ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مہارت کی ترقی کے اقدامات کا نفاذ اور کامیابی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 AUG 2022 5:24PM by PIB Delhi

ہنرمندی کی ترقی اور کاروبار کے وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی کہ اسکل انڈیا مشن کے تحت، اسکل ڈیولپمنٹ اور کاروبار کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) مختلف اسکیموں کے تحت ہنر مندی کے فروغ کے مراکز کے ایک جامع نیٹ ورک کے ذریعے ہنر کی تربیت فراہم کر رہی ہے۔ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) ، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) ، جن تعلیم سنستھان (جے ایس ایس) اور کرافٹسمین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس)  اورصنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کے ذریعے ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے 2015 سے، پی ایم کے وی وائی 1.0، پی ایم کے وی وائی 2.0 اور پی ایم کے وی وائی 3.0 تربیتی مراکز (بشمول پردھان منتری کوشل کیندر)، جن تعلیم سنستھان، صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئی پی ایس)) اور مختلف رجسٹرڈ انٹرپرائزیز کے ذریعے ایک جامع اسکل انڈیا نیٹ ورک بنایا گیا ہے۔ گزشتہ پانچ (5) برسوں کے دوران اسکل انڈیا مشن کے لیے ایم ایس ڈی ای کے ذریعہ مختص کیا گیا فنڈ 15192.79 کروڑ روپئے ہے۔ 11 بڑی وزارتوں/ محکموں کے سلسلے میں دستیاب تفصیلات کے مطابق گزشتہ 5 برسوں کے دوران 12,850 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔ پچھلے 5  برسوں کے دوران ایم ایس ڈی ای کے تحت اسکل انڈیا مشن کو مختص کیا گیا فنڈ درج ذیل ہے:

 

نمبر شمار

اسکیمیں

مختص کردہ رقوم

 (کروڑ روپئے میں)

1.

مہارت کی ترقی

9334.84

2.

انٹرپرینیورشپ کی ترقی

301.98

3.

اپرنٹس شپ کا فروغ

2152.06

4.

ادارہ جاتی تربیت کے لیے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا

597.15

5.

ہنر مند اداروں کو مضبوط بنانا

62.5

6.

ریگولیٹری اداروں کی حمایت( این سی وی ای ٹی)

145.75

7.

روزی روٹی کے فروغ کے لیے ہنر کا حصول اور علم کی آگاہی (ایس اے این کے اے ایل پی)

771

8.

صنعتی قدر بڑھانے کے لیے ہنر کی مضبوطی (ایس ٹی آر آئی وی ای)

740

 

کل ا سکیمیں

14105.28

 

ادارے

1087.51

 

میزان

15192.79

 

ایم یس ڈی ای کی اسکیموں کے تحت قائم کیے گئے تربیتی مراکز کی ریاست کے لحاظ سے فہرست ضمیمہ-I میں ہے۔

ایم ایس ڈی ای کی اسکیموں کے تحت اندراج شدہ/ پاس آؤٹ طلباء کی تعداد کی ریاستی فہرست ضمیمہ-II میں ہے۔

ایم ایس ڈی ای کی اسکیموں میں، صرف پی ایم کے وی وائی (پی ایم کے وی وائی 2.0 اور پی ایم کے وی وائی 3.0) کے معاملے میں، تقرری لازمی تھی۔ لہذا، دیگر اسکیموں میں تقرری کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی ہے۔ تاہم، فریق ثالث کی تشخیص کی رپورٹوں میں مختلف اسکیموں کے تحت تربیت یافتہ امیدواروں کی تقرری یا آمدنی میں اضافے کے حوالے سے کامیابی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی مختصر تفصیلات حسب ذیل ہیں:

پی ایم کے وی وائی:پی ا یم کے وی وائی کے تحت رکھے گئے طلباء کی ریاست کے لحاظ سے فہرست ضمیمہ III میں ہے۔

سی ٹی ایس۔ اس اسکیم کے تحت، ملازمت/ تقرری کی تفصیلات کا پتہ نہیں لگایا جا سکا، تاہم ایم ایس ڈی ای کے ذریعہ موٹ میک ڈونالڈ نامی ایک آزاد ایجنسی کے ذریعے کرائے گئے آئی ٹی آئی گریجویٹس کی ٹریسر اسٹڈی 2018 کی رپورٹ کے مطابق،  آئی ٹی آئی 63.5 فیصد گریجویٹس ملازم ہیں جن میں سے 6.7  فیصد سیلف ایمپلائڈ ہیں۔

