مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
مرکزی حکومت کے ذریعہ سستے مکانوں کے پروجیکٹوں کی تعمیری لاگت کو کنٹرول کرنے کے لئے اٹھائے گئے متعدد اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 AUG 2022 5:58PM by PIB Delhi
مکان اور شہری امور کے وزیر مملکت جناب کوشل کشور نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں درج ذیل معلومات فراہم کیں:
مرکزی حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا –شہری ( پی ایم اے وائی – یو) سمیت سستے مکانوں کی تعمیر میں لگنے والے مواد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کئی قدم اٹھائے ہیں۔ مرکزی بجٹ 22-2021 اور 23-2022 میں نان –الائے ، الائے اور اسٹین لیس اسٹیل کی سیمیز ،فلیٹ اور لانگ پروڈکٹس کی کسٹم ڈیوٹی میں یکساں طورپر 7.5فیصدکی کمی کی گئی ہے۔لوہے کی کچ دھات / کنکریٹ اور لوہےکی کچ دھات کے پیلٹس کی ایکسپورٹ ڈیوٹی میں بالترتیب 50فیصد اور 45فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ پگ آئرن اور اسٹیل کی کئی مصنوعات پر 15 فیصد ایکسپورٹ ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ مزید برآں ہاؤسنگ / تعمیراتی سیکٹر میں مصروف ثانوی اور ایم ایس ایم ای سیکٹر کی اسٹیل صنعت کو راحت دینے کے لئے 8 ایم ایل کی ٹی ایم ٹی شرط کو کوالٹی کنٹرول آر ڈر کے دائرہ اختیار سے ہٹادیا گیا ہےکیونکہ ان کااستعمال ضروری چیزوںمیں ہوتا ہے ۔ حکومت نے لوہا اور اسٹیل کی دستیابی میں اضافہ کرنے کے لئے بھی کئی قدم اٹھائے ہیں۔ اس کے لئے خام لوہے کی پیداوار اور دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے کانکنی اور معدنیاتی پالیسی میں اصلاحات کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ مرکزی حکومت پردھان منتری آواس یوجنا –شہری سمیت سستے مکانوں کے پروجیکٹوں کی تعمیراتی لاگت کو کنٹرول کرنے کے لئے کئی قدم اٹھارہی ہے جیسے کہ زیرتعمیر سستے مکانو ں کے پروجیکٹوں پر گڈس اینڈ سروسز ٹیکس ( جی ایس ٹی ) کو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ ( آئی ٹی سی ) کے بغیر موجودہ 8فیصد سے گھٹاکر ایک فیصد اور دیگر مکانوں کے پروجیکٹوں میں آئی ٹی سی کے بغیر بارہ فیصد سے گھٹاکر پانچ فیصد کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ میٹرو شہروں میں سستے مکانوں کے پروجیکٹ کے ترجیحی سیکٹر کو قرضے کی فراہمی 28 لاکھ روپے سے بڑھاکر 35 لاکھ روپے اور غیر میٹرووالے شہروں میں 20 لاکھ سے بڑھاکر 25 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل ہاؤسنگ بینک میں سستے مکانوں سے متعلق ایک فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے ۔
*************
ش ح۔ق ت۔رم
U-8963
(ریلیز آئی ڈی: 1850454)
وزیٹر کاؤنٹر : 100