ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ملبوسات کی برآمد کو فروغ دینے سےمتعلق کونسل نے بھارتی گارمنٹ صنعت  میں سرکولیشن کوفروغ دینے سے متعلق  صلاح ومشورہ کے لئےاہم اجلاس کااہتمام کیا


حکومت پالیسی تعاون کے ساتھ صنعت کی مدد کرنےکو تیارہےتاکہ  پائیدار اور سرکلر معیشت کے لئےایک ٹھوس ایکو نظام تیار کیا جاسکے :ٹیکسٹائل کےسکریٹری کا بیان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 JUL 2022 5:23PM by PIB Delhi

ملبوسات کی برآمد کو فروغ دینے سے متعلق کونسل نے آج گڑگاؤں کے ایپرل ہاؤس میں  بھارتی گارمنٹ صنعت میں سرکولیشن کو فروغ دینے سے متعلق ایک ا ہم اجلاس کا اہتمام کیا۔ کونسل  نے اس پہل کے لئے نیدر لینڈ کے فیشن فارگوڈس کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔

ملبوسات کی برآمدات کو فروغ دینےسے متعلق کونسل ( اے ای پی سی ) نے  عالمی سطح پر گارمینٹ کی برآمدات کو مقابلہ جاتی بنانے کے لئے ایک پائیدار مہم شروع کی ہے اوراسکے سرکولیشن کو بڑھانے کے لئے بھی پہل کی ہے تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کوزیادہ فعال بنایا جاسکے ۔ یہ بات ٹیکسٹائل کے سکریٹری جناب یوپی سنگھ نے اجلاس کے دوران ایک خصوصی خطاب میں کہی۔ میٹنگ میں گارمنٹ کے تجارت کے ممتاز صنعتی سربراہان اور دیگرشراکت دار بھی موجود تھے۔

یہ ہنگامی اجلاس نیندرلینڈ کی فیشن فارگڈ کے تعاون سے منعقدکیا گیا تھا جس میں وہ سبھی شراکت دار شامل ہوئے جو گارمینٹ ویلیو چین نیز برانڈ پارٹنرس (پی وی ایچ، ایڈاس، ایل ایس اینڈ کمپنی، ٹیسکو، ٹارگیٹ، پرائیمارک)سپلائی چین پارٹنرس : اروند، برلا، سیلو لوس اور ویلس پن انڈیا، پری کنزیومر پائلٹ اسٹیک ہولڈرس : 20 مینوفیکچررس،  ٹکنالوجی اختراع کار :ریسور ریسورسیز، متوہا، پک ویساوغیرہ میں مصروف ہیں ۔

اپنے خطاب کے دوران ٹیکسٹائلس کے سکریٹری نے اے پی سی پہل کی تعریف کی اور پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہاکہ پائیداری اور سرکولیشن ملک کے نئی بات نہیں ہے ۔ انہوں نےکہاکہ ہمارے لئے جو اطمینان کی بات ہے وہ یہ ہے کہ تقریبا59 فیصد گارمنٹ کو ری سائیکل اوردوبارہ قابل استعمال بنایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سکریٹری نے کہاکہ حکومت ترغیبات، موجودہ طریقہ کار، معیارکے ساتھ اس صنعت کی مدد کرنےکو تیار ہے تاکہ ایک پائیداراور مدورمعیشت کے لئے  ٹھوس ایکو نظام تیارکرناہے ۔

اپنےافتتاحی بیان میں اے ای پی سی کے چیئر مین نارین گوئنکانے کہاکہ جو اہم معاملہ ہے جس نے عالمی صارفین کی توجہ مبذول کرائی ہے ،  پری اور پوسٹ کنزیومرمرحلہ میں  ٹیکسٹائل کچرے کے ذریعہ تیار کی گئی  لینڈ فیلڈ تعاون ہے۔ مینوفیکچرنگ پروسیس کے دورانل لگ بھگ 50 فیصد فیبرک ضائع ہوجاتی ہے اور اور تیز فیشن کے رجحانات کی وجہ سے تمام تیار شدہ ملبوسات میں سے 81 فیصد کو یا تو صارفین کے استعمال کے بعد مختصر لائف سائیکل کی وجہ سے یا اضافی سٹاک کی وجہ سے لینڈ فل کے طور پر پھینک دیا جاتا ہے۔

