امور داخلہ کی وزارت

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے نئی دلی میں آج سائبر سیفٹی اور قومی سلامتی سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کیا


بھارت وزیراعظم جناب نریندر مودی کے اقدامات کی وجہ سے ہر میدان میں ترقی کر رہا ہے آج یہ ممکن نہیں ہے کہ سائبر سکیورٹی کے بغیر قومی ترقی کا تصور کیا جاسکے

سائبر سیفٹی ، قومی سلامتی کا ایک لازمی حصہ ہے اور جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت اسے مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے

بھارت کو ڈیجیٹل انقلاب میں داخل کرنے کے لیے بھارت کو سائبر سیف بنایا جا رہا ہے اس کا سب سے اہم ستون عوامی بیداری ہے کیونکہ بیداری کے بغیر یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا

ویزراعظم نریندر مودی کا ویژن یہ ہے کہ ہر ایک بھارتی ٹکنالوجی اور انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ کر کے خود کو بااختیار بنائیں اور ڈیجیٹل انڈیا جیسے پروگراموں کے ذریعے لوگوں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے اور ان کی زندگیوں میں تبدیلی بھی دیکھی جا رہی ہے

یو پی آئی پر رقم کا لین دین مالی سال 2022 میں ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا اور آج ڈیجیٹل لین دین میں ہم دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں

2012 میں 3377 سائبر جرائم کی اطلاعات ملی تھی اور 2020 میں اس طرح کی اطلاعات کی تعداد 50000 تک پہنچی ہے

سائبر کرائم درج کرنے والے پورٹل پر جس کا آغاز تین سال

Posted On: 20 JUN 2022 5:07PM by PIB Delhi

نئی دہلی،20 جون، 2022/ داخلی امور اور امدد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے نئی دلی میں آج سائبر سیفٹی اور قومی سلامتی سے متعلق قومی کانفرنس (سائبر جرائم سے آزادی – آزادی کا امرت مہوتسو ) سے خطاب کیا۔ داخلی امور کے مرکزی سکریٹری ، وزارت داخلہ اور ثقافت کی وزارت کے سینئر افسران بھی اس تقریب میں موجود تھے۔

اس موقعے پر اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آزادی کے امرت مہوتسو سے ہماری آزادی کی صدی تک کے 25 سال کے عرصے کو امرت کال قرار دیا ہے ۔ اس عرصے کے دوران بہت سی وزارتوں اور محکموں نے بہت سے پروگرام تیار کیے ہیں جس کا مقصد ملک کو ہر ایک میدان میں دنیا کی اول پوزیشن پر لے جانا ہے۔ اس کے لیے ایسے وقت میں ہمیں درپیش چیلنجوں پر غور کرنا ہے اور ہر محکمے اور وزارت کو 25 سال کے پروگرام طے کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف اور صرف 130 کروڑ عوام کے عزم سے ہی بھارت کو سرکردہ پوزیشن میں لایا جاسکتا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج یہ ممکن نہیں ہے کہ بھارت کی ترقی کا تصور سائبر سیفٹی کے بغیر کیا جاسکے۔ آج بھارت وزیراعظم نریندر مودی کے اقدامات کی وجہ سے ہر میدان میں ترقی کر رہا ہے۔ اگر ہم سائبر سکیورٹی کی یقین دہانی نہیں کریں گے تو ہماری اپنی طاقت ہی ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج بن جائے گی۔ اسی وجہ سے یہ پروگرام ڈیجیٹل انقلاب کے دور میں چیلنجوں اور سائبر سکیورٹی کے حل کو جاننے کے لیے نیز ہر ایک کے لیے سائبر سکیورٹی سےمتعلق معلومات فراہم کرنے کی غرض سے منعقد کیا گیا ہے۔

