جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پانی کو قابل استعمال بنانے کا لازمی پلانٹ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 AUG 2022 6:36PM by PIB Delhi

جل شکتی کے مرکزی وزیر مملکت جناب بشویسور ٹوڈو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ماحولیات  کےتحفظ کے قانون 1986 اور  آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق پانی کے قانون 1974 کی شقوں کے مطابق ، صنعتی اکائیوں اور مقامی اداروں کو بلدیاتی اداروں کو ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس (ای ٹی پی)/ کامن ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس (سی ای ٹی پی) اور سیوریج لگانے کی ضرورت ہے اوردریاؤ اور آبی ذخائر میں  فضلہ کو چھوڑنے سے قبل مقررہ ماحولیاتی معیارات پرکی تعمیل کرنے کےلئے  اپنے ایفلونٹ اور سیوریج کو قابل استعمال بنائیں۔اس کے مطابق سی پی سی بی، ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز/آلودگی پر قابو پانے والی کمیٹیاں پانی کے اخراج کے معیارات کے حوالے سے صنعتوں کی نگرانی کرتی ہیں اور ان قانون کی شقوں کے تحت عدم تعمیل کی صورت میں تعزیری کارروائی کرتی ہیں۔

آلودگی کی روک تھام کے مرکزی بورڈ (سی پی سی بی) مختلف ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹیز) میں ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز/کمیٹیوں کے ساتھ مل کر نیشنل واٹر کوالٹی مانیٹرنگ پروگرام کے تحت 4294 نگرانی اسٹیشنوں کے ایک  نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں  دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر کے پانی کی کوالٹی کی نگرانی کررہا ہے۔

اس وقت، ملک میں ماحولیات کےتحفظ کے قوانین، 1986 کے تحت ماحولیات جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) اورسی پی سی بی کے ذریعے تسلیم شدہ 245 سرکاری/نجی ماحولیاتی لیبارٹریزہیں۔

وزارت جل جیون مشن (جے ایم ایم )-ہر گھر جل کے ذریعہ پینے کے پانی کی جانچ لیبارٹیریاں قائم کرکے اور پینے کے پانی کی سپلائی کی اسکیموں کی منصوبہ بندی ڈیزائنگ اور نفاذ میں مالی اور تکنیکی امداد فراہم کرکے  ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کی کوششوں کی تکمیل کرتی ہے  ۔ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے  جے جے ایم کے تحت پانی کی کوالٹی مانیٹرنگ اینڈ سرویلنس (ڈبلیو کیو ایم اینڈ ایس) کی سرگرمیوں کے لیے اپنے سالانہ مختص فنڈز کا 2فیصد تک استعمال کر سکتے ہیں۔ جس میں پانی کے معیار کی جانچ کرنے والی لیبارٹریوں کی مضبوطی، ان کا قیام اور  آلات دیگر ساز و سامان کے علاوہ کیمیکلز، شیشے کے  سامان ،قابل کھپت سامان ،ہنر مند افرادی قوت کی خدمات کو حاصل کرنا ،نگرانی ،استعمال کی اشیاءاور فیلڈ ٹیسٹ کٹس (ایف ٹی کیز) کا استعمال کرتے ہوئے کمیونٹی کی طرف سے نگرانی، آگاہی پیدا کرنا، پانی کے معیار پر تعلیمی پروگرام، لیبارٹریوں کی منظوری/تسلیم، وغیرہ شامل ہیں۔

جیسا کہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے اطلاع دی گئی ہےکہ پانی کی فراہمی/ پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے/ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے پاس ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مختلف سطحوں پر پینے کے پانی کے معیار کی جانچ کرنے والی 2,070 لیبارٹریوں کا ایک  نیٹ ورک ہے۔

 

***********

ش ح ۔  ح ا ۔ م ش

U. No.9521


(ریلیز آئی ڈی: 1854326) وزیٹر کاؤنٹر : 120
یہ ریلیز پڑھیں: English