وزارت دفاع

سرگرم نجی شراکت داری  کے ساتھ  بھارت کو بدلتے وقت کے مطابق نئے اہداف طے کرنے  ہوں گے؛آر اینڈ ڈی ،جو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کی کلیدہے: دفاعی نمائش 2022 کے دوران ڈی آر ڈی او کے سیمینار میں وزیر دفاع کا بیان


جناب راج ناتھ سنگھ نے نجی سیکٹر کو حکومت کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے اور مسلح افواج کو جدید بنا کر قوم کی تعمیر میں تعاون دینے   کی تلقین کی

Posted On: 20 OCT 2022 1:21PM by PIB Delhi

بھارت کو تحقیق اور ترقی، نجی شعبے کی سرگرم شراکت داری کے ساتھ،مسلسل ابھرتے ہوئے عالمی منظر نامے کے مطابق نئے اہداف کا تعین کرنا چاہیے جو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درکار تیاری کو حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ یہ بات وزیر دفاع  جناب راج ناتھ سنگھ نے 20 اکتوبر 2022 کو گجرات کے گاندھی نگر میں 12ویں دفاعی نمائش کے ایک حصے کے طور پردفاعی تحقیق اور ترقی سے متعلق تنظیم  (ڈی آر ڈی او) کے زیر اہتمام’آتم نربھر تا دفاع آر اینڈ ڈی –  سینرجسٹک اپروچ‘  کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے حکومت کے ذریعہ  کئے گئے  مختلف  پالیسی اصلاحات   کی ایک فہرست پیش کی تاکہ  دفاعی  جیسے اہم  شعبے میں مستقبل  کے سکیورٹی سے متعلق  چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کے لیے دفاع جیسے اہم  شعبے میں ’آتم نربھرتا‘ حاصل کی جاسکے۔ انہوں نے دفاعی نمائش  2022 کی افتتاحی تقریب کے دوران وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ذریعہ 101  دیسی  اشیاء کی چوتھی مثبت مقامی فہرست کے اعلان کا خصوصی  طور پر ذکر کیا اور اسے ایک بڑے فخر کی بات قرار دیتے ہوئے کہ اب گھریلو دکانداروں سے 400 سے زیادہ دفاعی اشیاء خریدی جائیں گی۔

وزیر دفاع نے دفاعی آر اینڈ ڈی  بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ صنعت کی قیادت میں آر اینڈ ڈی  کے لیے وقف کرنے کے فیصلے کے بارے میں بھی کہا کہ یہ صرف چند ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے ایک مضبوط خود انحصاری والی  دفاعی صنعت کی بنیاد رکھی ہے، جو کہ مسلح افواج  کو جدید ترین ہتھیاروں/سامان سے  آراستہ کرنے کے لیے کافی ہے۔  انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نجی شعبے کی سرگرم شمولیت سے مسلح افواج قوم کو درپیش سلامتی سے متعلق  چیلنجوں  سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں گی۔

"بھارت  نے دفاع میں آر اینڈ ڈی  کے خود کفالت کے سفر کا آغاز کیا ہے۔ نجی شعبہ ہمیں اس منزل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سرکاری اور نجی  شعبے دونوں ایسے پہیے ہیں، جن کے ساتھ آر اینڈ ڈی  کی گاڑی مکمل خود انحصاری کی سمت بڑھے گی۔ ‘‘ جناب راجناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اور صنعت کی مشترکہ کوششوں سے، ہم وزیراعظم کے ’میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘ کے ویژن کو پورا کریں گے۔

وزیر دفاع نے بھارت کے ’آتم نربھرتا‘ کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے صنعت،تعلیم  اور دفاعی تحقیق اور ترقی کی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے میں ڈی آر ڈی او  کے ذریعے ادا کیے گئے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف مستقبل کی اور اپنی نوعیت کی پہلی اختراعات اور ٹیکنالوجیاں تیار کرکے مسلح افواج کی صلاحیت کو بڑھانے میں تعاون دینے کے لیے ڈی آر ڈی او کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تنظیم اب دفاعی آر اینڈ ڈی  کے لیے واحد سروس فراہم کرنے والا  نہیں ہے ، بلکہ اندرون ملک آر اینڈ ڈی اور نجی شعبے کے لیے یہ تنظیم ایک سہولت کار بن گئی ہے۔

