وزارات ثقافت
وزارت ثقافت نے اپنے خودمختار اداروں کے ذریعہ قبائلی ثقافت، فن اور ادب میں تحقیق ومطالعہ کیلئے مختلف اقدامات کئے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2022 6:34PM by PIB Delhi
وزارت ثقافت نے اپنے خودمختار اداروں جیسے کہ ساہتیہ اکادمی، سنگیت ناٹک اکادمی اور ثقافتی وسائل اور تربیت کیلئے مرکز (سی سی آرٹی) کے ذریعہ قبائلی ثقافت، فن اور ادب سے متعلق تحقیق اور مطالعہ کیلئے جیسے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔
سی سی آرٹی ملک بھر کے اسکولوں میں قبائلی ثقافت سمیت ہندوستانی ثقافت کے بارے میں بیداری پھیلانے کیلئے مختلف تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرتا ہے۔ سی سی آرٹی نے قبائلی غلبہ والے علاقوں میں اپنے علاقائی مراکز قائم بھی کئے ہیں اور وہ علاقائی مراکز اس طرح ہیں: علاقائی مرکز گوہاٹی (آسام)، علاقائی مرکز ادے پور(راجستھان)، علاقائی مرکز حیدرآباد اور علاقائی مرکز دموہ (مدھیہ پردیش)۔ ان علاقائی مراکز پرمنعقدہ تربیتی پروگراموں میں قبائلی ماہرین اور فنکار بھی شامل ہورہے ہیں۔
ساہتیہ اکادمی ملک بھر میں قبائلی ادب پر آن لائن اور آف لائن سیمینارز، مباحثوں کا اہتمام کرتی ہے۔ اس طرح کی تقریبات اب تک علاقائی اور قومی سطح پر منعقد کی جا چکی ہیں، اس کے علاوہ کئی اہم مطبوعات منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ اکیڈمی نے ان زبانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اگرتلہ میں نارتھ ایسٹ سنٹر فار اورل لٹریچر (این ای سی او ایل) قائم کیا ہے جو ان زبانوں سے متعلق اشاعتیں اور وقتاً فوقتاً ان زبانوں میں سرگرمیوں اور پروگراموں کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ ان زبانوں میں میزو، آو، گارو، چکما، ربھا، کربی، ہمار، لیپچا، خاصی، ٹنگکھل، مسنگ، ٹینیدائی، کوک بوروک، جینتیا، تولو، گوجری اور ہو وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ساہتیہ اکادمی نے شملہ میں 16 سے 18 جون 2022 تک بین الاقوامی ادبی میلے کا انعقاد کیا۔
سنگیت ناٹک اکادمی ہندوستان کے روایتی، فولڈ اور پرفارمنگ آرٹس کے شعبوں میں تحقیق، دستاویزات اور اشاعتوں کے لیے افراد کو مالی مدد فراہم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ، قبائلی امور کی وزارت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مختلف کاموں کے لیے مالی مدد فراہم کر رہی ہے جو ریاستی قبائلی تحقیقی اداروں کے ذریعے ‘‘قبائلی تحقیقی اداروں سے تعاون’’ کی مرکزی اعانت یافتہ اسکیم کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔ ان ریاستوں کی ٹی آرآئی قبائلی ثقافت پر تحقیقی مطالعہ/کتابوں کی اشاعت/دستاویزات کا کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ‘قبائلی تحقیق،معلومات، تعلیم، مواصلات اور پروگرام (ٹی آرآئی- ای سی ای) اسکیم کے تحت شفا یابی کے قبائلی طور طریقوں، قبائلی زبانوں وغیرہ کے مطالعہ کے لیے تحقیقی اداروں کو پروجیکٹوں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
للت کلا اکادمی قبائلی فنکاروں کے فائدے کے لیے بصری فنون کے فروغ کے مقصد سے بہت سے کام کر رہی ہے۔
اس اکادمی کی طرف سے حالیہ برسوں میں حسب ذیل قبائلی آرٹ کیمپس کا انعقاد کیا گیا ہے:
- للت کلا اکادمی ریجنل سنٹر، بھونیشور نے ریجنل سنٹر بھونیشور کے زیر اہتمام 14 سے 19 فروری 2019 تک پنتھ نیواس میں روایتی اور قبائلی آرٹس کانفرنس کا انعقاد کیا۔
- علاقائی مرکز، چنئی کے زیر اہتمام 18.07.2019 سے 22.07.2019 تک اراکو وادی (آندھرا پردیش) میں قبائلی خواتین فنکار کیمپ (لوک اور روایتی) کا انعقاد۔
- علاقائی مرکز، چنئی کے ذریعے 14 سے 20 نومبر، 2019 تک دکشن چتر میں دکشن چتر میوزیم ہیریٹیج کے اشتراک سے قبائلی، لوک اور روایتی فن کنونشن کا اہتمام ۔
- علاقائی مرکز، چنئی کے زیر اہتمام 20فروری 2020 سے 24 فروری 2020 تک دہانو، مہاراشٹر میں قومی قبائلی فن سمٹ کیمپ۔
- علاقائی مرکز، لکھنؤ کے زیر اہتمام 10 فروری 2020 سے 15 فروری 2020 تک بندھو گڑھ، مدھیہ پردیش میں قومی قبائلی فن نمائش (کیمپ) کا انعقاد۔
- قبائلی اور شمال مشرقی خطے کے طلباء کو اہمیت دینے کے لیے للت کلا اکادمی نے مزید 15 وظائف شروع کیے ہیں اور اسکالرشپ کی رقم 10000 روپے سے بڑھا کر 20000 روپے ماہانہ کر دی ہے۔
یہ جانکاری ثقافت اور سیاحت اورشمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر جناب جی کشن ریڈی نے آج راجیہ سبھا میں دی۔
*********************
(ش ح ۔ ع ح۔)
28.07.2022
U.No. 8348
(ریلیز آئی ڈی: 1846128)
وزیٹر کاؤنٹر : 166