عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت

ملک میں 30 لاکھ سے زیادہ سول ملازمین کو 2023 تک بنیادی سطح پر مو ثر حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کے لئے اے-1  مشین کے سیکھنے، بلاک چین جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے روشناس کرایا جائے گا:مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا بیان


مرکزی وزیر نے نئی دہلی  کے آئی آئی پی اے میں سینٹرل ٹریننگ انسٹی ٹیوشنس اور ریاستی سطح کے انتظامی تربیتی اداروں کے سربراہوں کے لئے اچھی حکمرانی کے واسطے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے متعلق دو روزہ ورکشاپ میں الوداعی اجلاس سے خطاب کیا

وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان کی ترقی کی داستان بڑی حد تک  آدھار ڈی بی ٹی ، یو پی آئی اور جے اے ایم تثلیث جیسی ٹیکنالوجی کو  حکمرانی میں اپناکرآگے بڑھ رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

Posted On: 21 OCT 2022 5:35PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت آزادنہ چارج ،ارضیاتی سائنسز کے وزیر مملکت آزادانہ چارج، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت  عملے عوامی شکایات ،پنشن ،ایٹی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ سال 2023 تک ملک میں 30 لاکھ سے زیادہ سرکاری افسروں کو تربیت دی جائے گی اور بنیادی سطح پر موثر حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کے لئے مصنوعی ذہانت مشین ، لرننگ ،بلاک چین وغیرہ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے گا۔آج آئی آئی پی اے میں سینٹرل ٹریننگ انسٹی ٹیوشنس اور ریاستی سطح کے انتظامی تربیتی اداروں کے سربراہوں کے لئے اچھی حکمرانی کی خاطر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے متعلق دو روزہ ورکشاپ میں اپنے الوداعی خطاب کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ٹی آئیز ،اے ٹی آئیز اور  آئی گوٹ-ایم کے (مربوط سرکاری آن لائن  تربیت کرم یوگ) کے ذریعہ جدید ٹیکنالوجیوں نیز مصنوعی ذہانت 30 لاکھ سے زیادہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے افسروں تک پہنچائی جائے گی۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001S2Z4.jpg

 

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ودھوانی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ پالیسی کے ساتھ صلاحیت سازی کمیشن کے ہمراہ  25 مرکزی تربیتی ادارے، 33 ریاستی سطح کے انتظامی تربیتی ادارے اور دیگر سول سروس کے تربیتی ادارے  اس نابل مشن کے حصول کو مشترکہ طور پر حاصل کریں گے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ جی ایس ٹی اور انکم ٹیکس ریٹرن میں دھوکہ دہی کا پتہ لگا سکتی ہے، ریکارڈ اور سرٹیفکیٹس کو محفوظ کرنے کے لیے بلاک چین اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی تجزیات کے استعمال کے ذریعے کی جا سکتی ہے اور انہوں نےکہا کہ  سول ملازمین  آئے دن کے کام اور انتظامیہ میں   ان تکنیک  کو جلد استعمال کریں گے ۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ترقی کی  داستان  بڑی حد تک  حکمرانی میں ٹیکنالوجی کو اپنانے سے چلتی ہے،چاہے  ٹیکہ لگانے کے لئے آدھار کا استعمال ہو اور مشکل علاقوں میں ڈرون کے ذریعہ ویکسین کی فراہمی  ہو یا جے اے ایم (مختصر جن دھن-آدھار- موبائل) یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) ڈی بی ٹی کے ذریعہ سرکاری سبسڈیز کے رساؤ کو روکنے کے لیے ہندوستانیوں کے جن دھن اکاؤنٹس، موبائل نمبرز اور آدھار کارڈز کو جوڑنے کے لیے موبائل ہو۔ وزیر نے کہا کہ کسی کو ایس اینڈ ٹی کے شعبے میں نئی ​​پیش رفت کے لیے کھلا رہنا چاہیے اور ہمیشہ نئی سائنس کی تلاش میں رہنا چاہیے جو ہمارے کام اور نتائج کو بہتر بنا سکے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002LFKB.jpg

 

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے  حکمرانی میں جدت  طرازی یا اختراع متعارف کرائی ہے اور اسے ٹیکنالوجی پر مبنی بنایا ہے اور 11 نومبر 2022 کو دوسری اقوام متحدہ کی عالمی جیو اسپیشل انفارمیشن کانگریس-2022 میں اپنے بیان میں حوالہ دیا تھا جس میں انہوں نے کہاتھا کہ ٹیکنالوجی اور ہنر۔ ملک کی ترقی کے سفر کے دو ستون ہیں وزیر اعظم نے ملک میں شمولیت کے ایجنٹ کے طور پر ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ غیر یقینی صورتحال اور حکمرانی کے بدلتے ہوئے مسائل کے دور میں ٹیکنالوجی ہمارے  لئے ایک اہم  وسیلہ ہے اور وسیلہ رہے گی ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان جیسی بڑی اور متنوع ملک کے لیے ٹیکنالوجی اپنانا ضروری ہے تاکہ  حکمرانی کی دور تک رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ وزیرموصوف نے وضاحت کی کہ حکومت اگرچہ ٹیکنالوجیز کے استعمال اور فروغ کے درمیان ایک  اہم توازن کا کردار ادا کرتی ہے، لیکن یہ انتہائی اہم ہو جاتا ہے کہ پیش پیش رہنے والے  فیصلہ ساز یعنی - سول سرونٹ مصنوعی ذہانت ،مشین لرننگ اور ڈیٹا ،تجزیوں جیسے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کی صلاحیتوں اور خامیوں کا صحیح معنوں میں ادراک کریں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین سے کسی بھی شعبہ میں سائنسدان یا ڈویلپر بننے کی توقع نہیں کی جاتی ہے بلکہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کو کیسے، کیوں اور کہاں استعمال کیا جائے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے بارے میں جو کورس آپ سب شروع کر رہے ہیں وہ ایک ہی نقطہ نظر کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے اور آپ نے جو آٹھ ڈومینز شروع کیے ہیں وہ وہ ہیں جنہیں موجودہ دور کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سمجھا جاتا ہے اس کورس میں مندرجہ ذیل کلیدی  نوعیت کی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔جن میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور ڈیپ  لرننگ، کمپیوٹر ویژن، نیچرل لینگویج پروسیسنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز،اگمینٹڈ ریئلٹی اور ورچوئل رئیلٹی، ڈیٹا اینالیٹکس، ڈرونز اور بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں (یو اے وی) اور بلاک چین شامل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نشاندہی کی کہ جب ٹیکنالوجی کی تعلیم کی بات آتی ہے تو ملک اور اس کے شہری تیزی سے اس میں شرکت کررہے ہیں۔اسکولوں میں بچوں کو کوڈنگ اور روبوٹکس سکھایا جاتا ہے اور افرادی قوت کی ہر لہر کے ساتھ ٹیکنالوجی کی سطح صرف اونچی ہوتی جارہی ہے۔ اس طرح ’سماز‘ اور’بازار‘ پہلے سے ہی اپ گریڈ ہو رہے ہیں وزیر موصوف نے کہا  اگر ’سرکار‘، جو دونوں کے لیے فعال کردار ادا کرتی ہے، کو ایک ہی سطح پر آجاناچاہیے تاکہ موثر حکمرانی کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔

***********

 

ش ح ۔  ح ا ۔ م ش

U. No.11845



(Release ID: 1870911) Visitor Counter : 124


Read this release in: English , Hindi , Marathi