ہندوستانی ڈیزائن کردہ آئی پی کو اپنے سسٹمز اور مصنوعات میں شامل کریں گے۔

1.jpg

وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر انتہائی بڑے پیمانے پر انضمام (وی ایل ایس آئی) کے ڈیزائن پر 36ویں بین الاقوامی کانفرنس اور ایمبیڈڈ سسٹم پر 22ویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

وزیر موصوف 2000 سے زائد انجینئروں، طلباء، فیکلٹی ممبران، صنعت کے ماہرین اور نمائندوں، اکیڈمک ماہرین، محققین، بیوروکریٹس اور سرکاری اداروں کے ایک اجتماع سے غیر روایتی طور پر خطاب کر رہے تھے۔  حیدرآباد میںیہ اجتماع وی ایل ایس آئی ڈیزائن پر 36ویں بین الاقوامی کانفرنس  اور ایمبیڈڈ سسٹمز پر 22 ویں بین الاقوامی کانفرنس۔ کا حصہ تھا۔ بین الاقوامی وی ایل ایس آئی ڈیزائن اور ایمبیڈڈ سسٹمز کانفرنس ایک اعلیٰ عالمی کانفرنس ہے جو وی ایل ایس آئی اور ایمبیڈڈ سسٹمز میں تازہ ترین پیشرفت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

2.jpg

وی ایل ایس آئی ڈیزائن اور ایمبیڈڈ سسٹم کے شعبوں میں مواقع کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ 2014 سے پہلے ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت صرف چند کمپنیوں کے زیر انتظام ٹیک سروسز انڈسٹری تک محدود تھی۔ تاہم 2022 میں ڈیجیٹل اور تکنیکی ماحولیاتی نظام کو نمایاں طور پر از سر نو تشکیل دے کر متنوع بنایا گیا ہے جس میں جدت اور ٹیکنالوجی کے مکمل دائرہ کار کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انڈیا کا تیکنکی عہد صرف انٹرنیٹ کے مستقبل کے بارے میںیا صارفین کی ٹکنالوجی سے براہ راست متعلق نہیں بلکہ اس کا اتنا ہی تعلق الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرز سے بھی ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ مصنوعات کے علاوہ ہنر کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سپلائی چینز کو بھی  حسب سابق  قیمت اور کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اعتماد اور اختراع کے تصورات کے ارد گرد دوبارہ ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ یہ وقت ان شعبوں سے جڑے تمام پیشہ ور افراد کے لیے جوش سے بھرا ہے۔

اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ہندوستان سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور پیکیجنگ ماحولیاتی نظام میں عالمی معیار کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ سیمیکان انڈیا فیوچر ڈیزائن پروگرام کے تحت 2024 تک یہ تصور کیا جاتا ہے کہ گھریلو نئی صنعتیں عالمی کمپنیوں کے ساتھ کام کریں گی۔ اور آئی پی اور ڈیوائسز تیار کریں گی جو یا تو مشترکہ ملکیت ہوں گییا ان کی اپنی ملکیت۔

***

ش ح۔ ع س۔ ک ا



(Release ID: 1890098) Visitor Counter : 124


Read this release in: Telugu , Tamil , English , Hindi