صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این آر ایچ ایم اور این یو ایچ ایم کے تحت حاصل کردہ کامیابیاں


آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت، جامع پرائمری ہیلتھ کیئر (سی پی ایچ سی) کے بارہ پیکیج فراہم کرنے کے لیے موجودہ ذیلی صحت مراکز (ایس ایچ سی) اور بنیادی صحت مراکز (پی ایچ سی) کو اے بی- ایچ ڈبلیو سی میں تبدیل کیا گیا

ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تعاون دینے کے لیے سینٹرل کمپوننٹ  سمیت 23123 کروڑ روپے کے ای سی آر پی-II فنڈز  کو مرکزی کابینہ نے منظوری دی

سال 2025-26 تک 64180 کروڑ روپئے کے صرفہ سے پی ایم- اے بی ایچ آئی ایم میں صحت عامہ اور دیگر صحت اصلاحات میں  زیادہ سرمایہ کاری کا تصور کیا گیا

مرکزی اسپانسرڈ اسکیم (سی ایس ایس) کے تحت، ’موجودہ ڈسٹرکٹ/ریفرل اسپتالوں کے ساتھ منسلک نئے میڈیکل کالجوں کا قیام‘ کے مطابق 157 میڈیکل کالجوں کے قیام کو منظوری دی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 JUL 2022 5:52PM by PIB Delhi

قومی صحت مشن (این ایچ ایم) مساوی، سستی اور معیاری حفظان صحت خدمات تک ہمہ گیر رسائی کے حصول کا تصور کرتا ہے، جو لوگوں کی ضروریات کے تئیں جواب دہ اور ذمے دار ہوں۔ این ایچ ایم دو ذیلی مشنوں، نیشنل رورل ہیلتھ مشن (این آر ایچ ایم) اور نیشنل اربن ہیلتھ مشن (این یو ایچ ایم) پر محیط ہے۔ پروگرام کے اہم اجزاء میں دیہی اور شہری علاقوں میں صحت کے نظام کی مضبوطی، تولیدی-زچگی- نوزائیدہ بچے اور نوعمروں کی صحت (آر ایم این سی ایچ+اے) اور متعدی و غیر متعدی امراض شامل ہیں۔

پبلک ہیلتھ اینڈ ہاسپٹل ریاست کا موضوع ہے، اس لیے موجودہ صحت/طبی سہولیات کو مضبوط بنانے سمیت صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری، خاص طور پر دیہی اور کمزور آبادی کے لیے، متعلقہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں پر ہے۔ نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت، صحت اور کنبہ بہبود کی وزارت، حکومت ہند ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرتی ہے، جس میں ان کے پروگرام کے مطابق پیش کردہ تجاویز کی بنیاد پر ضلع اسپتال کی سطح تک صحت/طبی سہولیات تک رسائی کے لئے تعاون شامل ہے۔ حکومت ہند دستیاب وسائل کے مطابق ریکارڈ آف پروسیڈنگز (آر او پی) کی شکل میں تجاویز کے لیے منظوری فراہم کرتی ہے۔

حکومت ہند ریاستوں کو انڈین پبلک ہیلتھ اسٹینڈرڈ کے مطابق صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تعاون فراہم کرتی ہے۔ ان معیارات میں خدمات، بنیادی ڈھانچہ، انسانی وسائل، تشخیص، آلات، ادویات وغیرہ کے معیارات شامل ہیں۔

آیوشمان بھارت کے تحت، موجودہ سب ہیلتھ سینٹرز (ایس ایچ سی) اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سی) کو اے بی- ایچ ڈبلیو سی میں تبدیل کردیا گیا ہے، تاکہ جامع پرائمری ہیلتھ کیئر (سی پی ایچ سی) کے بارہ پیکیج فراہم کیے جا سکیں جن میں احتیاطی، پروموٹیو، علاج و معالجہ، بازیابی / بحالی کی خدمات شامل ہیں۔ جو کہ ہمہ گیر، آزاد اور کمیونٹی کے قریب ہے۔ آیوشمان بھارت ہیلتھ اور ویلنیس سینٹرس (اے بی- ایچ ڈبلیو سی) کے ایک اور لازمی جزو ’ای سنجیونی‘ کے ذریعے ٹیلی کنسلٹیشن خدمات کا آغاز ہے۔ یہ پلیٹ فارم کمیونٹیز کے لیے ایک ہب اور اسپوک ماڈل کے ذریعے ٹیلی میڈیسن کی خدمات فراہم کرتا ہے، جو ماہر مشاورتی خدمات کے لیے اے بی- ایچ ڈبلیو سی (اسپوکس) کو ڈسٹرکٹ ہسپتالوں/میڈیکل کالجوں (ہب) سے جوڑتا ہے۔ ٹیلی کنسلٹیشن سروسز کا مقصد کمیونٹیز، خاص طور پر دیہی علاقوں میں ماہرانہ خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

