وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

 ماہی پروری  کے وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے اقدامات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 DEC 2022 4:44PM by PIB Delhi

ماہی پروری، جانوروں کی پرورش اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب پرشوتم روپالا نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری دی ہے کہ ، ماہی پروری، حیوانات اور دودھ کی پیداوار کی وزارت، حکومت ہند کا  ماہی پروری کا محکمہ، ‘‘پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی)’’ کے تحت  ماہی پروری  کے وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کی سمت کئی اقدامات کر رہاہے جیسے مصنوعی چٹانوں کا نفاذ، سمندری کھیتی اور دریا کی کھیتی، آبی ذخائر میں مچھلی کے بچوں کی  ذخیرہ کاری  وغیرہ۔اس کے علاوہ خصوصی اقتصادی زون(ای ای زیڈ) میں مانسون اور مچھلیوں کی افزائش کے دوران 61 دنوں کے لیے یکساں سیزن ماہی گیری پر پابندی، جوڑے یا بیل ٹرالنگ پر پابندی اور ماہی گیری میں ایل ای ڈی یا مصنوعی روشنی کے استعمال ۔ نوجوانوں کی ماہی گیری کو روکنے کے لیے ریاستیں/ مرکز کے زیرانتظام علاقے  پائیدار اور ذمہ دار ماہی گیری کے طریقوں کے لیے میرین فشنگ ریگولیشن ایکٹس(ایم ایف آر ایز) وغیرہ کے تحت گیئر میش سائز کے ضوابط کا سختی سے نفاذ جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ برسوں کے دوران ملک میں مچھلی کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2022-2021 کے دوران مچھلی کی اب تک کی سب سے زیادہ پیداوار 162.48 لاکھ ٹن ہوئی ہے، جس میں سمندری شعبے میں مچھلی کی پیداوار میں 37.27 لاکھ ٹن (2020-2019 سے 41.27 لاکھ ٹن (2022-2021) کا اضافہ) ،اور اندرون ملک سیکٹر میں 104.37 لاکھ ٹن (2020-2019) سے 121.21 لاکھ ٹن (2022-2021)  کا اضافہ بھی شامل ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے، کہ قدرتی آفات کی وجہ سے مچھلی کے ذخائر کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں کوئی رپورٹ ، وزارت ماہی پروری،  مویشی پروری  اور ڈیری، حکومت ہند کےمحکمہ ماہی پروری کو موصول نہیں ہوئی ہے۔

*************

 

ش ح ۔س ب ۔ رض

U. No.14453

 


(ریلیز آئی ڈی: 1887042) وزیٹر کاؤنٹر : 131
یہ ریلیز پڑھیں: English , Tamil