ملبوسات کی عالمی منڈی کا حجم 2021 میں 551.36 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں 605.4 بلین ڈالر اور 2026 میں 843.13 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اور یہ  8.6 فیصد کی شرح نمو سے آگے بڑھے گا۔ اور وزارت حکومتی ترغیبات جیسے پی ایل آئی اورپی ایم ایم آئی ٹی آر اے کی مدد کرتی ہے ، بھارت  بڑھتی ہوئی عالمی مانگ  کوپورا کرنےمزید پیداوار  بڑھانےکے لیے تیار ہے۔ اے ای پی سی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنی بنیادی طاقت کے ساتھ کم سے کم درآمدی انحصار کے ساتھ مختلف قسم کے خام مال دستیاب کراتا ہے جسکی وجہ سے جس کی وجہ سے لیڈ ٹائم کم ہوتا ہے، اور وہ بڑے بین الاقوامی برانڈز اور خوردہ فروشوں کے لیے مینوفیکچرنگ کا ایک ترجیحی مرکز بن گیا ہے۔

 اس کے علاوہ اے ای پی سی نے ایم ا یس ایم ا یز کے درمیان ان اقدامات کی وسیع تر رسائی کی حوصلہ افزائی کرنے کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی ہے جو ان یونٹس کو مظاہروں اور حل، پائیداری کے ایوارڈز، برانڈنگ کی کوششوں وغیرہ کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں۔ اس طرح اے ای پی سی  کو ملبوسات کی صنعت  کے ساتھ وابستہ شدیدایکو لوجیکل اورماحولیاتی آلودگی کی ذمہ داری کومتوازی طور پر لینے کی ضرورت ہے ، جس نے گھریلو مینوفیکچرنگ کو بڑھایا ہے۔

جناب گوئنکا نے مزید کہا کہ مدور معیشت کے اپروچ کے تصور کو فروغ دینے کے لئے اے ای پی سی کی طرف سے حال ہی میں پہل کی گئی ہے ۔ اس پہل سے ہندوستانی گارمنٹ مینوفیکچررز کو  مددلےگی جس سے وہ ٹیکسٹائل سے زرعی فضلہ، ٹیکسٹائل کی کیمیائی ری سائیکلنگ، ٹیکسٹائل کے فضلے، متبادل چمڑے، دوبارہ پیدا ہونے والی زراعت، گندے پانی، پلاسٹک کی ری سائیکلنگ اور ٹیکسٹائل سپلائی چین میں ٹریس ایبلٹی سمیت مسائل کو حل کرکے اپنے دائرہ کار کے اہداف حاصل کرلیں گے۔

ہندوستان کے پاس ایک اچھی نوعیت کا نیٹ ورک والا ٹیکسٹائل ویسٹ ویلیو چین ہے جس کے ذریعے پورے ملک میں فضلہ کی منتقلی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، ٹریس ایبلٹی سسٹم کی کمی، ضرورت سے زیادہ لاگت کی مسابقت، کچرے کی مخصوص اقسام کو پروسیس کرنے کے لیے محدود بنیادی ڈھانچے اور ورکرز کی فلاح و بہبود میں سرکلر ویلیو چین کی محدود صلاحیت ہے۔

برآمد کیے گئے ملبوسات کے ہر ٹکڑے کے لیے تقریباً 0.70امریکی ڈالر کے نقصان کااندازہ ہے۔ کچرے کی منزل کا پتہ لگانے کے لیے، یہ پتہ چلا ہے کہ تقریباً 15 ٹن کچرے کی غیر رسمی تجارت ایک ہی زیر زمین مارکیٹ میں ہوئی۔ مجموعی طور پر، اس سے قدر میں اضافے کا ایک اہم نقصان ہوتا ہے جسے سرکلر اکانومی کے ذریعے شامل کیا جا سکتا تھا۔ خیال یہ ہے کہ اس فضلے کو دولت میں تبدیل کیا جائے جو ڈومین میں مصروف افراد کے لیے ایک بہت بڑا کاروباری موقع فراہم کرتا ہے۔

 

 

 

ش ح ۔ح ا۔ ف ر

U. No.8276

 


(ریلیز آئی ڈی: 1845731) وزیٹر کاؤنٹر : 145
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Punjabi