سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
شاہراہوں پر حادثاتی موت کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 JUL 2022 12:56PM by PIB Delhi
روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر، جناب نتن گڈکری نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں درج ذیل معلومات فراہم کیں۔
سال 2019 اور 2020 کے دوران ملک میں قومی شاہراہوں (این ایچ) اور ریاستی شاہراہوں (ایس ایچ) پر سڑک حادثات کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد نیچے کے جدول میں پیش کی گئی ہے:-
جدول: سڑک کی درجہ بندی (سال 2019 اور 2020) کے حساب سے سڑکوں پر ہونے والی ہلاکتیں
|
سڑکوں کی درجہ بندی
|
سڑکوں کی لمبائی (کلومیٹر میں) (2019)
|
سال 2019 میں سڑکوں پر ہونے والی ہلاکتیں
|
سال 2020 میں سڑکوں پر ہونے والی ہلاکتیں
|
|
ملک میں تمام سڑکیں (این ایچ، ایس ایچ اور دیگر سڑکیں)
|
6331757
|
151113
|
131714
|
|
قومی شاہراہ (این ایچ)
|
132499
|
53872
|
47984
|
|
مجموعی طور پر این ایچ کا حصہ فیصد میں
|
2.1
|
35.7
|
36.4
|
|
ریاستی شاہراہیں (ایس ایچ)
|
179535
|
38472
|
33148
|
|
مجموعی طور پر ایس ایچ کا حصہ فیصد میں
|
2.8
|
25.5
|
25.2
|
ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی متعدد وجہیں ہیں، جن کی درجہ بندی وسیع تناظر میں یوں کی جا سکتی ہے- انسانوں سے ہونے والی غلطی، روڈ کی حالت/ماحول اور گاڑیوں کی حالت۔ قومی شاہراہوں پر ہونے والے سڑک حادثات کو روکنے کے لیے جو قدم اٹھائے گئے ہیں، ان کی تفصیلات نیچے دی جا رہی ہیں:
- وزارت نے 28.10.2015 کو جاری کیے گئے سرکلر نمبر RW/NH-15017/109/2015-P&M (RSCE) کے مطابق سیاہ مقامات (بلیک اسپاٹ) کی نشاندہی کے لیے پروٹوکول کی وضاحت کی ہے۔ اس سرکلر کے مطابق، سڑک حادثہ سے متعلق سیاہ مقام قومی شاہراہ کی تقریباً 500 میٹر لمبی سڑک ہے، جس پر گزشتہ 3 سالوں کے دوران یا تو 5 سڑک حادثے ہوئے ہیں (ان تینوں سالوں میں کل ملا کر ہونے والی ہلاکتیں/بری طرح زخمی ہونے کے واقعات) یا گزشتہ 3 سالوں کے دوران 10 لوگوں کی موت (تینوں سالوں کو ملا کر) ہوئی ہے۔ ریاستی حکومتوں کے پولیس محکمہ کے ذریعے جمع کیے گئے سڑک حادثہ کے ڈیٹا کی بنیاد پر جنہیں اس وزارت کے ٹرانسپورٹ ریسرچ ونگ (ٹی آر ڈبلیو) نے جمع کیا گیا ہے، سیاہ مقامات کی نشاندہی فوری قلیل مدتی اقدام کرنے کے لیے کی جاتی ہے تاکہ انہیں کم کیا جا سکے اور پھر ان کے مکمل تصفیہ کے لیے طویل مدتی قدم اٹھائے جاتے ہیں۔
- وزارت نے تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریز، تمام ریاستوں کے پرنسپل سکریٹریز/سکریٹریز/تمام انجینئرز ان چیف اور چیف انجینئرز (پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ)، ڈائرکٹر جنرل (بارڈر روڈز)، چیئرمین (این ایچ اے آئی)، مینیجنگ ڈائرکٹر (این ایچ آئی ڈی سی ایل)، وزارت کے تمام سی ای-آر او/ایس ای آر او اور ای ایل او اور وزارت کے تمام پروجیکٹ ڈائرکٹرز کو 9 ستمبر، 2021 کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ پولیس رپورٹوں کی بنیاد پر قومی شاہراہوں پر حادثے کے مقامات کو ختم کرنے کے لیے پیشگی قدم اٹھائیں اور حادثات/ہلاکتوں کے بعد انہیں سیاہ مقامات میں بدلے جانے کا انتظار نہ کریں۔