جے ایس ایس: جے ایس ایس کے تحت دی جانے والی تربیت کا مقصد لوگوں کو فائدہ مند معاش کے لیے حوصلہ افزا ئی کرنا اور خود روزگار اور اجرت کے روزگار کے ذریعے ان کی خاندانی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ استفادہ کنندگان کو روزگار/مقام کی فراہمی  جے ایس ایس اسکیم کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ جہاں تک جے ایس ایس اسکیم سے فائدہ کنندگان کے روزگار کا تعلق ہے، اسکیم کی تھرڈ پارٹی ایویلیویشن رپورٹ یہ بتاتی ہے، "آخر کار یہ دیکھا گیا ہے کہ جے ایس ایس میں منعقد کیے گئے تربیتی پروگرام کے اثر کے طور پر، خود اور اجرت کی ملازمت اور پرائیویٹ نوکریاں یقنی بن گئی ہیں " ۔اسکیم کی افادیت اس حقیقت سے مزید واضح ہوگی کہ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مستفید ہونے والے ٹرینیز میں سے 77.05 فیصد پیشہ ورانہ تبدیلیوں سے گزر چکے ہیں۔

این اے پی ایس: چونکہ این اے پی ایس ایک اپرنٹس شپ پر مبنی اسکیم ہے تقرریوں کا سراغ نہیں لگایا جاتا ہے۔

Iضمیمہ ۔

30.06.2022 تک پی ایم کے و ی وائی ، جے ایس ایس ، این اے پی ایس اور آئی ٹی  آئیز کے تحت قائم کیے گئے تربیتی مراکز کی تعداد کی ریاست وار فہرست:

نمبرشمار

ریاست

پی ایم کے وی وائی

(بشمول پی ایم کے وی وائی)

جے ایس ایس

این اے پی ایس اسٹیبلشمنٹ

آئی ٹی آئیز

1

انڈمان اینڈ نکوبار جزائر

19

1

13

4

2

آندھراپردیش

671

7

9,164

510

3

اروناچل پردیش

153

 

23

6

4

آسام

597

6

5,757

36

5

بہار

749

21

3,386

1,332

6

چنڈی گرھ

69

1

755

2

7

چھتیس گڑھ

272

14

3,595

228

8

دادر و نگرحویلی اوردمن و دیو

23

2

801

3

9

دہلی

473

3

7,117

53

10

گوا

43

1

2,973

13

11

گجرات

585

11

88,708

507

12

ہریانہ

1,304

5

45,912

396

13

ہماچل پردیش

383

11

5,042

268

14

جمو ں و کشمیر

611

3

1,026

50

15

جھارکھنڈ

351

13

6,251

325

16

کرناٹک

432

12

21,447

1,501

17

کیرالہ

452

9

12,405

462

18

لداخ

21

2

-

3

19

لکشدیپ

2

1

19

1

20

مدھیہ پردیش

1,519

29

14,870

1,073

21

مہاراشٹر

1,220

23

96,909

1,003

22

منی پور

187

4

75

1

23

میگھالیہ

107

1

133

6

24

میزورم

108

1

10

3

25

ناگالینڈ

95

2

36

8

26

اڈیشہ

605

29

6,901

502

27

پڈوچیری

62

-

1,023

14

28

پنجاب

993

2

8,244

350

29

راجستھان

1,590

8

9,461

1,649

30

سکم

51

-

446

3

31

تملناڈو

1,312

8

26,146

494

32

تلنگانہ

624

6

15,819

293

33

تریپورہ

213

2

350

21

34

اترپردیش

2,624

50

37,321

3,173

35

اتراکھنڈ

446

8

8,641

189

36

مغربی بنگال

644

8

10,064

266

 

ضمیمہ ۔ II

پچھلے پانچ برسوں کے دوران پی ایم کے وی وائی، جے ایس ایس ، این اے پی ایس اورآئی ٹی آئیز کے تحت اندراج شدہ/ تربیت یافتہ طلباء کی ریاستی فہرست۔ مالی سال 2017-18 سے 2021-22تک:

