سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
حکومت کا مقصد سال 2030 تک تحقیقی نتائج کے معیار کے اعتبار سے ہندوستان کو چوٹی کے پانچ ملکوں میں شامل کرنا ہے:مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا بیان
Posted On:
28 JUL 2022 2:32PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت آزادانہ چارج، ارضیاتی سائنسز کے وزیر مملکت آزادانہ چارج ، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ، عملے عوامی شکایات ،پنشن ایٹمی توانائی اور خلا ء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نےکہا ہے کہ حکومت کا مقصد سال 2030 تک تحقیقی نتائج کے معیار کے اعتبار سے ہندوستان کو چوٹی کے پانچ ملکوں میں شامل کرنا ہے۔
راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قومی سائنس ،ٹیکنالوجی اور اختراعی پالیسی 2022 (ایس ٹی آئی پی 2022) کے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعی ماحولیاتی نظام تعمیر کرکے سال 2030 تک تحقیقی نتائج کے معیار کے اعتبار سے ہندوستان کو چوٹی کےپانچویں مقام تک پہنچانا ہے ۔
حکومت نے قومی سائنس ،ٹیکنالوجی اور اختراعی پالیسی 2022 کے مسودہ کے حصہ کے طور پر اور اس سمت میں بہت سے اقدامات کئے ہیں ۔ جاری تحقیق و ترقی کے پروگراموں کےدائرے کو سعت دینے اور انہیں مضبوط کرنے کے علاوہ اس مسودہ پالیسی کے اہم عناصر میں جن کا مقصد تحقیقی نتائج کے معیار کوآگے بڑھانا ہے ،اداروں اور صنعت میں گہری تحقیق کے سازگار کلچر کی تخلیق شامل ہے تاکہ خلل ڈالنے والی اورمعلوماتی دریافت اور اختراعات کے ساتھ ساتھ تفسیر ی تحقیق کو آگے بڑھایا جاسکے۔ تحقیق اور اختراعی مہارت کےفریم ورک کے نتائج اور اثرت کو تسلیم کرنے کے لئے بنچ مارکنگ میکانزم قائم کرنے کی خاطر اس کے معیار کے حوالے سے معاشرے اور قومی ضروریات پر با معنی اثرات سے مطابقت: پروڈکٹس ،پروسیس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو تعاون دینے کے لئے مصروف تحقیق جو کہ ابتدائی مرحلے سے ہی اختتامی صارف کی مصروفیت، جانچ اور تاثرات کو شامل کرتی ہے۔ تحقیقی ماحولیاتی نظام میں بہترین ٹیلنٹ کو راغب کرنے کے لیے پلیٹ فارمز کی تخلیق، کیریئر کے ابتدائی محققین اور نوجوان سائنسدانوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے رہنمائی کے پروگرام اور ضمنی ترغیباتی میکانزم تیار کرنا، ہندوستانی سائنس کو عالمی سطح پر زیادہ اہمیت والا بنانا ،دکھائی دینے والا اور اثر انگیز بنانے کے لیے بین الاقوامی ایس اینڈ ٹی اشتراک میں فعال مشغولیت، تمام محققین اور اداروں کو معلومات اور ڈیٹا تک کھلی رسائی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک قومی ایس ٹی آئی آبزرویٹری کا قیام شامل ہے۔
محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے شائع کردہ تحقیق و ترقی کے اعدادوشمار کے مطابق، ملک میں سرگرم خواتین سائنسدانوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سال
|
2000
|
2005
|
2010
|
2015
|
2018
|
نمبر
|
11,304
|
19,707
|
27,532
|
39,388
|
56,747
|
تحقیق و ترقی کی کل افرادی قوت کی اوسط
|
(12%)
|
(12.7%)
|
(14.3%)
|
(13.9%)
|
(16.6%)
|
ایس ٹی آئی پی 2022 کے مسودے میں 2030 تک سائنس میں خواتین کی 30فیصد شرکت کا تصور کیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے کچھ اہم اقدامات میں شامل ہیں: جن میں خواتین سائنسدانوں اور ٹیکنولوجسٹ کو مواقع فراہم کرنے کے لیے خواتین سائنسدانوں بالخصوص ڈی ایس ٹی کی اسکیمیں ، خاص طور پر ان لوگوں کو جن کا اس کے تین اہم شعبوں میں کیرئیر بنایا ۔ i) خواتین سائنسدانوں کی اسکیمیں ڈبلیو ا و ایس ( بنیادی اور اپلائیڈ سائنسز میں تحقیق کرنے کے لیے، ii) تحقیق کے لئے خواتین سائنسدانوں کی اسکیم-بی –ڈبلیو او ایس) جس میں سماجی فائدے کے لیے ایس اینڈ ٹی کا طریقہ کار شامل ہے۔ ، اور iii) دانشورانہ املاک حقوق میں انٹرشپ میں خواتین سائنسدانوں کی اسکیم سی – ڈبلیو او ایس) ۔ ’خواتین یونیورسٹیوں میں جدت اور مہارت کے ذریعہ یونیورسٹی کی تحقیق کا استحکام(سی یو آر آئی ای)تحقیق و ترقی کی سرگرمیں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لئے خواتین کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کی بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لئے ٹی ایس ٹی کے پروگرام کو تعاون فراہم کرنا ۔وگیان جیوتی ایک نیا پروگرام ہے تاکہ نویں سے بارہویں جماعت کی ہونہار طالبات کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعلیم اور کیریئر کے حصول کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں خواتین کی نمائندگی کم ہے۔ایک اور نئی پہل ’جینڈر ایڈوانسمنٹ فار ٹرانسفارمنگ انسٹی ٹیوشنز (جی اے ٹی آئی)‘ کا مقصد (سائنس، ٹیکنالوجی انجینئرنگ، ریاضی اور طب) (ایس ٹی ای ایم ایم) میں صنفی مساوات کو بہتر بنانے کے حتمی مقصد کے ساتھ زیادہ صنفی حساس نقطہ نظر اور جامعیت کے لیے اداروں میں تبدیلی لانا ہے۔’سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ ،ریاضی اور طب پروگرام میں خواتین کے لئے ہند۔ امریکی فیلو شپ خواتین سائنسدانوں اور ٹیکنالوجسٹ کو مواقع فراہم کرتا ہے تاکہ 3 سے 6 ماہ کے لئے امریکہ میں اہم اداروں میں بین الاقوامی اشتراک پر مبنی تحقیق کو انجام دیا جاسکے۔کھوجی تحقیق میں خواتین کے لئے مواقع کو فروغ دینے کے عنوان سے ایک اسکیم حال ہی میں شروع کی گئی ہے تاکہ ہندوستانی تعلیمی اداروں اور ریسرچ اور ترقی کی لیبارٹریوں میں مختلف ایس اینڈ ٹی پروگراموں میں سائنس اور انجینئرنگ فنڈنگ میں صنف عدم مساوات کو کم کیا جاسکے ۔یہ اسکیم ایس ای آر بی پی او ڈبلیو ای آر کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔
***********
ش ح ۔ ح ا۔ م ش
U. No.11102
(Release ID: 1865553)
Visitor Counter : 121