جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زیرزمین پانی کی صورتحال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 AUG 2022 5:57PM by PIB Delhi

سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ ملک کے متحرک  زیرزمین پانی کے وسائل کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے۔ 2020 کی تشخیص کے مطابق، ہر طرح کے استعمال کے لیے سالانہ ایکسٹریکٹ ایبل گراؤنڈ واٹر ریسورس اور سالانہ گراؤنڈ واٹر ایکسٹریکشن بالترتیب 398 بلین کیوبک میٹر ( بی سی ایم) اور تقریباً 245 بی سی ایم ہے۔ مزید برآں 2017 کی تشخیص کے مطابق، سالانہ ایکسٹریکٹ ایبل گراؤنڈ واٹر ریسورس اور ہرطرح کے استعمال کے لیے سالانہ  زیرزمین پانی کا اخراج بالترتیب تقریباً 393  بی سی ایم اور تقریباً 249  بی سی ایم ہے۔ اس کے علاوہ، 2017 کے مقابلے میں 2020 کے دوران ملک میں زیر زمین پانی نکالنے کا مرحلہ 63.33 فیصد سے کم ہو کر 61.60 فیصد رہ گیا ہے۔

مزید برآں، زیر زمین پانی کی سطح میں طویل مدتی اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگانے کے لیے، نومبر 2021 کے دوران  سی جی ڈبلیو بی (مانیٹرنگ نیٹ ورک کے ایک سیٹ کے ذریعے) کے ذریعے جمع کیے گئے پانی کی سطح کے اعداد و شمار کا جب نومبر 2016 سے نومبر 2020 کے درمیان  کےپانچ سالہ اوسط  سے موازنہ کیا جاتا ہے  تو اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ تقریباً 70  فیصد کنوؤں  کے پانی کی سطح میں اضافہ درج کیا گیا ہے جبکہ زیر نگرانی تقریباً 30 فیصد کنوؤں  کے زیر زمین پانی کی سطح میں کمی درج کی گئی ہے۔ تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔

سی جی ڈبلیو بی کے ذریعہ وقتاً فوقتاً ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون سے ملک کے زیر زمین پانی کے وسائل کا جائزہ لیا جاتا ہے، تاہم 2030 تک ملک میں زیر زمین پانی کی پوزیشن کا اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔

2020 کے جائزے کے مطابق زیر زمین پانی کے وسائل اور ان کے نکالنے کی مجموعی سطح کی ریاست کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ II میں دی گئی ہیں۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پنجاب، راجستھان، ہریانہ، دہلی اور دمن  ودیو میں زیرزمین  پانی  کونکالنے کا مرحلہ 100 فیصد سے زیادہ ہے۔

پانی ایک ریاستی موضوع ہے، مرکزی حکومت نے زیرزمین پانی کے تحفظ، بندوبست کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں ملک میں بارش کے پانی کی ذخیرہ کاری کا مؤثر عمل شامل  ہے، جسے

http://jalshakti-dowr.gov.in /sites/default/files/Steps%20taken%20by%20the%20Central%20Govt%20for%20water_ depletion_july2022.pdf.

 پر دیکھا جاسکتا ہے۔

حکومت ہند ملک میں جل شکتی ابھیان  (جے ایس اے) کا نفاذ کر رہی ہے۔ پہلا جے ایس اے 2019 میں 256 اضلاع کے پانی کے دباؤ والے بلاکوں میں شروع کیا گیا تھا جو سال 2021 کے دوران جاری رہا (پورے ملک میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں) جس کا بنیادی مقصد مصنوعی ری چارج ڈھانچے کی تخلیق کے ذریعہ مون سون کی بارش کے پانی کا مؤثر طریقے سے ذخیرہ کرنا ،واٹرشیڈ منیجمنٹ  ریچارج اور ری یوز اسٹرکچر، بڑے پیمانے پر شجرکاری اور بیداری پیدا کرنا وغیرہ تھا۔ سال 2021 اور 2022 کے لیے جے ایس اے کا آغاز عزت مآب وزیر اعظم اور عزت مآب صدر  جمہوریہ نے بالترتیب 22.03.2021 اور 29.03.2022 کو کیا تھا۔

