خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خواتین کے تحفظ، سکیورٹی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے حکومت ہند کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 AUG 2022 12:41PM by PIB Delhi

حکومت ملک میں صنفی تناسب کو بہتر بنانے اور خواتین کی صحت مند زندگی کو یقینی بنانے کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں اٹھائے گئے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  • بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) بچیوں کے تحفظ، بقا اور تعلیم کو یقینی بناتا ہے۔
  • مشن سکشم آنگن واڑی  اور پوشن 2.0 کا مقصد ایسے طرز عمل کو تیار کرنا اور فروغ دینا ہے جو بچوں، نوعمر لڑکیوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں میں غذائیت اور ترسیل میں حکمت عملی کی تبدیلی کے ذریعے صحت، تندرستی اور قوت مدافعت کو پروان چڑھاتے ہیں اور مشترک ماحولیاتی نظام  کی تخلیق کے ذریعے غذائی قلت کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد کرتے ہیں ۔
  • پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا ( پی ایم ایم وی وائی) ملازمت کے نقصان کا جزوی معاوضہ فراہم کرتی ہے اور حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے درمیان صحت کے متلاشی رویے کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ مشن شکتی کے تحت جدید پی ایم ایم وی وائی کا مقصد دوسری بچی کے لیے اضافی نقد مراعات فراہم کر کے لڑکی کے تئیں مثبت رویے میں تبدیلی کو فروغ دینا ہے ۔
  • آیوشمان بھارت-صحت اور فلاح و بہبود کے مراکز (اے بی- ایچ ڈبلیو سی) کے ذریعے صحت کے فروغ سمیت جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال کا آغاز۔

 

  • جنانی سرکشا کاریکرم (جے ایس ایس کے) صحت عامہ کے اداروں میں ڈلیوری کرنے والی حاملہ خواتین اور علاج کے لیے صحت عامہ کے اداروں سے رجوع کرنے والے بیمار بچوں کے جیب خرچ کو ختم کرنے کے لیے ہے۔
  • جنانی سرکشا یوجنا ( جے ایس وائی) حاملہ خواتین کو ادارہ جاتی ڈلیوری  کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔
  • پردھان منتری اجولا یوجنا خواتین کو بااختیار بناتی ہے اور مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرکے ان کی صحت کی حفاظت کرتی ہے۔

 مندرجہ بالا اقدامات کے نتیجے میں پیدائش کے وقت جنسی تناسب 918 (2014-15) سے بڑھ کر 937 (2020-21) ہو گیا ہے اور پیدائش کے وقت متوقع عمر 69.4 سال (2014-18) سے بڑھ کر 69.7 سال (2015-19) ہو گئی ہے۔ ۔

حکومت نے افرادی قوت میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ لیبر قوانین میں لیبر قوانین کے تحت دیگر تمام حقوق کے علاوہ خواتین کارکنوں سے متعلق خصوصی دفعات شامل ہیں، جن میں دیگر چیزوں کے ساتھ:

  • مساوی معاوضہ ایکٹ، 1976 یہ فراہم کرتا ہے کہ ایک ہی آجر کی طرف سے کسی ادارے یا اس کے کسی یونٹ میں ملازمین کے درمیان جنس کی بنیاد پر ملازمت سے متعلق معاملات میں، کسی بھی ملازم کی طرف سے اسی کام یا اسی نوعیت کے کام کے سلسلے میں کئے گئے کام  کے حوالے سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
  • زچگی کے فوائد کا  ایکٹ، جیسا کہ اس میں  2017 میں ترمیم کیا گیا تھا ، جس کے تحت دو بچوں کے لیے زچگی کی چھٹی مدت12 ہفتوں سے بڑھاکر 26 ہفتے کردی گئی  ہے۔ اس کے تحت  خواتین کو  زچگی کے فوائد حاصل کرنے بعد ‘‘گھر سے کام’’ کی فراہمی کو بھی اہل بنایا گیا ہے، جہاں اس نوعیت ، ایسی مدت  اور ایسی شرائط پر کام کیلئے  آجر اور خاتون ملازم کے درمیان باہمی اتفاق ضروری ہے۔
  • مائنز ایکٹ 1952 کے نوٹیفکیشن مورخہ 29 جنوری 2019 کے تحت، حکومت نے خواتین کو سرفیس مائنز میں شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک اور زیر زمین کانوں میں صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک تکنیکی، نگران اور انتظامی کاموں میں کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ جہاں ان کی مسلسل موجودگی کی ضرورت نہیں ہے۔
  • حکومت نے چار لیبر کوڈز بھی نافذ کیے ہیں، یعنی کوڈ آن ویجز، 2019؛ صنعتی تعلقات کوڈ، 2020؛ سماجی تحفظ کا ضابطہ، 2020، اور پیشہ ورانہ تحفظ، صحت اور کام کے حالات کا ضابطہ، 2020، جو کہ خواتین کی افرادی قوت میں باوقار طریقے سے شرکت کو مزید فروغ دیتا ہے، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
  • اجرت، بھرتی اور ملازمت کے حالات سے متعلق معاملات میں جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں،
  • خواتین تمام اداروں میں اپنی رضامندی اور دیگر مناسب تحفظات کے ساتھ صبح 6 بجے سے پہلے اور شام 7 بجے کے بعد کام کرنے کی حقدار ہیں ۔

 خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  • سخی سدن (ورکنگ ویمنز ہاسٹل) اسکیم کام کرنے والی خواتین کے لیے محفوظ اور سستی رہائش فراہم کرتی ہے اور اس طرح زیادہ سے زیادہ خواتین کو ملازمت حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

 

  • پالنا، قومی کریچ اسکیم، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ خواتین بچوں کو محفوظ اور حوصلہ افزا ماحول فراہم کرکے فائدہ مند روزگار حاصل کریں۔

 

  • نئے 'مشن شکتی' کے تحت، قومی، ریاستی اور ضلعی سطحوں پر خواتین کو بااختیار بنانے کے مرکز (ایچ ای ڈبلیو) کو منظوری دی گئی ہے۔ ایچ ای ڈبلیو کے تحت مدد، ملک بھر میں مختلف سطحوں پر خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہے جس میں صحت کی دیکھ بھال، معیاری تعلیم، کیریئر اور پیشہ ورانہ مشاورت/تربیت، مالی شمولیت، انٹرپرینیورشپ، پسماندہ اور آگے کے روابط، کارکنوں کے لیے صحت اور تحفظ، سماجی تحفظ اور ڈیجیٹل خواندگی شامل ہیں۔
  • پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) حکومت کی طرف سے ، دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ خود روزگار کی سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ پی ایم ایم وی وائی کے تحت، چھوٹے/بہت چھوٹے کاروباری اداروں اور افراد کو 10 لاکھ روپے تک کے بغیر ضمانتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں شروع کر سکیں یا اسے بڑھا سکیں۔ اس اسکیم سے مستفید ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین ہیں۔
  • اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم خواتین، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل، یعنی آبادی کے وہ حصے جو نمایاں طور پر پسماندہ سمجھے جاتے ہیں ، مشورے/سرپرستی کی کمی کے ساتھ ساتھ ناکافی اور تاخیر سے کریڈٹ کی وجہ سے ، رکاوٹوں کا سامنا ہے ،کے درمیان کاروبار کو فروغ دیتی ہے۔
  • پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کا مقصد خواتین سمیت ہندوستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو بہتر معاش کے لیے صنعت سے متعلق ہنر کی تربیت حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔
  • دین دیال انتیودیا نیشنل اربن لائیولی ہڈ مشن خواتین کے لیے ہنر مندی کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جس سے بازار پر مبنی روزگار ملتا ہے۔
  • پردھان منتری آواس یوجنا کا مقصد خواتین کے نام پر مکانات فراہم کرنا ہے۔
  • سوکنیا سمریدھی یوجنا - اس اسکیم کے تحت لڑکیوں کے بینک کھاتے کھلواکرکے  معاشی طور پر بااختیار بنایا جاتا ہے۔

 

  • سکل اپ گریڈیشن اور مہیلا کوئر یوجنا چھوٹی ، بہت چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعت (ایم ایس ایم ایز) کا ایک خصوصی تربیتی پروگرام ہے جس کا مقصد کوئر انڈسٹری میں مصروف خواتین کاریگروں کی مہارت کو فروغ دینا ہے۔
  • وزیراعظم کا روزگار پیدا کرنے کا پروگرام کریڈٹ سے منسلک ایک بڑا سبسڈی پروگرام ہے جس کا مقصد غیر زرعی شعبے میں چھوٹے پیمانے پر تجارت  کے قیام کے ذریعے خود روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

             

 یہ تفصیلات خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر اسمرتی زوبن ایرانی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دیں۔

 

*********************

 

(ش ح ۔  ع ح)

U.No. 9388


(ریلیز آئی ڈی: 1853573) وزیٹر کاؤنٹر : 298
یہ ریلیز پڑھیں: English , Manipuri , Punjabi