بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم ایس ایم ایزشعبے کے لئے چھوٹ پرمبنی پیکج

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 AUG 2022 2:28PM by PIB Delhi

چھوٹی  ، بہت چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کے وزیر مملکت  جناب بھانو پرتاپ سنگھ ورما نے آج راجیہ سبھا  میں ایک  تحریری  جواب میں  بتایا کہ حکومت نے کوو ڈ -19 بحران سے نمٹنے کے لئے آتم نربھر بھارت  پیکج کا اعلان کیا تھا تاکہ ایم ایس ایم ایز کواس پیکج کے ضمن  میں مددفراہم کی جاسکے ۔اس پیکج میں دوسری چیزوں کے علاوہ درج ذیل بڑی اسکیمیں شامل ہیں۔

  1. ایمرجنسی  کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم ( ای سی ایل جی ایس) : مئی 2020 میں  آتم نربھر بھارت کے پیکج کے ایک حصے کے طورپراس اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ ایم ایس ایم ایزسمیت   دیگر  کاروبار کے لئے  مفت  ضمانتی خودکار  قرض  کی فراہمی کی جاسکے ۔شروعات میں  گارنٹی کی  قابل قبول حد تین لاکھ کروڑروپے تھی جسے بعد میں  بڑھاکر 4.5 لاکھ کروڑ روپے کردیا گیا۔ 23-2022 کے بجٹ کے اعلامیہ کے مطابق   5 لاکھ کروڑروپے کے گارنٹی کور  میں توسیع  کے ساتھ ای سی ایل جی ایس   کو  مارچ  2023 تک بڑھادیا گیا ہے۔50000 کروڑروپے کے اضافی گارنٹی کور کو خصوصی طور پر ہاسپیٹلٹی  اور متعلقہ  تجارتی شعبوں  کے لئے مختص کیا گیا ہے۔
  2. خودانحصار بھارت ( ایس آر آئی ) فنڈ : حکومت  ہند نے خودانحصار بھارت ( ایس آر آئی ) فنڈ نامی اسکیم کے ساتھ مئی  2020 میں  آتم بربھر بھارت   پیکج کے ایک حصےکے طورپر فنڈ آف  فنڈز  کااعلان کیا ہے تاکہ چھوٹی ، بہت چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں   میں سرمایہ کاری کے لئے مالی معاونت   کی جاسکے ۔جن صنعتوں میں آگے بڑھنے اور بڑی یونٹس  بننے کی صلاحیت ہے۔اس پہل کامقصد ایم ایس ایم ایزشعبےکےمستحق اور اہل یونٹس کی ترقی کے لئے سرمایہ فراہم کرنا ہے ۔
  3. ذیلی قرض  کی کریڈٹ گارنٹی اسکیم  (سی جی ایس ایس ڈی ) مئی  2020 میں آتم نربھر بھارت پیکج کے ایک حصے کے طورپر اس اسکیم کا اعلان اس خیال کےساتھ کیا گیا تھا کہ  مالی خسارے میں مبتلا ایم ایس ایم ایزیعنی  ایس ایم اے  -2 اوراین پی اے اکاؤنٹس  کے پروموٹرس   کو قرض کی سہولت فراہم کی جائے ، جو قرض دینے والے اداروں کی شرطوں  پر آر بی آئی کی رہنما ہدایات کے مطاق قرض حاصل کرنے کے اہل ہیں۔اس اسکیم کے تحت  پروموٹر  نیم اکیوٹی یا ذیلی قرض  کے طورپر چھوٹی ، بہت چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوںمیں   قرض   سے حاصل  رقومات  کوخرچ  کرنے کے اہل ہیں۔

ایم ایس ایم ای کی وزارت نے 7ستمبر 2021 کو اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا ( ایس آئی ڈی بی آئی ) کو ایک مطالعے کی ذمہ داری سونپی تھی تاکہ اس شعبے سے متعلق   ایم ایس ایم ای  کی درجہ بندی میں تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔ مذکورہ مطالعے کے حوالہ جات   کی شرائط  میں دوسری چیزوں کے علاوہ ایم ایس ایم ای کے شعبے میں   کووڈ-19  وباسے متاثر اثرات کے جائزے کو  بھی شامل کیا گیا ہے۔اس  مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ  تقریباََ  65فیصدایم ایس ایم ایز کا سروے کیا گیا اور  ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم  کے فوائدحاصل کئے گئے ہیں۔

          جیسا کہ مالیاتی خدمات کے محکمے (ڈی ایف ایس ) نے بتایا ہے کہ بینک  مینجمنٹ کے قومی ادارے   ، این او ایم یو آر اے  اور  ٹرانس یونین سی آئی بی آئی ایل  کے توسط سے سی ایل جی ایس  کے ذریعہ   ایم ایس ایم ایز کی مددکےاثرات کا جائزہ لینے کے لئے مطالعہ کرایا گیا ہے۔مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ ای سی ای ایل جی ایس کے تحت آسانی سے  اور کفایتی لاگت میں  قرض  حاصل کئے گئے اور یہ قلیل مدتی مالیاتی ضروریات کو   پورا کرنے کے لئے مددگاراور نقد لین دین میں  آسانی ہوئی ہے۔ یہ اسکیم  بحران سے نکلنے کے لئے ایم ایس ایم ای کے شعبے کو مددکرنے میں  کامیاب رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا   (ایس  بی آئی ) نے مورخہ 6 جنوری  2022 کو ای سی ایف جی ایس سے متعلق   ایک تحقیقاتی رپورٹ  پیش کی ہے،جس کو گروپ کے  چیف  اقتصادی مشیر  کی  طرف سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباََ 3.5 لاکھ ایم ایس ایم ایز اکاؤنٹ   ای سی ایل جی ایس  اسکیم   (بحالی سمیت ) کی وجہ سے  محفوظ  کئے گئے ہیں، جن میں سے تقریباَ َ  93.7فیصداکاؤنٹس   چھوٹے اوربہت چھوٹے قسم کے تھے۔

*************

 

ش ح۔ع ح ۔رم

(07-09-2022)

U-9987

 


(ریلیز آئی ڈی: 1857357) وزیٹر کاؤنٹر : 92
یہ ریلیز پڑھیں: English