کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے شمال مشرقی خطے کو زرعی برآمدی مرکز کے طور پر فروغ دینے کی حکمت عملی تیار کی ہے

حکومت کے اقدامات سے شمال مشرقی خطے کی برآمدات میں پچھلے چھ سالوں میں 85 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے

بنگلہ دیش، بھوٹان، مشرق وسطیٰ، برطانیہ، یورپ شمال مشرقی خطے سے مصنوعات کی برآمدات کے لیے اہم مارکٹیں ہیں

اے پی ای ڈی اے نے گزشتہ تین سالوں کے دوران شمال مشرقی خطہ میں برآمدی بیداری سے متعلق 136 صلاحیت سازی کے پروگرام اور 22 بین الاقوامی خریدار فروخت کنندگان کے اجلاسوں کا انعقاد کیا ہے

اے پی ای ڈی اے نے فصل سے پہلے اور فصل کے بعد کے انتظام پر مختلف تربیتی پروگراموں اور دیگر تحقیقی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے آسام زرعی یونیورسٹی، جورہاٹ کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں

Posted On: 12 JUL 2022 7:04PM by PIB Delhi

شمال مشرقی علاقہ (این ای) کی ریاستوں میں اگائی جانے والی باغبانی کی مصنوعات کی برآمد کو بڑھانے کے لیے، حکومت نے اب مقامی طور پر تیار کردہ زرعی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط حکمت عملی تیار کی ہے۔ شمال مشرقی خطہ جغرافیائی طور پر اہم ہے کیونکہ اس کی بین الاقوامی سرحدیں  چین اور بھوٹان، میانمار، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ  ملتی ہیں ، جس کے بنا پر پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مقامات کو زرعی پیداوار کی برآمد کا ایک ممکنہ مرکز  کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔

اس کے نتیجے میں شمال مشرقی خطوں جیسے آسام، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تریپورہ، اروناچل پردیش، سکم اور میگھالیہ سے گزشتہ چند سالوں میں زرعی پیداوار کی برآمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شمال مشرقی خطے میں زرعی مصنوعات کی برآمدات میں گزشتہ چھ سالوں کے دوران 85.34 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ برآمدات  مالی سال 2016-17 میں 2.52 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2021-22 کے دوران 17.2 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ بنگلہ دیش، بھوٹان، مشرق وسطیٰ، برطانیہ، یورپ شمال مشرقی خطے سے مصنوعات کی برآمدات  کے لیے اہم  ممالک ہیں۔

مارکیٹ کے ممکنہ روابط فراہم کرنے کے لیے، وزارت تجارت اور صنعت کے تحت زراعت اور پراسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) درآمد کنندگان کے لیے فیلڈ وزٹ کا اہتمام کرتی ہے تاکہ کسانوں کے ذریعہ اختیار کئے  جانے والے معیاری کاشتکاری کے طریقوں کے بارے میں براہ راست معلومات فراہم کی جا سکے۔ یہ درآمد کنندگان بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ، مشرق بعید کے ممالک اور یورپی ممالک اور آسٹریلیا جیسے ممالک  تھے۔

پچھلے تین سالوں میں، اے پی ای ڈی اے نے شمال مشرقی خطے کے مختلف حصوں میں برآمدی بیداری پر 136 صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کیے ہیں۔ مالی سال 2019-20 کے دوران شمال مشرقی خطے میں سب سے زیادہ 62 صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کیے گئے، مالی سال 2020-21 کے دوران 21 اور مالی سال 2021-22 کے دوران اے پی ای ڈی اے کے ذریعے 53 ایسے ہی صلاحیت سازی کے پروگرام کیے گئے۔ صلاحیت سازی کے اقدامات کے علاوہ، اے پی ای ڈی اے نے گزشتہ تین سالوں کے دوران شمال مشرقی خطے میں 22 بین الاقوامی خریدار فروخت کنندگان اجلاسوں اور تجارتی میلوں کے انعقاد میں بھی سہولت فراہم کی۔

اپیڈا نے 24 جون 2022 کو گوہاٹی میں قدرتی، حیاتیاتی اور جغرافیائی اشاروں  (جی آئی) کے برآمدی امکانات پر ایک کانفرنس کا بھی اہتمام کیا تاکہ آسام اور شمال مشرقی خطے کی پڑوسی ریاستوں کی نامیاتی زرعی مصنوعات کی  بھرپوربرآمدی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔

اپیڈا کا مقصد آسام میں برآمد کنندگان کے لیے پروڈیوسر گروپس اور پروسیسرز سے براہ راست مصنوعات حاصل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانا ہے۔ یہ پلیٹ فارم آسام کے پروڈیوسروں اور پروسیسروں اور ملک کے دوسرے حصوں سے برآمد کنندگان کو جوڑ دے گا جس سے آسام سمیت شمال مشرقی خطے کی ریاستوں میں برآمدی علاقوں کی بنیاد کو وسعت ملے گی اور ریاست کے لوگوں میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

اپیڈا نے فصل  کٹائی سے پہلے اور فصل  کٹائی کے بعد کے انتظام پر مختلف تربیتی پروگراموں اور دیگر تحقیقی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے آسام زرعی یونیورسٹی، جورہاٹ کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔

اپیڈا نے شمال مشرقی خطے سے جی آئی مصنوعات کو فروغ دیا جیسے بھٹ جولوکیا، آسام لیمن وغیرہ ۔ا س چیزنے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی توجہ حاصل کی جنہوں نے اپنے من کی بات پروگرام کے دوران اس کا ذکر کیا۔ آسام لیموں اب باقاعدگی سے لندن اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے اور اب تک 50 ملین ٹن سے زیادہ آسام لیموں برآمد کیا جا چکا ہے۔ لیچی اور کدو کی کئی کھیپیں بھی اپیڈا نے آسام سے مختلف ممالک کو برآمد کی ہیں۔