مزید برآں، صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مستقبل میں صحت کی دیکھ بھال سے متعلق ضروریات کی تکمیل کے لئے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں۔

• سینٹرل کمپوننٹ سمیت 23123 کروڑ روپئے کے ’’ایمرجنسی رسپانس اینڈ ہیلتھ سسٹمز پری پیئرڈنیس پیکیج –II (ای سی آر پی-II)‘‘ کو کابینہ نے ملک کے تمام اضلاع میں ضلعی پیڈیاٹرک یونٹس (بشمول آکسیجن سپورٹیڈ بیڈز اور آئی سی یو بیڈز) کے قیام کے لیے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تعاون دینے کے مقصد سے منظوری دی۔ اس کے علاوہ، سرکاری صحت سہولیات میں آئی سی یو بستروں کی دستیابی کو بڑھانے کے لیے بھی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ مؤثر کووڈ مینجمنٹ کے لیے ضروری ادویات کے بفر اسٹاک کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مطلوبہ ادویات اور تشخیصی آلات کی فراہمی میں بھی تعاون دیا جاتا ہے۔ جہاں بھی ضرورت ہو، فیلڈ اسپتالوں (100 بستروں یا 50 بستروں والے یونٹ) کے قیام کے لیے بھی مدد دستیاب ہے۔

• سال 2025-26 تک 64180 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ پی ایم آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم- اے بی ایچ آئی ایم) میں دیہی علاقوں میں صحت تک بہتر رسائی کے لیے صحت عامہ اور صحت سے متعلق دیگر اصلاحات میں سرمایہ کاری میں اضافہ کا تصور کیا گیا ہے ۔  یہ کام i) بیماریوں کا جلد پتہ لگانے کے لیے گاؤں اور شہروں میں صحت وتندرستی کے مراکز کو مضبوط بناکر، ii) ضلعی سطح کے ہسپتالوں میں نگہداشت سے متعلق نئے بیڈز کا اضافہ کرکے۔  iii)  گیارہ ہائی فوکس ریاستوں میں بلاک پبلک ہیلتھ یونٹس (بی پی ایچ یو) کو تعاون دے کر؛  اور iv) تمام اضلاع میں انٹیگریٹڈ ڈسٹرکٹ پبلک ہیلتھ لیباریٹریز قائم کرکے، انجام دیا جائے گا۔

15 ویں مالیاتی کمیشن (ایف سی-XV) کی سفارشات کے ضمن میں مقامی حکومتوں کے ذریعے مرکزی بجٹ 2021-22 میں اعلان کردہ ہیلتھ گرانٹس، بنیادی صحت دیکھ بھال سہولیات میں موجود خلا کو دور کرتی ہے۔

 پردھان منتری سُواستھ سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی) کا مقصد سستی اور سہ سطحی (ٹرٹیئری) صحت دیکھ بھال خدمات کی دستیابی میں علاقائی عدم توازن کو درست کرنا اور ملک میں معیاری طبی تعلیم کے لیے سہولیات کو بڑھانا ہے۔ اس اسکیم کے دو اجزاء ہیں، یعنی (i) آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس – ایمس) کا قیام؛ اور (ii) موجودہ سرکاری میڈیکل کالجوں/ اداروں (جی ایم سی آئی) کا اپ گریڈیشن۔ اب تک مختلف مراحل میں اس اسکیم کے تحت 22 نئے ایمس کے قیام اور جی ایم سی آئی کے اپ گریڈیشن کے 75 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ایمس کے قیام میں میڈیکل کالج، نرسنگ کالج، اسپتال، ٹراما سینٹر، ایمرجنسی، بلڈ بینک، آئی سی یو، ڈائیگنوسٹک اینڈ پیتھالوجی، ریسرچ وغیرہ شامل ہیں۔ پی ایم ایس ایس وائی کے تحت جی ایم سی آئی کے اپ گریڈیشن میں بڑے پیمانے پر سپر اسپیشلٹی بلاک (ایس ایس بی) اور/یا ٹراما سینٹر کی تعمیر، اور / یا دیگر سہولیات اور/ یا طبی آلات کی خریداری شامل ہے۔

•  مرکزی اسپانسرڈ اسکیم (سی ایس ایس) کے تحت، ’موجودہ ڈسٹرکٹ/ریفرل اسپتالوں کے ساتھ منسلک نئے میڈیکل کالجوں کا قیام‘ کے تحت، 157 میڈیکل کالجوں کے قیام کو منظوری دی گئی ہے۔

صحت اور کنبہ بہبود کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ بات کہی۔

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.7784

 


(ریلیز آئی ڈی: 1842899) وزیٹر کاؤنٹر : 161
یہ ریلیز پڑھیں: English