صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

وزیٹرس کانفرنس 2022ء میں ہندوستان کے عزت مآب صدر جمہوریہ جناب رام ناتھ کووند کا افتتاحی خطاب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 JUN 2022 6:35PM by PIB Delhi

نئی دہلی،07 جون؍2022

میں ہمیشہ وزیٹرس کانفرنس کا انتظار کرتا ہوں، کیونکہ یہ ہندوستان کے نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق ہے اور اس طرح یہ ملک کے مستقبل سے بھی تعلق رکھتا ہے۔اس کا مقصد اعلیٰ تعلیم ہے اور یہی بات اس کانفرنس کو خاص طور سے اہم بنادیتی ہے۔

مجھے یہ جان کر خوشی ہورہی ہے کہ ہمارے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے بعض باوقار اداروں کے کچھ سابق طلباء بھی شامل ہوں گے، جو تحقیق اور اختراعات میں بہتری کے لئے اپنے المامیٹر کی حمایت کرنا جاری رکھیں گے۔مجھے یاد ہے کہ ہم نے پہلے کی کانفرنسوں میں متعدد سابق طلباء کی پہل پر بات چیت کی تھی۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی شکل میں اُن کی شراکت داری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ وزیر تعلیم ، وزیر مملکت برائے تعلیم اور وزارت میں اُن کے معاونین اِس کانفرنس کی منصوبہ سازی میں سنجیدگی سے شامل رہے ہیں اور کانفرنس کا ایجنڈا اُن کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔مجھے اُن کے ذریعے کی گئی کوشش کی ستائش کرنی چاہئے۔

جب اِس کانفرنس کا ایجنڈا مجھے دکھایا گیا تو میں محض پانچ نقطوں پر سوچ سمجھ کر تیار کئے گئے اور بہت ہی اہم موضوعات سے ، جن کا اِس ایجنڈے میں احاطہ کیا گیا ہے، متاثر ہوا۔یہ ایجنڈا وزارت کی پالیسی پر مرکوزیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی باوقار تاریخ کو یاد کرنے والے ’آزادی کا اَمرت مہوتسو‘کو افتتاحی سیشن میں جگہ ملی ہے۔ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے اس کے مرکز میں ہیں، کیونکہ ہمارے نوجوان شہری نہ صرف ماضی کے وارث ہیں،بلکہ وہ لوگ بھی ہیں ، جو ہندوستان کو آئندہ سنہرے دور میں لے جائیں گے۔ذہین نوجوانوں کو بدلنے کی بڑی ذمہ داری اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ہے،اس کے لئے ہمیں اُن کی توقعات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ زندگی کے مختلف مرحلوں میں مستقبل کے قائد ہیں۔ میں یقین کہ ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ میں سے ہر شخص اس ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کرنے جارہا ہے۔حالیہ دنوں میں ہندوستان کی غیر معمولی ترقی اس کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی تھی۔مجھے یقین ہے کہ آپ اپنا اچھا کام جاری رکھیں گے۔

’آزادی کا اَمرت مہوتسو‘کی بات کرتے ہوئے اِس بات کا ذکر ضروری ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی آگے کے دنوں کو دیکھتے ہوئے  ماضی کے علم کو نہیں بھولی ہے۔ ہر ہندوستانی کے لئے سستی ، معیاری تعلیم مہیا کرنے کی حکومت کی اولیت کے عین مطابق وزارت تعلیم نے این ای پی 2020 کے فوری نفاذ پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔

