جل شکتی وزارت
این ایم سی جی اور ساہکار بھارتی نے اترپردیش کے شہر، بلند شہر میں ، 400 سے زیادہ کسانوں کے لیے قدرتی کاشتکاری سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد کیا
این ایم سی جی اور ساہکار بھارتی ’ارتھ گنگا‘کے تحت قدرتی کاشتکاری فروغ دینے کے لیے گنگا کے طاس میں کم سے کم 75 گنگا ساہکار گرام قائم کرے گی
گنگا ساہکار گرام کا تصور، پائیدار زراعت کے مقصد کی خدمت کرنے میں طویل عرصے تک کام کرے گا: ڈی جی، این ایم سی جی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 SEP 2022 6:53PM by PIB Delhi
صاف گنگا کے قومی مشن (این ایم سی جی) اور ساہکار بھارتی نے ، اترپردیش کے بلند شہر ضلع میں مبارک پور بانگڑ گاؤں میں 400 سے زیادہ کسانوں کے لیے آج ایک ’وشال کسان سملین‘ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ یہ ورکشاپ این ایم سی جی اور ساہکار بھارتی کے درمیان مفاہمت نامے (ایم او یو) کا حصہ تھی جو کہ ارتھ گنگا کے تحت قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینے اور دیگر مداخلتوں کے لیے، گنگا کے طاس میں کم سے کم 75 گنگا ساہکار گاؤں قائم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔اس ورکشاپ / میٹنگ کا مقصد ارتھ گنگا سے تعلق رکھنے والے تمام اقدامات کو یکجا کرنا تھا تاکہ جلج، قدرتی کاشتکاری، گھاٹ پے ہاٹ، کوڑے سے فرٹیلائیزر، زراعتی / باغبانی کی مصنوعات کی مارکیٹنگ، سیاحت وغیرہ کی تبدیلی کو یقینی بنایا جاسکے۔
اترپردیش سے 400 سے زیادہ کسانوں کے علاوہ اس موقع پر اترپردیش کے ضلعی سطح کے عہدیداران، صاف گنگا کے لیے ریاستی مشن، بھارت کے جنگلاتی زندگی کے ادارے، نہرو یووا کیندر سنگٹھن، گنگا وچار منچ اور دیگر رضاکاروں کی شرکت بھی دیکھنے میں آئی۔ اوپیندر نگر کے کسان کے فارم کا ایک فیلڈ دورے کا انعقاد بھی کیا گیا جس کے دوران قدرتی کاشتکاری کے طور طریقوں کو شرکت کرنے والے کسانوں اور عہدیداروں کو دکھایا گیا ہے۔ حال میں ہی، 18 سے 22 اگست 2022 تک، این ایم سی جی نے گنگا طاس سے تقریباً 30 کسانوں کے لیے تلاش وجستجو کا ایک دورے میں سبھاش پالیکر قدرتی کاشتکاری (ایس پی این ایف) تربیتی نیز ورکشاپ کیمپ کا انعقاد، مہاراشٹر کے شہر شرڈی میں کیا جارہا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈائرکٹر جنرل جناب جی اشوک کمار نے کہا کہ این ایم سی جی اور ساہکار بھارتی کے درمیان اشتراک پائیدار زراعت اور صفر بجٹ ، قدرتی کاشتکاری کے شعبے میں مثبت ماحول وضع کر رہا ہے۔ یہ اشتراک ،گنگا طاس میں گنگا ساہکار گرام قائم کرنے کے منفرد اقدام پر توجہ مرکوز کرتاہے اور اسے ایک کامیاب ماڈل بنانے اور دیگر گاؤوں میں اسے قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ جناب اشوک نے کہا کہ ’’ یہ پہل قدرتی کاشتکاری کے ذریعے روزگار وضع کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور پائیدار زراعت کی فروغ اور آب وہوا کی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے دونوں مقاصد حاصل کرنے میں طویل مدت تک کام کرے گی‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اسی طرح کی بہت سی ورکشاپس / میٹنگیں، مستقبل قریب میں این ایم سی جی کے ذریعے منعقد کی جائے گی‘‘۔
جناب جی اشوک کمار نے بھی ارتھ گنگا تصور کا پس منظر پیش کیا اور کہا کہ یہ اقدامات ارتھ گنگا مہم کے تحت کئے جارہے ہیں۔ انھوں نے صفر بجٹ قدرتی کاشتکاری، ’’ہربوند پر مزید مجموعی آمدنی‘‘ پیدا کرنے، کسانوں کے لیے ’گوبردھن‘ کچرے اور گندے پانی کو دوبارہ استعمال کرنے، جلج، ’گھاٹ میں ہاٹ‘، مقامی مصنوعات کی فروغ، آیورویدا، طبی پیڑ پودے، گنگا پراہاریوں جیسے رضاکاروں کی صلاحیت سازی، شراکت داروں کے درمیان وسیع تر تنوع کو یقینی بنانے کے لیے عوامی شراکت جیسے روزی روٹی کے مواقع وضع کرنے کے اہم عناصر کے بارے میں بھی بات کی۔انھوں نے ثقافتی وراثت اور سیاحت کے بارے میں بھی بات کی جو کمیونٹی جیٹیوں، یوگا کے فروغ ، ایڈوینچر کی سیاحت وغیرہ کے ذریعے کشتی کی سیاحت کو متعارف کرانا چاہتی ہے۔

ساہکار بھارتی کے قومی صدر جناب ڈی این ٹھاکر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ساہکار گنگا گرام سب کا دائرہ کرنے والا ایک ایسا پروگرام ہے جو کسانوں کو نہ صرف اپنے فارمس تیار کرنے کی تربیت فراہم کرتا ہے بلکہ فصلوں کو متنوع بنانے کی بھی تربیت دیتا ہے کہ کس طرح فصلوں کو محفوظ رکھا جائے، ان کی باقاعدہ مارکیٹنگ کس طرح کی جائے، تکنیکی صلاحیت سازی کیسے بڑھائی جائے اور کسانوں کے روزی روٹی کے معیارات کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔
این ایم سی جی اور ساہکار بھارتی کے درمیان مفاہمت نامے پر جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت کی موجودگی میں ، ’یمنا پر آزادی کا امرت مہوتسو‘، کے موقع پر 16 اگست 2022 کو دستخط کئے گئے تھے۔اس مفاہمت نامے کا مقصد عوامی شراکت کے ذریعے ایک پائیدار اور لچک دار اقتصادی ترقی کے وژن کو حاصل کرنا اور ارتھ گنگا کے منشور کو حقیقت کا روپ دینے کے تئیں مقامی کوآپریٹیوز کو اپنے تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے اس عمل کو وضع کرنا اور مستحکم کرنا ہے۔ مفاہمت نامے کے اہم مقاصد میں سے کچھ میں اصل دھارے پر پانچ ریاستوں میں 75 ساہکار گنگا گرام قائم کرنا، کسانوں کے مابین قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینا، گنگا کے ساتھ ساتھ واقع ریاستوں میں ایف پی اوز اور کوآپریٹیوز اور ’ہر بوند پر زیادہ مجموعی آمدنی‘ وضع کرنا، مارکیٹ روابط وضع کرکے گنگا گرانٹ کے تحت قدرتی کاشتکاری / نامیابی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کرنا،اقتصادی پل کے ذریعے عوام-دریا رابطے کو فرو غ دینا شامل ہے۔
*****
U.No.9903
(ش ح - اع - ر ا)
(ریلیز آئی ڈی: 1856941)
وزیٹر کاؤنٹر : 164