عزت مآب وزیر اعظم نے 24 اپریل 2022 کو امرت سروور مشن کا آغاز کیا۔ اس مشن کا مقصد آزادی کا امرت مہوتسو کے جشن کے ایک حصے کے طور پر ملک کے ہر ضلع میں 75 آبی ذخائر کو ترقی دینا اور ان کا احیا کرنا ہے۔

مرکزی حکومت ریاستوں کے ساتھ مل کر، گجرات، ہریانہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور اتر پردیش کے پانی کے دباؤ والے مخصوص علاقوں میں 6,000 کروڑ روپے کے مختص بجٹ سے اٹل بھوجل یوجنا کا نفاذکر رہی ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد سائنسی ذرائع کے ذریعے مقامی کمیونٹیز کو شامل کرکے ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ ہے جس کے نتیجے میں اہدافی علاقوں میں زیر زمین پانی کا پائیداربندوبست کیا جاسکتا ہے۔

کئی ریاستوں نے پانی کے تحفظ / ذخیرہ کاری کے میدان میں قابل ذکر کام کیا ہے جیسے کہ راجستھان میں 'مکھیہ منتری جل سواؤلمبن ابھیان'، مہاراشٹر میں 'جلیکت شیبر'، گجرات میں 'سجلم سفلم ابھیان'، تلنگانہ میں 'مشن کاکاتیہ'، آندھرا پردیش میں  نیرو چیٹو'۔بہار میں جل جیون ہریالی ، ہریانہ میں 'جل ہی جیون' اور تمل ناڈو میں کڈی مرمٹھ اسکیم وغیرہ۔

یہ جانکاری جل شکتی کے وزیر مملکت جناب بشویشور ٹوڈو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

ضمیمہ I

 نومبر 2016 سے نومبر 2020 کے درمیان  کےپانچ سالہ اوسط  کے مقابلے میں  نومبر 2021 میں پانی کی سطح میں اتارچڑھاؤ کی ریاست وار صورتحال

 