نمبرشمار

ریاست

پی ایم کے وی وائی2.0 اور 3.0 آغاز سے لے کر 30.06.2022 تک

جے ایس ایس*

این اے پی ایس

آئی ٹی آئی اندراج

اندراج

تربیت یافتہ

1

انڈمان اینڈ نکوبار جزائر

3,981

3,548

900

1

2,317

2

آندھراپردیش

3,41,116

3,20,096

35,942

39,075

2,60,280

3

اروناچل پردیش

85,818

82,583

726

17

2,842

4

آسام

7,04,630

6,84,665

31,188

13,284

15,046

5

بہار

5,67,092

5,38,057

77,358

8,110

5,22,386

6

چنڈی گرھ

23,752

21,654

5,274

1,900

4,716

7

چھتیس گڑھ

1,52,258

1,40,238

46,906

23,553

97,205

8

دادر و نگرحویلی اوردمن و دیو

9,906

9,615

5,368

1,397

1,736

9

دہلی

4,18,169

3,96,153

18,385

22,587

45,218

10

گوا

10,412

9,462

5,747

5,270

9,683

11

گجرات

3,88,138

3,65,890

62,434

2,90,846

3,74,421

12

ہریانہ

5,92,965

5,61,159

30,701

1,42,918

2,44,463

13

ہماچل پردیش

1,34,654

1,24,738

12,031

10,617

1,02,826

14

جمو ں و کشمیر

3,10,772

2,91,169

10,656

3,102

25,091

15

جھارکھنڈ

2,55,595

2,42,812

22,240

35,796

1,49,861

16

کرناٹک

4,69,531

4,37,837

56,672

86,355

3,37,334

17

کیرالہ

2,57,455

2,38,466

52,637

32,692

1,61,586

18

لداخ

3,620

2,998

-

-

440

19

لکشدیپ

270

270

-

18

1,235

20

مدھیہ پردیش

7,72,379

7,29,631

1,68,851

48,660

3,28,492

21

مہاراشٹر

11,43,774

11,05,384

1,27,655

2,80,478

5,61,582

22

منی پور

95,114

88,676

18,936

71

471

23

میگھالیہ

47,261

45,483

-

186

2,747

24

میزورم

33,151

30,829

900

8

1,679

25

ناگالینڈ

41,841

40,660

6,072

36

918

26

اڈیشہ

5,19,963

4,85,855

1,09,372

27,662

2,53,792

27

پڈوچیری

23,820

22,966

-

3,687

4,181

28

پنجاب

3,70,286

3,47,654

9,995

18,519

2,01,713

29

راجستھان

9,89,560

9,58,933

35,007

27,929

5,90,275

30

سکم

13,909

12,721

-

283

1,269

31

تملناڈو

6,19,183

5,89,752

44,345

89,411

1,70,422

32

تلنگانہ

3,33,506

3,11,862

35,621

60,526

1,59,714

33

تریپورہ

1,27,798

1,23,822

5,988

2,036

8,215

34

اترپردیش

17,47,334

16,68,055

2,85,506

1,20,537

13,72,477

35

اتراکھنڈ

1,94,684

1,87,259

36,816

18,795

49,580

36

مغربی بنگال

4,75,938

4,54,043

44,178

27,468

1,50,490

جے ایس ایس* کووزارت تعلیم سے 2018 میں منتقل کیا گیا ہے، لہذا ڈیٹا مالی سال 2018-19 سے 2021-22 کے دورانیہ کے لیے ہے۔

 

ضمیمہ۔ III

 

شروع سے لے کر 30.06.2022 تک پی ایم کے وی وائی کے تحت رکھے گئے طلباء کی تعداد کی ریاست وار فہرست:

نمبرشمار

ریاست

منتقل کئےگئے طلباء

1

انڈمان اینڈ نکوبار جزائر

124

2

آندھراپردیش

92,789

3

اروناچل پردیش

11,608

4

آسام

61,749

5

بہار

1,14,584

6

چنڈی گرھ

5,954

7

چھتیس گڑھ

26,589

8

دادر و نگرحویلی اوردمن و دیو

2,610

9

دہلی

72,993

10

گوا

892

11

گجرات

65,455

12

ہریانہ

1,50,558

13

ہماچل پردیش

24,463

14

جمو ں و کشمیر

51,925

15

جھارکھنڈ

26,943

16

کرناٹک

60,233

17

کیرالہ

24,356

18

لداخ

1,036

19

لکشدیپ

-

20

مدھیہ پردیش

1,97,263

21

مہاراشٹر

69,658

22

منی پور

15,147

23

میگھالیہ

12,398

24

میزورم

9,473

25

ناگالینڈ

5,805

26

اڈیشہ

60,598

27

پڈوچیری

9,532

28

پنجاب

1,18,002

29

راجستھان

1,70,544

30

سکم

3,764

31

تملناڈو

1,26,932

32

تلنگانہ

91,998

33

تریپورہ

12,611

34

اترپردیش

3,12,285

35

اتراکھنڈ

51,080

36

مغربی بنگال

1,01,363

 

 

*************

 

 

ش ح ۔ ج ق ۔ ف ر

U. No.9748

 


(ریلیز آئی ڈی: 1855934) وزیٹر کاؤنٹر : 165
یہ ریلیز پڑھیں: English