اس موقع پر، جناب راج ناتھ سنگھ نے 'ڈیر ٹو ڈریم 3' کے فاتحین کو مبارکباد پیش کی اور بھارتی سائنسی برادری کے ذریعے اختراع کی حوصلہ افزائی کے لیے 'ڈیئر ٹو ڈریم 4' مقابلہ شروع کیا۔ انہوں نے ڈیئر ٹو ڈریم 3 کے جیتنے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ مقابلہ افراد اور اسٹارٹ اپس میں نئے نظریات  اور اختراعی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔

وزیر دفاع نے تعلیمی اداروں اور نیول انوویشن اینڈ انڈیجنائزیشن آرگنائزیشن (این آئی آئی او)، ہندوستانی بحریہ کے ساتھ ڈی آر ڈی او انڈسٹری – اکیڈمیاں – سینٹرز آف ایکسی لینس (ڈی آئی اے – سی او ای ایس) کی قیام کے لیے مفاہمت ناموں پر دستخط کئے جانے کی  کارروائی کی بھی صدارت کی۔ تعلیمی اداروں میں آئی آئی ٹی روڑکی، آئی آئی ٹی جودھپور، آئی آئی ٹی حیدرآباد، آئی آئی ٹی کھڑگپور، آئی آئی ٹی کانپور، آئی آئی ٹی بی ایچ یو اور بھارتیہ یونیورسٹی شامل ہیں۔ یہ مراکز شناخت شدہ مضامین میں ملک کے لیے تحقیقی نوڈس کے طور پر کام کرتے ہیں، جو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے لیے تعمیراتی بلاکس ہیں۔ تعلیمی اداروں کے ساتھ مفاہمت نامے ،دفاع میں جدید تحقیق کے لیے توجہ مرکوز کرنے والے شعبوں میں کام شروع کریں گے۔ طویل مدتی اور قلیل مدتی تحقیقی شعبوں کو متوازن کیا جائے گا ،تاکہ موجودہ ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز کی بنیاد رکھی جا سکے۔

اس کے علاوہ، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے روٹری ونگ ریسرچ اینڈ ڈیزائن سینٹر ڈویژن اور  ایم/ ایس ایکارڈ سسٹمز اینڈ سافٹ ویئر کو ڈیزائن تنظیمی منظوری کے سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔  ماحولیاتی نظام کے تمام متعلقہ  فریقوں  کے فائدے کے لیے دفاع کے وزیر مملکت جناب  اجے بھٹ کی طرف سے انسانی بھروسے کے عوامل اور انسانی بھروسے کی تشخیص سے متعلق رہنما خطوط جاری کیے گئے۔ ڈی آر ڈی او کے سابق سائنسدانوں کے تصنیف کردہ دو مونوگراف بھی دفاع کے وزیر مملکت کے ذریعہ جاری کئے گئے۔ اس موقع پر  تنظیموں کی منظوری سے متعلق  ڈیزائن اسکیم سرٹیفکیٹ بھی صنعتوں کو دئیے گئے۔

جناب راج ناتھ سنگھ کی طرف سے ’’ڈی آر ڈی او، وزارت دفاع (2014-2022) کی 8 سالہ اہم کامیابیوں کی حصولیابیوں‘‘  کے عنوان سے ایک کتاب بھی جاری کی گئی۔ مذکورہ کتاب میں ڈی آر ڈی او کی مختلف کامیابیوں پر مشتمل ہے ، جس میں بڑی پہل ، پروازوں کی مشق، ٹی او ٹی ایس،  ڈی آر ڈی او - صنعت- تعلیم کی شراکت داری وغیرہ کی مختصر تفصیل بیان کی گئی ہے۔

دوسرے اجلاس کی صدارت ڈی ڈی آر اینڈ ڈی کے سکرٹری ڈاکٹر سمیر وی کامت نے کی،  جس میں دفاعی آر اینڈ ڈی کے تمام متعلقہ فریقوں کے ذریعہ پریزنٹیشنز  دی گئیں ۔ وزیر دفاع کے سائنسی مشیر ڈاکٹر جی ستیش ریڈی نے پینل مباحثوں کی صدارت کی۔ سیمینار میں عہدے  پر فائز  معزز سینئر افسران، وزارت دفاع کے افسران، آئی آئی ٹی ڈائریکٹرز، صنعت کے نمائندے، ماہرین تعلیم، ڈی آر ڈی او کے سائنسدان اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PIC3(2)M90V.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PIC5(1)YOKP.jpg

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح- ش ر- ق ر)

U-11700



(Release ID: 1869919) Visitor Counter : 101


Read this release in: English , Hindi , Telugu