نمبرشمار

ریاست کانام

تشخیص شدہ کنووں کی تعداد

اضافہ

کمی

اضافہ

کمی

جن کنووں میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی

0-2 m

2-4 m

>4 m

0-2 m

2-4 m

>4 m

No

%

No

%

No

%

No

%

No

%

No

%

No

%

No

%

No

%

1

آندھرا پردیش

705

429

60.9

83

11.8

59

8.4

109

15.5

18

2.6

6

0.9

571

81

133

19

1

0

2

اروناچل پردیش

10

1

10.0

0

0.0

0

0.0

7

70.0

1

10.0

0

0.0

1

10

8

80

1

10

3

آسام

163

67

41.1

2

1.2

1

0.6

85

52.1

5

3.1

3

1.8

70

43

93

57

0

0

4

بہار

592

371

62.7

86

14.5

12

2.0

115

19.4

8

1.4

0

0.0

469

79

123

21

0

0

5

چنڈی گڑھ

12

5

41.7

2

16.7

1

8.3

2

16.7

1

8.3

1

8.3

8

67

4

33

0

0

6

چھتیس گڑھ

693

327

47.2

87

12.6

32

4.6

190

27.4

34

4.9

23

3.3

446

64

247

36

0

0

7

دادر ونگر حویلی

17

15

88.2

0

0.0

0

0.0

2

11.8

0

0.0

0

0.0

15

88

2

12

0

0

8

دمن اینڈدیو

4

2

50.0

1

25.0

0

0.0

1

25.0

0

0.0

0

0.0

3

75

1

25

0

0

9

دہلی

85

25

29.4

24

28.2

22

25.9

9

10.6

5

5.9

0

0.0

71

84

14

16

0

0

10

گوا

68

12

17.6

1

1.5

0

0.0

49

72.1

5

7.4

1

1.5

13

19

55

81

0

0

11

گجرات

742

273

36.8

115

15.5

89

12.0

179

24.1

37

5.0

47

6.3

477

64

263

35

2

0

12

ہریانہ

181

74

40.9

7

3.9

8

4.4

69

38.1

11

6.1

12

6.6

89

49

92

51

0

0

13

ہماچل پردیش

86

45

52.3

4

4.7

2

2.3

30

34.9

3

3.5

2

2.3

51

59

35

41

0

0

14

جموں و کشمیر

211

109

51.7

11

5.2

3

1.4

81

38.4

6

2.8

1

0.5

123

58

88

42

0

0

15

جھارکھنڈ

191

117

61.3

12

6.3

1

0.5

55

28.8

6

3.1

0

0.0

130

68

61

32

0

0

16

کرناٹک

1290

707

54.8

264

20.5

126

9.8

161

12.5

19

1.5

11

0.9

1097

85

191

15

2

0

17

کیرالہ

1297

858

66.2

164

12.6

44

3.4

206

15.9

15

1.2

9

0.7

1066

82

230

18

1

0

18

مدھیہ پردیش

1297

588

45.3

178

13.7

107

8.2

334

25.8

66

5.1

22

1.7

873

67

422

33

2

0

19

مہاراشٹر

1727

874

50.6

285

16.5

142

8.2

346

20.0

51

3.0

24

1.4

1301

75

421

24

5

0

20

میگھالیہ

24

10

41.7

0

0.0

0

0.0

14

58.3

0

0.0

0

0.0

10

42

14

58

0

0

21

ناگالینڈ

2

1

50.0

0

0.0

0

0.0

0

0.0

1

50.0

0

0.0

1

50

1

50

0

0

22

اڈیشہ

1226

640

52.2

28

2.3

3

0.2

516

42.1

33

2.7

6

0.5

671

55

555

45

0

0

23

پڈوچیری

6

4

66.7

0

0.0

1

16.7

1

16.7

0

0.0

0

0.0

5

83

1

17

0

0

24

پنجاب

175

53

30.3

5

2.9

2

1.1

90

51.4

23

13.1

2

1.1

60

34

115

66

0

0

25

راجستھان

917

257

28.0

75

8.2

40

4.4

307

33.5

114

12.4

123

13.4

372

41

544

59

1

0

26

تملناڈو

530

173

32.6

154

29.1

129

24.3

53

10.0

14

2.6

7

1.3

456

86

74

14

0

0

27

تلنگانہ

537

213

39.7

88

16.4

119

22.2

102

19.0

5

0.9

10

1.9

420

78

117

22

0

0

28

تریپورہ

22

4

18.2

0

0.0

0

0.0

15

68.2

2

9.1

0

0.0

4

18

17

77

1

5

29

اترپردیش

644

358

55.6

111

17.2

26

4.0

126

19.6

16

2.5

7

1.1

495

77

149

23

0

0

30

اتراکھنڈ

45

21

46.7

5

11.1

2

4.4

12

26.7

3

6.7

2

4.4

28

62

17

38

0

0

31

مغربی بنگال

706

409

57.9

98

13.9

31

4.4

113

16.0

27

3.8

27

3.8

538

76

167

24

1

0

میزان

14205

7042

49.6

1890

13.3

1002

7.1

3379

23.8

529

3.7

346

2.4

9934

70

4254

30

17

0

 

 

ضمیمہ II

بھارت کے زیر زمیں آبی وسائل کی ریاست وار صورتحال ، 2020 (بی سی ایم میں)

نمبرشمار

ریاست /مرکز کے زیر انتظام علاقہ

کل سالانہ زیر زمیں پانی ریچارج (بی سی ایم)

سالانہ  نکالے جاسکنے والے زیر زمین آبی وسائل (بی سی ایم میں)  )

موجودہ سا لانہ نکالاجانے والا زیر زمین پانی ( بی سی ایم میں)