جناب شاہ نے کہا کہ پچھلے 200 سال میں اگر ہم ٹکنالوجی سے متعلق عالمی انقلاب کا تجزیہ کریں تو اس کا آغاز بھاپ کے انجن سے ہوتا ہے۔ اور پھر الیکٹریکل توانائی سےاطلاعاتی ٹکنالوجی تک بات منتقل ہوتی ہے اور ہم ایک ڈیجیٹل انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر بھارت کو اس میدان میں آگے بڑھنا ہے تو ایک سائبر سیف بھارت کی تعمیر کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیراعظم کا ویژن ہے  کہ ہر بھارتی خودک کو ٹکنالوجی اور انٹرنیٹ کے ذریعے بااختیار بنائیں۔ ڈیجیٹل انڈیا پروگرام نہ صرف عوام کو بااختیار بناتا ہے بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلیاں لاتا ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج عوامی بیداری سائب سیف بھارت کے ویژن میں سب سے اہم ستون ہے کیونکہ بغیر بیداری کے اس کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اسی وجہ سے عوامی بیداری ،عوامی مفاد ، ٹکنالوجی  کے چیلنجوں کا حل نکالنے کے لیے عومی مفاد میں کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آج 130 کروڑ بھارتیوں کو ڈی بی ٹی کے ذریعے ان کے کھاتوں میں حکومت براہ راست فائدے منتقل کر دیتی ہے۔ 2014 سے پہلے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ایسے کروڑوں عوام موجود ہیں جن کے بین کھاتے ہیں ہیں۔ اب 8 سال میں کوئی ایک کنبہ بھی ایسا نہیں ہے جس کا کوئی بینک کھاتہ نہ ہو اور سرکاری اسکیموں کے فائدے اس تک آن لائن نہ پہنچے۔ 13 کروڑ کسانوں کے کھاتوں میں  سالانہ طور پر 6000- 6000 روپے  پہنچائے جاتےہیں۔ یہ ایک بڑی حصولیابی ہے لیکن ساتھ ہی یہ ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔ ہمارے سامنے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ ملک کو سائبر جعل سازی اور بہت سی قسم کے سائبر حملوں سے محفوظ رکھا جائے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ہمیں سائبر سلامتی کو ملک کے ہر حصے میں لے جانا چاہیے ۔ اس پروگرام کے ذریعے یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ سائبر صفائی ستھرائی ،سائبر جرائم کی روک تھام کے اقدامات ، جرائم کی رپورٹ دینے والے پورٹل کو مقبول بنایا جانا ، سائبر کے ذریعے کیے جانے والے مالی جرائم کی رپورٹ دینے والے ہیلپ لائن نمبر جیسے مختلف اقدامات کے ذریعے لوگوں کے مابین بیداری پیدا کرنے کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سیف کا غلط استعمال کوئی نئی چیز نہیں ہے، خواہ وہ سائبر حملے ہوں، جعل سازی ہوں، اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے ہوں، اعداد و شمار کی چوری ہو ، آن لائن گھوٹالے ہوں، بچوں کو استعمال کر کے فحش فلمیں بنانے کا معاملہ ہو، بہت سے چیلنج درپیش ہیں۔ 2012 میں 3377 سائبر جرائم کی رپورٹ دی گئی تھی ، جبکہ 2020 میں یہ تعداد 50000 تک پہنچ گئی۔ 2020 میں روزانہ 136 سائبر جرائم درج کیے گئے ۔سائبر جرائم فی لاکھ آبادی میں چار سال میں 270 تک کا اضافہ ہوا۔ 2016 میں یہ تعداد ایک ہوگئی  اور 2020 میں یہ تعداد بڑھ کر 3.7 ہو گئی۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ ترقی آنے والے دنوں میں کتنا بڑا چیلنج بن کر ابھرے گی۔ سائبر جرائم کا پورٹل تین سال پہلے شروع کیا گیا تھا۔ جس پر ابھی تک مختلف قسم کی گیارہ لاکھ شکایات درج کی جا چکی ہیں۔ سوشل میڈیا کے متعلق جرائم کی دو لاکھ سے زیادہ شکایات درج کی گئی ہیں۔ یہ تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں کیونکہ آج بھارت میں 80 کروڑ بھارتی افراد آن لائن موجود ہوتے ہیں، اور 2025 تک  مزید 40 کروڑ بھارتی افراد ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو جائیں گے۔

جناب شاہ نے کہا کہ پردھان منتری جن دھن یوجنا کےتحت ہی 45 کروڑ نئے کھاتے کھول دیئے گئے ہیں اور 32 کروڑ روپے ڈیبٹ کارڈز پچھلے 8 سال میں ملک میں تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ ان 32 کروڑ عوام کے پاس دنیا میں کوئی ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ نہیں تھا۔ ان کی آن لائن موجودگی سے یہ نظریہ حاصل ہوتا ہے کہ کس طرح ہمارا کاروبار دن بہ دن بڑھ رہا ہے ۔ یو پی آئی کے ذریعے رقم کا لین دین مالی سال 2022 میں ایک ٹریلین  ڈالر سے زیادہ ہو گیا۔ اور دنیا کو یہ حیرانی ہے کہ صرف یو پی آئی پر رقم کا لین دین ایک کروڑ امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔  بھارت ڈیجیٹل طریقے سے رقم ادا کرنے کے سلسلے میں دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ بھارت نے 2021 میں دنیا میں ڈیجیٹل طریقے سے کیے جانے والے رقم کا مجموعی حصہ 40 فیصد ہے۔ جس سے ہماری رقم کی لین دین کی وسعت کا اظہار ہوتا ہے۔بھیم – یو پی آئی اب محض بھارتی ایپ نہیں رہے ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر آگئے ہیں۔ یو پی آئی اور بھیم ایپس کو سنگاپور، یو اے ای، بھوٹان، نیپال اور فرانس میں بھی قبول کیا جا رہا ہے۔

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ ہم نے جن دھن ، آدھار اور موبائل کے ذریعے ڈی بی ٹی کو یقینی  بنایا ہے۔  تقریباً 52 وزارتوں کی 300 سے زیادہ اسکیموں میں ڈی بی ٹی کو شامل کیا گیا ہے اور ابھی تک جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے مرکز میں سات سال میں بینک کھاتوں میں 22 لاکھ کروڑ روپے راست منتقل کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے ۔ بھارت نیٹ بھی تیز رفتار سے ترقی کر رہا ہے ۔ 5.75  لاکھ کلومیٹر فائبر کیبل بچھائی گئی ہے اور پچھلے 8 سال میں 1.80 لاکھ گاوؤں کو جوڑنے کا کام کیا گیا ہے جو آٹھ سال پہلے دس ہزار سے کم تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کا تعلق ایک طرح قومی سلامتی سے بھی ہےجو ہمارے ملک کو محفوظ نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ مختلف قسم کے سائبر حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ ملکوں نے سائبر فوجیں بھی تشکیل دے لی ہے لیکن حکومت ہند کی داخلی امور کی وزارت اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ملک اس وقت محفوظ ہو جائے گا جب ہماری آزادی  کی صد سالہ تقریبات منائی جائیں گی۔

*****                 

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔                                              

U - 6692



(Release ID: 1835656) Visitor Counter : 158


Read this release in: English , Gujarati