ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

  سی اے کیو  ایم نے این سی آر میں گیس کے بنیادی ڈھانچے پی این جی/ سی این سی/ مربوط کاری  کو شروع کرنے کی پیش رفت کا جائزہ لیا


این سی آر میں صاف ستھرے ایندھن کو اپنایا جانا  سی اے کیو ایم - کے لیے ایک ترجیح

سی اے کیو ایم نے  سی جی ڈیز کو بنیادی ڈھانچے کے کام کو تیز کرنے کے لئے ہدایات دیں

این سی آر میں 74.5 فیصد صنعتی علاقوں نے گیس  مربوط کاری اور انفراسٹرکچر حاصل کرلیا  ہے

ستمبر 2023 تک تمام صنعتی علاقے گیس کے بنیادی ڈھانچے سے منسلک ہو جائیں گے:سی جی ڈی

منظور شدہ ایندھن کی فہرست این سی آر میں  یکم جنوری 2023 سے مکمل طور پر نافذ ہوگی

Posted On: 07 OCT 2022 5:26PM by PIB Delhi

این سی آر اور ملحقہ علاقوں میں ہوا کے معیار کے انتظام کے کمیشن (سی اے کیو ایم) نے آج این سی آر کے گیارہ (11) سٹی گیس ڈسٹری بیوٹرز (سی جی ڈی) اور پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت (ایم او پی این جی) کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کی تاکہ   نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) کے اضلاع میں گیس کے بنیادی ڈھانچے پی این جی/ سی این جی/ مربوط کاری کےآغاز کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے ۔ صنعتی سرگرمیوں اور گاڑیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے لڑنے کی مجبوری کی ضرورت پر غور کرتے ہوئے، سی اے کیو ایم  نے اگلے موسم سرما  کے سیزن سے پہلے پورے این سی آر میں گیس کے بنیادی ڈھانچے کا تیز رفتار آغازکرنے کی ہدایت دی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق، پورے این سی آر کو 24 جی اے میں تقسیم کیا گیا ہے اور اسی کو 11 سی جی ڈی میں تقسیم کیا گیا ہے۔11 سی جی ڈیز ان کو الاٹ کردہ   گیس کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ 11 سی جی ڈیز مندرجہ ذیل ہیں:

نمبرشمار

کمپنی کا نام

مجاز جغرافیائی علاقے (جی ایز)

1.

اندرپرستھ گیس لمٹیڈ(7)

  1. این سی ٹی آف دہلی
  2. , گوتم بدھ نگر
  3. غازی آباد اور ہاپور
  4. میرٹھ(ای اے اے اے) مظفر نگر اور شاملی
  5. گروگرام
  6. کرنال
  7. ریواڑی

2.

اڈانی ٹوٹل گیس لمٹیڈ (4)

  1. خورجہ
  2. فریدآباد
  3. بھیوانی چرخی دادری اور مہیندر گڑھ
  4. نوح اور پلول

3.

گیل گیس لمٹیڈ(3)

  1. میرٹھ
  2. تاج ٹریپزئم زون
  3. سونی پت

4.

  انڈین آئل اڈانی گیس پرائیویٹ لمٹیڈ(3)

  1. پانی پت
  2. بلند شہر(پارٹ) ڈسٹرکٹ
  3. بلند شہر(ای اے اے اے)، علیگڑھ اور ہاتھرس

5.

ایچ پی سی ایل(1)

.i سونی پت( ای اے اے اے) اور جند

6.

بی پی سی ایل(1)

.i روہتک

7.

باغپت گرین انرجی پرائیویٹ لمٹیڈ(1)

.i باغپت

8.

ٹورینٹ گیس پرائیویٹ لمٹیڈ (1)

.i الور(بھیواڑی کے علاوہ) اور جے پور

9.

ہریانہ سٹی گیس ( کے سی ای)  پرائیویٹ لمٹیڈ (1)

.i جھجر

10.

ہریانہ سٹی گیس ڈسٹریبیوشن لمٹیڈ (1)

.i گروگرام

11.

ہریانہ سٹی گیس ڈسٹریبیوشن (بھیواڑی) لمٹیڈ (1)

.i بھیونڈی(الور ضلع میں)

این سی آر میں کل 240 صنعتی علاقے ہیں جن میں سے 74.5 فیصد صنعتی علاقوں (179 صنعتی علاقوں) میں گیس کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر  کا ہدف حاصل کیا جاچکا ہے۔ این سی آر میں 963 سی این جی اسٹیشن ہیں۔ 22,24,055 گھریلو پی این جی کنکشن؛ 5,185 کمرشل پی این جی کنکشن؛ اور 5,361 صنعتی  کنکشنز ہیں۔

این سی آر میں صنعتوں کا ‘‘منظور شدہ" صاف ایندھن بشمول پی این جی کی سمت میں پیش رفت کرنا ،سی اے کیو ایم  کے لیے ایک ترجیح ہے۔ کمیشن نے پہلے ہی این سی آر کی ریاستی حکومتوں کو این سی آر سے کوئلے کے استعمال کا  مرحلہ وار خاتمہ کرنے  اور یکم جنوری 2023 سے (تھرمل پاور پلانٹس کے علاوہ)  کوئلے کے استعمال سے مکمل طور پر گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عملاً، منظور شدہ ایندھن کی فہرست پورے این سی آر  میں یکم جنوری 2023 سےپوری طرح سے نافذ ہوگی۔

*************

 

ش ح۔  س ب ۔ رض

U. No.11230



(Release ID: 1866401) Visitor Counter : 89


Read this release in: English , Hindi