بجلی کی وزارت
بجلی کی پیداوار کی لاگت کو کم کرنےاور اس کے نتیجے میں صارفین کو بجلی کی قیمت میں کمی کرنے کے لیے حکومت ہند کی طرف سے متعدد مداخلتیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2022 4:09PM by PIB Delhi
بجلی کے قانون 2003 کے مطابق، مختلف زمروں کے صارفین کے لیے شرحوں کا تعین ، ریاستی بجلی ریگولیٹری کمیشنز/ریاستی بجلی ریگولیٹری جوائنٹ کمشنز، بجلی کے قانون 2003 کے مطابق کرتے ہیں۔ البتہ، ریاستی سرکاریں صارفین کے کسی بھی طبقے کو سبسڈی فراہم کرسکتی ہیں۔ بجلی کے قانون 2003 کی دفعہ 65 کی شقوں کے مطابق جس حد تک وہ مناسب سمجھیں، سبسڈی فراہم کرسکتے ہیں۔شرحوں کی پالیسی 2016، کراس سبسڈی کی اجازت دیتی ہےجو کہ شرح کی پالیسی کی لاگت کے 20 فیصد کے اندر اندر ہوں ۔
حکومت ہند نے بجلی کی پیداوار کی لاگت کو کم کرنے اور اس کے نتیجے میں صارفین کو بجلی کی قیمت میں کمی کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کئے ہیں:
- حکومت نے ، مئی 2016 میں ریاستی / مرکزی جینکوز کو اپنے پیدا کرنے والے اسٹیشنوں کے درمیان گھریلو استعمال کے کوئلے کےاستعمال میں لچک پیدا کرنے کی اجازت دی تاکہ ان کے سب سے زیادہ کارآمد پلانٹ کے لیے زیادہ سے زیادہ کوئلہ مختص کرکے نیز نقل وحمل کی لاگت میں بچت کرکے ، بجلی کی پیداوار کی لاگت کو کم کیا جاسکے۔ ریاستیں، بولی کے عمل کے ذریعے، منتخب آئی پی پیز کو اپنا روابطی کوئلہ بھی منتقل کرسکتی ہیں اور مساوی بجلی حاصل کرسکتی ہیں۔
- نقل وحمل کی لاگت کو بہتر بنانے کے مقصد سے ، ریاستی/مرکزی جینکوز اور آئی پی پیز کے روابط کے وسائل کو معقول بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔
- iii. حکومت نے ، شکتی (کوئلہ(کوئلہ) کو بہتر طریقے سے ہندوستان میں استعمال کرنے اور مختص کرنے کی اسکیم)-2017 نامی اسکیم متعارف کرائی ہے تاکہ بجلی کے ان پلانٹس کو کوئلے کے لنکیج فراہم کئے جاسکیں جن کا رابطہ نہیں ہے۔ اس طرح بجلی پیدا کرنے والوں کو سستا کوئلہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور اسی طرح پیداوار کی لاگت میں کمی آئے گی۔
- iv. بین ریاستی جنریٹنگ اسٹیشنوں کے لیے میرٹ آرڈر ڈسپیچ نظام قائم کیا گیا ہے جس کے تحت پہلے، زیادہ موثر/ کم لاگت والے پلانٹ سے بجلی فراہم کی جاتی تھی۔
یہ معلومات بجلی اور ایم این ا ٓر ای کے مرکزی وزیر جناب آر کے سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
U.No.8314
(ش ح - اع - ر ا)
(ریلیز آئی ڈی: 1845894)
وزیٹر کاؤنٹر : 161