نکالے گئے زیر زمین  پا نی کامرحلہ (فیصد میں)

 

آبپاشی

صنعتی اورگھریلو

کل

 

 

1

آندھر ا پردیش

24.15

22.94

6.60

1.03

7.63

33.26

 

2

اروناچل پردیش

3.19

2.92

0.003

0.01

0.01

0.36

 

3

آسام

27.05

21.97

1.97

0.60

2.58

11.73

 

4

بہار

28.05

25.46

10.33

2.69

13.02

51.14

 

5

چھتیس گڑھ

12.65

11.55

4.53

0.82

5.35

46.34

 

6

دہلی

0.32

0.29

0.07

0.22

0.29

101.40

 

7

گوا

0.40

0.32

0.02

0.05

0.08

23.48

 

8

گجرات

26.81

24.91

12.65

0.64

13.30

53.39

 

9

ہریانہ

9.53

8.63

10.47

1.15

11.61

134.56

 

10

ہماچل پردیش

1.07

0.97

0.20

0.16

0.36

36.83

 

11

جھارکھنڈ

6.15

5.64

0.93

0.72

1.64

29.13

 

12

کرناٹک

18.16

16.40

9.60

1.03

10.63

64.85

 

13

کیرالہ

5.65

5.12

1.16

1.48

2.65

51.68

 

14

مدھیہ پردیش

36.16

33.38

17.33

1.64

18.97

56.82

 

15

مہاراشٹر

32.01

30.25

15.29

1.34

16.63

54.99

 

16

منی پور

0.51

0.46

0.003

0.02

0.02

5.12

 

17

میگھالیہ

2.04

1.82

0.03

0.05

0.08

4.22

 

18

میزورم

0.22

0.20

0.00

0.01

0.01

3.81

 

19

ناگالینڈ

2.17

1.95

0.002

0.02

0.02

1.04

 

20

اڈیشہ

17.08

15.71

5.50

1.36

6.86

43.65

 

21

پنجاب

22.80

20.59

32.80

1.05

33.85

164.42

 

22

راجستھان

12.24

11.07

14.37

2.27

16.63

150.22

 

23

سکم

0.96

0.86

0.00

0.01

0.01

0.86

 

24

تملناڈو

19.59

17.69

13.52

1.15

14.67

82.93

 

25

تلنگانہ

16.63

15.03

7.13

0.88

8.01

53.32

 

26

تریپورہ

1.47

1.24

0.02

0.08

0.10

7.94

 

27

اترپردیش

72.20

66.88

41.29

4.74

46.03

68.83

 

28

اتراکھنڈ

2.02

1.85

0.63

0.24

0.87

46.80

 

29

مغربی بنگال*

29.33

26.56

10.84

1.00

11.84

44.60

 

30

انڈمان ونکوبار

0.32

0.28

0.0001

0.01

0.01

2.60

 

31

چنڈی گڑھ

0.06

0.06

0.01

0.04

0.05

80.60

 

32

دادر ونگرحویلی

0.07

0.07

0.01

0.02

0.03

45.99

 

 

دمن اینڈدیو

0.03

0.03

0.003

0.03

0.03

113.38

 

33

جموں و کشمیر

4.68

4.22

0.20

0.69

0.89

21.03

 

34

لداخ

0.12

0.11

0.001

0.02

0.02

17.90

 

35

لکشدیپ

0.01

0.005

0.00

0.003

0.003

58.47

 

36

پڈوچیری

0.22

0.20

0.10

0.05

0.15

74.27

 

 

میزان

436.15

397.62

217.61

27.30

244.92

61.60

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نوٹ: ریاست مغربی بنگال  کے لئے 2013 میں زیر زمین  آبی وسائل کی تشخیص کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔

 

*************

ش ح ۔ م م۔ ف ر

U. No.9011


(ریلیز آئی ڈی: 1850804) وزیٹر کاؤنٹر : 113
یہ ریلیز پڑھیں: English , Manipuri