بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
بڑی بندر گاہوں نے رو-پیکس/ مسافر فیریز کو اگلے 6 مہینوں کے لیے بندرگاہوں اور جہاز سے متعلقہ قیمتوں کی ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دیا
بندر گاہوں، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت نے ایم او پی این جی اور ایم او ایف سے فیری ایندھن پر مقررہ نرخوں اور ٹیکسوں کو کم کرنے کی اپیل کی
ریاستوں سے فیریوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے ایچ ایس ڈی پر اپنے ویٹ کم کرنے کی درخواست کی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 JUL 2022 1:12PM by PIB Delhi
بندر گاہوں، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت (MOPSW) رو-رو/رو-پیکس/فیری آبی گزر گاہوں کی نقل و حمل کو فروغ دے رہی ہے جس میں اسی مقدار میں سامان لے جانے میں نقل و حمل کے دیگر طریقوں کے مقابلے کم خرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ نقل و حمل کے روایتی طریقوں کے مقابلے میں بہت زیادہ وقت اور پیسہ بچاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ، سڑک/ ریلوے پر ٹریفک کی بھیڑ، شور کی آلودگی اور سڑکوں پر حادثات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی پانی پر مبنی ٹرانسپورٹ سروس لاجسٹک لاگت کو کم کرنے، سفر کے وقت کو کم کرنے اور متعدد قابل عمل راستوں پر ساحلی جہاز رانی کو فروغ دینے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں عالمی اضافے کے اثرات سے اس شعبے کو کچھ فوری مہلت فراہم کرنے کے لیے، MOPSW نے فی الحال تمام بڑی بندر گاہوں کو اگلے چھ مہینوں کے لیے رو-پیکس فیری/مسافر فیریوں پر بندر گاہوں پر کھڑے ہونے کے لیے حال میں لگائے جا رہے ٹیکسوں اور شپنگ چارجز سے مستثنیٰ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سمندری ایندھن ’لو سلفر ہائی فلیش ہائی اسپیڈ ڈیزل‘ (LSHFHSD) کی قیمت 76,000 روپے/کلو لیٹر سے بڑھ کر 1,21,000 روپے/کلو لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ’ویری لو سلفر فیول آئل‘ (VLSFO) کی قیمت 40608 روپے/کلو لیٹر سے بڑھ کر 80917 روپے/کلو لیٹر ہو گئی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مالی سال 2021-22 کے آغاز میں سمندری ایندھن-LSHFHSD کی قیمت خوردہ ڈیزل-HSD سے 10 سے 15 فیصد کم تھی۔ لہذا، مؤثر طریقے سے اضافہ 40 فیصد سے زیادہ ہے۔
بندر گاہوں، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کے مرکزی وزیر، جناب سربانند سونووال نے حال ہی میں پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری (جی پی ڈویژن) نونیت موہن کوٹھاری اور وزارت خزانہ کے محکمہ محصولات کے جوائنٹ سکریٹری نبا رام اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ کے ساتھ سمندری ایندھن کی اونچی قیمتوں اور فیری آپریشنز سے متعلق میٹنگ کی۔
اس سلسلے میں، انھوں نے مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور، محترمہ نرملا سیتا رمن اور جناب ہردیپ سنگھ پوری اور پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر کو ایک خط لکھا، جس میں اس مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے، ان سے کہا گیا کہ وہ اس شعبے کو اپنا تعاون فراہم کریں نیز ایندھن پر ٹیکس اور قیمتوں میں کمی کی درخواست کی گئی۔ بندر گاہوں، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت نے تمام ریاستوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ سیکٹر کے ذریعہ استعمال ہونے والے HSD پر VAT کی شرح کو کم کریں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سمندری ایندھن کی قیمتیں، بشمول ٹیکس، وسیع تر سطحی آبی نقل و حمل کے نظام اور ایکو سسٹم کی پوری ویلیو چین پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالتی ہیں، یہ ایک بوجھ ہے جسے فیری آپریٹرز عام لوگوں پر نہیں ڈال سکتے، جن کے پاس ریل یا سڑک کے راستے حکومت کی جانب سے کم قیمتوں پر چلائی جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو استعمال کرنے کا اختیار موجود ہے۔ یہ عملی رکاوٹیں بالآخر ملک میں اس ابھرتے ہوئے سطح آب کی نقل و حمل کے ماحولیاتی نظام کے قیام میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
نوٹیفکیشن نمبر 1212017-مرکزی ٹیکس (ریٹ) مورخہ 28.06.2017 کے مطابق، یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اندرون ملک آبی گزر گاہوں کے ذریعے مسافروں کی ٹرانسپورٹ سروس کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
جناب سربانند سونووال نے کہا، ”بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمت اب ہمارے مقامی رو-پیکس اور مسافر فیری آپریشنز کو ناقابل عمل بنا رہی ہے، اس لیے ایم او پی ایس ڈبلیو کی طرف سے اگلے 6 ماہ کے لیے اس شعبے کو ضروری ریلیف کے طور پر جہاز اور بندرگاہ سے متعلق چارجز کو معاف کر دیا گیا ہے۔ MoPNG سے ایندھن کی قیمتوں میں کمی پر غور کرنے اور وزارت خزانہ سے متعلقہ ٹیکسوں کو کم کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ موجودہ حالات میں اس شعبے کو ضروری مدد فراہم کی جا سکے۔
ساگر مالا پروگرام کے تحت گھوگھا اور ہزیرہ کے درمیان دین دیال پورٹ اتھارٹی کی طرف سے لاگو رو-پیکس خدمات نے سفر کا وقت 12 گھنٹے سے کم کر کے 4 گھنٹے کر دیا ہے۔ رو-پیکس فیری سروس نے اپنے آغاز کے بعد سے 78,000 سے زیادہ گاڑیوں اور 2.6 لاکھ سے زیادہ مسافروں کو منتقل کیا ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر میری ٹائم بورڈ نے ممبئی-منڈوا روٹ پر رو-پیکس فیری سروس شروع کی ہے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں تقریباً 3 گھنٹے سڑک کے سفر کی بچت ہوئی جبکہ سمندر کے ذریعے 45 منٹ کی بچت ہوئی۔ 5.5 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اس رو-پیکس سروس سے استفادہ کیا ہے اور 1 لاکھ سے زیادہ گاڑیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔
سمندری ایندھن کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں اور ان کے بنکر کی قیمتوں کا تعین، فیری آپریٹروں کے لیے غیر مؤثر جی ایس ٹی ان پٹ کریڈٹس، سمندری ایندھن اور ریٹیل سطحی پانی کی نقل و حمل کو فروغ دینے اور ملک کے نئے ابھرتے ہوئے اندرون ملک مسافروں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کے ماحولیاتی نظام کی حوصلہ افزائی کے لیے ایندھن کی قیمتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق پر دھیان دیا جانا چاہیے اور اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے ضروری غور و فکر کی جانی چاہیے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع-م ف
U: 8053
(ریلیز آئی ڈی: 1844463)
وزیٹر کاؤنٹر : 180