ڈاکٹر ایم انگاموتھو، صدر، اے پی ای ڈی اے نے بتایا، "آسام اور شمال مشرقی خطے کی دیگر ریاستوں میں تقریباً تمام زرعی اور باغبانی فصلوں کو اگانے کے لیے سازگار موسمی حالات اور مٹی کی قسم  موجودہے۔ چونکہ شمال مشرقی خطے کی تقریباً تمام سرحدیں بھوٹان، بنگلہ دیش، میانمار اور چین جیسے ممالک کے ساتھ مشترک ہیں، اس لیے اس خطے سے برآمدات میں اضافے کے امکانات ہیں۔ ,

کووڈ19 کی مدت کے دوران، اپیڈا نے مختلف ممالک میں واقع ہندوستانی سفارت خانوں کے ساتھ مل کر خریدار فروخت کنندگان کی ورچوئل میٹنگ کے ذریعے شمال مشرقی خطے کےایف پی سی / ایف پی او  کے ساتھ انناس، ادرک، لیموں، اورنج وغیرہ کی سورسنگ کے سلسلے میں اپنی برآمدات کے پروگراموں کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا   ۔ اپیڈا نے وبا  کے دوران ورچوئل تجارتی میلوں کا بھی اہتمام کیا اور دوسرے ممالک کو برآمدات میں سہولت فراہم کی۔

اپیڈا نے خطے کے 80 ابھرتے ہوئے کاروباریوں اور برآمد کنندگان، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او) اور فارمر پروڈیوسر کمپنیز (ایف پی سی) اور ریاستی حکومتوں کے عہدیداروں، فوڈ پروسیسنگ میں ہنر مندی کی ترقی اور تربیت، باغبانی کی پیداوار میں قدر میں اضافہ وغیرہ کے منصوبے  بھی شروع کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔

اپیڈا نے آسام محکمہ زراعت کے افسران کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے اور منتخب افسران کو بیچوں میں کرناٹک، مہاراشٹرا اور گجرات بھیجا جائے گا۔

جوہا چاول پلاؤ  اور بلیک رائس کھیر وغیرہ کی ترنمونہ ساسزی کرتے ہوئے اپیڈا شمال مشرقی خطے کی مصنوعات جیسے کیوی وائن، پروسیسڈ فوڈ، برانڈنگ اور فروغ کے لیے بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

صلاحیت سازی  کے ایک حصے کے طور پر، اے پی ای ڈی اے نے مینوفیکچررز، برآمد کنندگان اور کاروباری افراد کے لیے مقامی پیداوار کو قدر میں اضافے اور برآمدات کے لیے استعمال کرنے کے لیے ہنر مندی کے پروگراموں کا بھی اہتمام کیا۔ یہ تربیتی پروگرام شمال مشرقی خطے کی مختلف ریاستوں میں میسور میں قائم سینٹرل فوڈ ٹکنالوجیکل ریسرچ (سی ایف ٹی آر آئی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی (آئی آئی ایف پی ٹی) کے اشتراک سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔

میگھالیہ کے ری بھوئی اور آسام کے ڈبرو گڑھ میں شمال مشرقی خطے کے ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی  برآمدات  کے لیے غذا کے معیار اور سیفٹی مینجمنٹ پر اپیڈا نے پائیدار غذائی سلسلہ قدر کی ترقی کے ذریعے شمال مشرقی خطے کی زرعی اور ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی برآمد کو فروغ دینے کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔

اپیڈا کے اسٹریٹجک اقدام کے نتیجے میں تریپورہ سے کٹہل  اور ناگالینڈ کی شاہ مرچ پہلی بار لندن کو  ایک مقامی ایکسپورٹر بر کے ذریعہ آمد کی گئی۔ اس کے علاوہ، آسام کا مقامی پھل لیٹکو (برما انگور) دبئی کو برآمد کیا گیا اور آسام کے پان کے پتے باقاعدگی سے لندن کو برآمد کیے گئے۔

سور کا گوشت اور سور کے گوشت کی مصنوعات کی برآمدی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے، اے پی ای ڈی اے نے ناجیرہ میں ایک جدید سور کا گوشت پروسیسنگ سہولت مرکز قائم کرنے میں حکومت آسام کی مدد کی جس میں روزانہ 400 جانوروں کو ذبحہ کرنے کی گنجائش تھی۔ یہ یونٹ تیار ہے اور اسے جلد ہی شروع کر دیا جائے گا۔

اپیڈا نے ریاست کے محکمہ حیوانات کے ساتھ مل کر سکم سے نامیاتی سور کے گوشت کی برآمد کو فروغ دینے کے لیے ایک تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا، جو کہ ہندوستان کی ایک نامیاتی ریاست ہے۔ اپیڈا نے گوہاٹی کے قریب رانی میں موجود خنزیروں پر این آر سی کی مدد سے تازہ اور ڈبہ بندسور کے گوشت کی برآمد کے لیے رہنما خطوط بھی تیار کیے ہیں۔ شمال مشرقی علاقے میں، سکم پہلی ریاست ہے جس کے پاس ایک نامیاتی سرٹیفیکیشن ایجنسی ہے، جسے 2016 میں اپیڈا کی مدد سے قائم کیا گیا تھا۔

************

ش ح۔ف ا ۔ م  ص

 (U: 7505)



(Release ID: 1841134) Visitor Counter : 40


Read this release in: English , Hindi , Manipuri