سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم میں تبدیلی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 DEC 2022 4:41PM by PIB Delhi
سال 22-2021 سے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت صرف 9ویں اور 10ویں جماعت کے طلبہ کو اسکالرشپ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور دیگر کو پری میٹرک اسکالرشپ کی اسکیم کے تحت 13-2012 میں اسکیم کے آغاز کے بعد سے صرف 9ویں اور 10ویں جماعت کے طلباء کو پری میٹرک اسکالرشپ فراہم کی جارہی ہے۔
سال 23-2022 سے درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے طلباء کو پری میٹرک اسکالرشپ کے تحت ریاستوں کی جانب سے طلباء کو اپنے حصے کی رقم جاری کردینے کے بعد مرکزی حصہ براہ راست مستفیدین کے بینک اکاؤنٹ میں فوائد کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) وسیلے سے جاری کیا جاتا ہے۔ سال 23-2022 سے ایس سی طلباء کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ کے تحت مرکزی حصہ متعلقہ ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تصدیق شدہ ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد ہی جاری کیا جائے گا۔ او بی سی طلباء کے لئے پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کو متعلقہ ریاستی حکومتوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے لاگو کیا جا رہا ہے۔ ہر مالی سال میں اسکیم کے مجموعی سالانہ اخراجات سے تمام ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔
سرکاری اسکولوں میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے اندراج میں پچھلے 3 (تین) سالوں میں تقریباً 1 (ایک) کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان طبقات کے بچوں کو اسکول جانے کی ترغیب دینے کے لیے حکومت مختلف پروگراموں/ اسکیموں مثلاً سمگر شکشا ابھیان، پی ایم پوشن وغیرہ کے تحت مفت تعلیم، مفت یونیفارم اور مفت کھانا وغیرہ فراہم کر رہی ہے۔
اس سے قبل معاشی طور پر کمزور طبقوں کے طلباء کو پری میٹرک اسکالرشپ فراہم نہیں کی جاتی تھی لیکن نظر ثانی شدہ اسکیم میں انہیں نویں اور دسویں جماعت کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ کے لیے بھی غور کیا جا رہا ہے۔
حق تعلیم (آر ٹی ای) ایکٹ، 2009 کے تحت حکومت ہر بچے کو مفت اور لازمی ابتدائی تعلیم (کلاس 1 تا 8) فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مرکزی امداد یافتہ اسکیم سمگر شکشا ابھیان کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہمہ گیر تعلیم کے لیے مختلف سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ان سرگرمیوں میں اعلی ثانوی سطح تک نئے اسکولوں کا افتتاح/ اسکول کی عمارتوں کی تعمیر اور استحکام، اضافی کلاس رومز، نیتا جی سبھاش چندر بوس آواسیہ ودیالیوں کا قیام اور چلانے کا عمل، مفت یونیفارم کی فراہمی، ابتدائی سطح پر اہل طلباء کو مفت نصابی کتابیں، ٹرانسپورٹ الاؤنس اور اندراج برقرار رکھنے کی مہمات شامل ہیں۔ مزید برآں اسکول سے باہر رہنے والے بچوں کے عمر کے مطابق داخلے کے لیے خصوصی تربیت اور بڑے بچوں کے لیے رہائشی اور غیر رہائشی تربیت، موسمی ہاسٹلز/رہائشی کیمپ، کام کی جگہوں پر خصوصی تربیتی مراکز تاکہ اسکول سے باہر بچوں کو رسمی طور پر اسکولی تعلیمی نظام میں لانے میں معاونت کی جاسکے۔ پچھلے 3 (تین) سالوں میں کلاس I تا VIII کے طلباء کے اندراج میں بھی تقریباً 1 (ایک) کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔
سال 23-2022 سے پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم صرف کلاس 9ویں اور 10ویں جماعت کے طلباء کے لیے دستیاب ہے۔
یہ معلومات سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت ڈاکٹر وریندر کمار نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ م ع۔ع ن
(U: 14107)
(ریلیز آئی ڈی: 1885282)
وزیٹر کاؤنٹر : 158