- قومی شاہراہوں پر روڈ سیفٹی آڈٹ کے لیے تفصیلی رہنما خطوط تیار کر لیے گئے ہیں اور انہیں نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔ روڈ سیفٹی آڈٹس کو ای پی سی/بی او ٹی موڈ میں تمام قومی شاہراہوں کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔ وزارت نے سرکلر جاری کرکے 5 کلومیٹر یا اس سے زیادہ لمبی نئی سڑک کے تمام پروجیکٹوں کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (پی آر)/انجینئرنگ ڈیزائن کے مرحلے میں روڈ سیفٹی آڈٹ کو لازمی بنایا ہے۔
- اس وزارت اور آئی آر سی نے سڑکوں کی حفاظت سے متعلق متعدد اقدامات کے نفاذ کے سلسلے میں وقتاً فوقتاً متعدد ضابطے اور رہنما خطوط جاری کیے ہیں، تاکہ قومی شاہراہوں پر ہونے والے حادثات میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، سڑکوں کی حفاظت سے متعلق سپریم کورٹ کی کمیٹی نے متعدد میٹنگوں کے دوران متعدد ریاستی حکومتوں کو انجینئرنگ سے متعلق اقدامات سمیت سڑکوں کی حفاظت کے اقدامات کے نفاذ کے لیے ہدایت جاری کی ہے۔
- سڑکوں کی تعمیر سے وابستہ تمام ایجنسیوں کو تعمیر کے دوران شاہراہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ سڑکوں پر لگے نشانات، مختلف سمتوں میں جانے والی سڑکوں کی تعمیر اور این ایچ گائیڈ لائنس اور آئی آر سی معیاروں کے مطابق دیگر مطلوبہ التزامات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری کارروائی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ آئی آر سی ’’کام والے علاقوں میں ٹریفک کے انتظام کے بارے میں رہنما خطوط‘‘ سے متعلق آئی آر سی: ایس پی:2014-55 پہلے ہی جاری کر چکا ہے۔
- وزارت نے اپنی نفاذی ایجنسیوں، یعنی این ایچ اے آئی، این ایچ آئی ڈی سی ایل اور ریاستی پی ڈبلیو ڈی کے این ایچ شعبوں کے توسط سے سڑکوں کی حفاظت سے متعلق بنیادی ڈھانچوں میں بہتری کے لیے درج ذیل قدم اٹھائے ہیں:-
- تمام قومی شاہراہوں پر ہر مرحلے (ڈیزائن، تعمیر، اور آپریشن) میں روڈ سیفٹی آڈٹ ؛
- قومی شاہراہوں پر جہاں جہاں جنکشن آنے والے ہیں وہاں وہاں دھاری دار نشانات بنانا؛
- این ایچ نیٹ ورک کے مطلوبہ مقامات پر رفتار کی حد سے متعلق نشانات؛
- بغل والی سڑکوں پر اسپیڈ بریکر اور اس سے متعلق نشانات؛
- آئی آر سی کے مطابق آگے جہاں بھی جنکشن آنے والے ہیں وہاں پر اس کی نشاندہی کے لیے ہلکی روشنی کا انتظام؛
- اونچے پشتوں اور پہاڑی علاقوں میں کریش بیریئر کی تنصیب؛
- روڈ سیفٹی آڈٹ میں سرٹیفکیٹ کورس کرنے کے لیے انجینئروں کی حوصلہ افزائی کرنا، جس کے لیے آئی آئی ٹی اور دیگر سرکردہ تکنیکی تعلیم/تحقیقی اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے ہیں؛
- ایک بلیک اسپاٹ ایم آئی ایس پورٹل تیار کیا گیا ہے جہاں تمام سیاہ مقامات کی تفصیلات، آئی ڈی، تصاویر، اور انہیں ٹھیک کرنے کی حالت اور ٹھیک کر دیے جانے کے بعد کی فیڈ بیک جمع کی جائیں گی اور ان پر نظر رکھی جائے گی۔
روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے مرکزی موٹر گاڑیوں کے ضابطے، 1989 کے ضابطہ 95 میں ترمیم کی ہے، جو سی 1 (مسافر کاروں)، سی 2 (ہلکے ٹرک) اور سی 3 (ٹرک اور بس) کے ٹائروں میں رولنگ ریزسٹینس، ویٹ گرپ اور رولنگ ساؤنڈ ایمیشن کو لازمی بنایا گیا ہے، جیسا کہ آٹوموٹیو انڈسٹری اسٹینڈرڈ 142:2019 میں وضاحت کی گئی ہے۔ مذکورہ ٹائر میں ویٹ گرپ اور رولنگ ریزسٹینس اور رولنگ ساؤنڈ ایمیشن کی اسٹیج 2 حدود کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ اس اے آئی ایس میں وضاحت کی گئی ہے۔
سی 1، سی 2 اور سی 3 ٹائروں میں رولنگ ریزسٹینس کی اثر انگیزی کے دوسرے مرحلے کے تقاضوں کی وضاحت اے آئی ایس: 142 میں کی گئی ہے۔
*****
ش ح – ق ت – ت ع
U: 7920
(ریلیز آئی ڈی: 1843552)
وزیٹر کاؤنٹر : 145