بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
گرین شپنگ کاربن کے اخراج کو کم سے کم کرنے کے عمل کو پروان چڑھائے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 DEC 2022 3:37PM by PIB Delhi
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں سبز پورٹ اور شپنگ میں مہارت کا قومی مرکز نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس (این سی او ای جی پی ایس) قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ مرکز کا مقصد حکومت کے مطابق جی ایچ جی کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجیوں، متبادل ایندھن، قابل تجدید توانائی کے ذرائع اور جہاز رانی اور بندرگاہ کے شعبے کے لیے اہداف کی نشاندہی کرنا ہے۔ مرکز کی طرف سے تیار کردہ قانونی فریم ورک سیکٹر کے لیے بھارت کی وابستگی گرین شپنگ پر تحقیق اور تعاون کی حمایت کرے گا اور بہترین پالیسی بنانے میں مدد کرے گا ۔
صنعت کے مطابق مرکز تمام بندرگاہوں، شپنگ کمپنیوں اور سمندری ریاستوں کے ساتھ ان کے مسائل کو سمجھنے اور تحقیق کی بنیاد پر حل پیش کرنے کے لیے کام کرے گا۔
این سی او ای جی پی ایس کے وسیع ترمرکوز علاقے درج ذیل ہیں:
- پالیسی، ریگولیٹری اور ریسرچ
- انسانی وسائل کی ترقی
- نیٹ ورک- کلیدی شراکت دار اور اہمیت کا حامل تعاون
- کام کا علاقہ، نتائج،منصوبوں اور وسائل کی دریافت
- ماضی کے واقعات، آنے والے واقعات، وسعت سے منسلک ہونا
حکومت نے حال ہی میں گرین پورٹ اینڈ شپنگ میں مہارت کے قومی مرکز سینٹر آف ایکسیلنس (این سی او ای جی پی ایس) کے قیام کا اعلان کیا ہے جو گرین پورٹس اور شپنگ کے لیے بھارت کا پہلا سی او ای ہے۔اس سلسلے میں بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے 18 نومبر 2022 کو مفاہمت کے ایک اقرار نامے پر دستخط کئے گئے تھے جو معاہدہ (ایم او پی ایس ڈبلیو) دین دیال پورٹ اتھارٹی ، کاندلہ ، پارادیپ پورٹ اتھارٹی ، پارادیپ ،وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی،تھوتھکوڈی،کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ، کوچی اینڈ دی انرجی اینڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ (ٹی ای آر آئی) کے ساتھ کیا گیا تھا۔
این سی او ای جی پی ایس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- این سی او ای جی پی ایس بھارت میں شپنگ سیکٹر میں کاربن کے اخراج کے عمل کو کم سے کم کرنے کے عمل کو پروان چڑھانے اور مدور معیشت (سی ای )کو فروغ دینے کے لئے انضباطی فریم ورک فراہم کرے گا نیز گرین شپنگ کے لیے متبادل ٹیکنالوجی اپنانے کے مقصد سے روڈ میپ تیار کرنے کے لیے پالیسی اور انضباطی مدد فراہم کرے گا۔
- این سی او ای جی پی ایس کو علم اور نفاذ کے ساتھی کے طور پرتوانائی اور وسائل سے متعلق ادارے (ٹی ای آر آئی) میں رکھا جائے گا اور اس کی قیادت کی جائے گی۔
بھارت کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن گرین وائج 2050 پروجیکٹ کے لیے سرکردہ ملک کے طور پر منتخب کیا گیا ہے ناروے کی حکومت نے اس میں مالی تعاون دیا ہے ۔یہ ترقی پذیر ممالک کو جہازوں سے جی ایچ جی کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں میں مدد کرتا ہے۔ آئی ایم او نے بھارت کو گرین وائج کے ذریعہ گرین شپنگ پروجیکٹوں کے پائلٹنگ کرنے اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کے ذریعہ تعاون کرنے والا پہلا ملک منتخب کیا ہے۔گریج وائج 2050 کے تحت پانچ پروجیکٹوں کا انتخاب کیا گیا تھا،جن میں سے آسام ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ ڈیولپمنٹ سوسائٹی (اے آئی ڈبلیو ٹی ڈی ایس) کو مسافربردار جہازوں کی خریداری کے لئے منتخب کیا گیا تھا اور آئی ایم او گرین وائج ٹیم اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کے ذریعے ان چھوٹے جہازوں میں متبادل ایندھن کے حل کی ترقی کو شامل کیا گیا تھا۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ اورآئی ایم او گرین وائج 2050 ٹیم کے تعاون کے تحت ایک ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے اور اس میں عالمی بینک اوراے آئی ڈبلیو ٹی ڈی ایس کے ممبران شامل ہیں تاکہ ایسے چھوٹے جہازوں کے لیے مناسب متبادل ایندھن تلاش کیا جا سکے اور آسام میں اس طرح کے ایندھن کی دستیابی اور سپلائی نیزبھارت میں اس طرح کے ایندھن پر آپریشن کے لئے ٹیکنالوجیاں دستیاب کرائی جاسکیں۔
این سی او ای جی پی ایس کو علم اور عمل درآمد کرنے والے شراکتدار کے طور پرتوانائی اور وسائل سے متعلق ادارے(ٹی ای آر آئی ) میں رکھا جائے گا اور اس کی قیادت کی جائے گی۔مذکورہ مرکز بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبے کومدد فراہم کرنے کے لئے متعدد تکنیکی ذرائع کا میزبان ہو گا نیز سائنسی تحقیق کے ذریعے صنعت میں درپیش مختلف مسائل کا حل بھی فراہم کرے گا۔ یہ بحری نقل و حمل میں مقامی، علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر قابل قدر تعلیمی، عملی ،تحقیقی ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی کرے گااوریہ مندرجہ ذیل شعبوں پر توجہ بھی مرکوز کرے گا:
- انرجی مینجمنٹ - انرجی مینجمنٹ ٹولز، ویسٹ انرجی ریکوری سسٹم
- اخراج کا انتظام- متبادل، صاف توانائی/ایندھن، اخراج کنٹرول اور نگرانی
- جہاز رانی سے متعلق پائیدارسرگرمیاں - نئی ٹیکنالوجیز اور نقطہ نظر
اس سلسلے میں لئے جانے والے دیگر اقدامات درج ذیل ہیں:
- بھارتی حکومت نے زیر زمین ایندھن کے استعمال کو کم کرنے اور جہاز کے کاموں میں قابل تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی کرنے کے مقصد سے بھارتی بحری جہازوں میں پائیدار حیاتیاتی ایندھن اور اس کی آمیزش کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
- سمندری شعبے کے لیے اخراج میں کمی لانے کے مقصد سے اس کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ، بھارتی ساحل پر کام کرنے والے بحری جہازوں کے لیے سمندری ماحول کے انتظام کی خاطر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا آغاز کیا گیاہے۔ ڈیجیٹل پورٹل سہولیات کے تحت جہازوں کو ایندھن کے تیل کی کھپت،جہازوں کو متوازن کرنے والے وزنی سامان کے تبادلے اورآلودگی سے متعلق تمام معلومات کی آن لائن رپورٹنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے جس میں جہاز سے پیدا ہونے والا سمندری فضلہ،ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک اشیاء وغیرہ شامل ہیں۔
- بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے حال ہی میں میری ٹائم انڈیا ویژن 2030 دستاویز شائع کی ہے۔
***********
ش ح ۔ ش ر ۔ م ش
U. No.57
(ریلیز آئی ڈی: 1888236)
وزیٹر کاؤنٹر : 150