الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

بھارت کو عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کو پورا کرنے کی سمت میں پیگاٹران پلانٹ نے  ایک اور بڑی حصولیابی پیش کی: الیکٹرانکس اور آئی ٹی کے وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر


مرکز اور ریاستی حکومتیں ٹیم انڈیا کی شکل میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں 300 ارب امریکی ڈالر اور 10 کھرب  ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے

شراکت داری کر سکتے ہیں

​​​​​​​مرکز کی پی ایل آئی اسکیم ریاستوں کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے اہم منزل بننے میں مدد کر سکتی ہے

Posted On: 30 SEP 2022 2:08PM by PIB Delhi

الیکٹرانکس و  اطلاعاتی ٹکنالوجی  اور  ہنر مندی کے فروغ اور انترپرینیورشپ کے مرکزی وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر نے کہا ہے کہ آج چنئی کے قریب چنگلاپٹو میں پیگاٹران موبائل مینوفیکچرنگ سینٹر کے افتتاح کے ذریعہ جناب  نریندر مودی  جی کے بھارت  کو  عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا ہب بنانے کے وژن کو پورا کرنے میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001P5GP.jpg

 

اس مینوفیکچرنگ ہب کے افتتاح کے موقع پر بات کرتے ہوئے، جناب چندر شیکھر نے کہا، ’’یہ مینوفیکچرنگ ہب  ہندوستان کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں موجودہ 75 ارب امریکی  ڈالر سے 300 ارب امریکی ڈالر کے ہدف کو حاصل کرنے   میں مدد کرنے کے لئے مرکز اور ریاستوں کے درمیان  شراکت داری  کی علامت ہے۔‘‘

چنئی کے نزدیک  چنگلا پٹو میں ایک صنعتی پارک میں مرکز کی مقبول پیداوار سے منسلک ترغیباتی اسکیم (پی ایل آئی) کے تحت  تائیوان  کی اہم  الیکٹرانکس کمپنی کے ذریعہ یہ پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ کس طرح  پی ایل آئی  اسکیم نے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ میں بڑا رول ادا کیا ہے اور اس نے مختصر وقت میں 6500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے اور تنہا  تمل ناڈو میں 40,000 سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کئے ہیں۔

جناب چندر شیکھر نے وزیر اعظم کےمرحلہ وار مینوفیکچرنگ پروگراموں (پی ایم پی) اور پی ایل آئی  جیسی  منصوبہ بند اسکیموں کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ ان  اسکیموں نے موبائل فون مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا، "سال 16-2015 میں ہندوستان سے موبائل فون کی برآمدات تقریباً صفر کے برابر تھی۔ لیکن اب یہ برآمد تقریباً 50,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس سےپہلے ہندوستان موبائل فون کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔ اس کے برعکس، آج ہندوستان میں استعمال کئےجانے والے 97 فیصد موبائل فون گھریلو مینوفیکچرنگ کے ذریعہ بنائے گئے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002GDW2.jpg

 

عالمی معیشت پرکووڈ وبا کے اثر کا ذکر کرتے ہوئے، جناب  چندر شیکھر نے کہا،  ’’ کووڈ وبا  سبھی  ممالک کے لیے  یکساں  چیلنج لے کر آئی تھی لیکن جس طرح سے ہندوستان نے اس  کا مقابلہ کیا،  اس سے ہم نے عالمی سطح پر اثر و رسوخ قائم کیا  اور عزت حاصل کی۔ ہم کووڈ وبا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سال  2026 تک دس کھرب ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت بننے کے لیے پرعزم ہیں۔ "میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ" کے وژن کے ساتھ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ٹیم انڈیا کے طور پر  ریاستی اور  اور مرکزی حکومتیں شراکت دار ہوسکتی ہیں۔ ‘‘

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پیگاٹران ٹیکنالوجی انڈیا کے  چیئرمین جناب چینگ جیان جونگ نے کہا کہ پیگاٹران کے لئے  ہندوستان میں آنا ایک غیر معمولی سفر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، " ہم حکومت ہند اور تمل ناڈو  حکومت کے فراہم کردہ  تعاون سے کافی خوش ہیں۔"

تمل ناڈو کے وزیر اعلی جناب ایم کے اسٹالن، تمل ناڈو حکومت کے چھوٹی ،بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت کے وزیر  جناب ٹی ایم۔ امبرسن، پیگاٹران ٹکنالوجی انڈیا کے  منیجنگ ڈائریکٹر جناب لن چیوٹین کے علاوہ محترمہ  ڈینس یاو، سینئر نائب صدر پیگاٹران کارپوریشن، جناب  کوو شنگ جنگ، سی ای او پیگاٹران ٹیکنالوجی انڈیا بھی اس موقع پر موجود تھے۔

 

************

 

 

ش ح ۔ ف ا  ۔  م  ص

 (U: 10884)



(Release ID: 1864018) Visitor Counter : 105


Read this release in: English , Hindi , Telugu