مجھے یہ جان کر خوشی ہورہی ہے کہ این ای پی کے نفاذ کی سمت میں کئی قدم اٹھائے گئے ہیں۔ ملک بھر میں 13عدد ہندوستانی معلوماتی نظام مرکز قائم کئے گئے ہیں۔متعلقہ مضامین کی ہندوستانی علم کی روایت پر تعارفی ابواب کے ساتھ 12ہندوستانی زبانوں میں کتابیں شامل کی گئی ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ پہل اِتنی مقبول ہے کہ دو مہینے کی 404اِنٹرن شپ پہلے ہی دی جاچکی ہے، وہیں ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکسٹ مائننگ پر 6خصوصی پروجیکٹوں کے ساتھ 36تحقیقاتی پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ پہل نہ صرف تحقیق کرنے والے دانشوروں کے لئے، بلکہ ہندوستان میں دور قدیم سے محفوظ علم کے وسیع خزانے کے بارے میں متجسس کسی بھی شخص کے لئے بہت مدد گار ثابت ہوگی۔

ہمارے بڑے اہداف کے حصول کے لئے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے معیار میں بہتری لانا بہت اہم ہے۔ہمیں دنیا میں بہترین کے لئے معیار قائم کرنا چاہئے۔جناب نُنزیوکوائکوریلی اداروں کی رینکنگ میں اپنی مہارت ساجھا کرنے کےلئے ہمارے ساتھ جڑگئے ہیں۔ مجھے یہ نوٹ کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ اِس سال پچھلے سال 29کے مقابلے 35ہندوستانی اداروں کو کوائکوریلی سائمنڈس  یا کیو ایس رینکنگ میں جگہ دی گئی ہے۔اعلیٰ 300 میں اِس سال 6ادارے شامل ہیں، جبکہ پچھلے سال 4 ادارے تھے۔مجھے یہ جان کر خاص طور پر بے حد خوشی ہورہی ہے کہ  انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس نے ’تحقیق ‘پیمانے پر 100کا مکمل اسکور حاصل کیا ہے اور پرنسٹن ، ہارورڈ، ایم آئی ٹی اور کیلٹیک سمیت دنیا کے 8اعلیٰ باوقار اداروں کے ساتھ یہ امتیاز ساجھاکرتا ہے۔ میں اِس حصولیابی کےلئے آئی آئی ایس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گوندن رنگا راجن اور اُن کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔

تعلیم کے معیار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے میں ایک بار پھر قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کروں گا۔درحقیقت پچھلی کانفرنس اِسی پالیسی پر مرکوز تھی۔ تعلیم کے معیار میں بہتری کے لئے ہمیں لچک دار اور اختراعاتی تعلیمی نظریے پر بھی غورو خوض کرنا چاہئے۔بہترین کارکردگی حاصل کرنے کی کنجی تعلیم اور سیکھنے اور کے تجربات کو مالامال بنانے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انقلابی فوائد سے استفادہ کرنا ہوگا۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تعلیم کی حدوں میں توسیع کررہی ہے۔جب وباء نے تعلیم اور سیکھنے کے عمل کو پٹری سے اُتارنے کی دھمکی دی تو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اِس کے تسلسل کو یقینی بنایا۔اِس میں کوئی شک نہیں  کہ مشکلات تھیں، لیکن یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ آپ سب نے تعلیم مہیا کرائی اور تجزیے اور تحقیق کے سلسلے کو بلارُکاوٹ جاری رکھا۔ ہم اب اِس تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور درجے کے سیشن کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں اور ایسا طلباء کو موضوعات کی سمجھ فراہم کرکے کیا جاسکتا ہے۔ اساتذہ اور اکیڈمک ماہرین کو نصاب اور دیگر پالیسی پر مبنی پہل تیار کرتے وقت اِس پر غور کرنا چاہئے۔

این ای پی حالانکہ حال ہی میں اپنی اہمیت ثابت کرنے میں پہلے سے ہی ہمارے اداروں کو ایک نیا اور کارگر راستہ بنانے کی اجازت دے چکی ہے۔یہاں ہم میں سے بعض لوگوں کو ایک ہی وقت میں کئی نصاب کا انعقاد ، موضوعات کو مختلف لہروں میں ملانے یا ہندوستانی یا غیر ملکی دونوں یونیورسٹیوں کے پروگراموں میں اشتراک کو بڑھاوا دینے کے لئے یوجی سی(یونیورسٹی گرانٹ کمیشن)نے مشترکہ ، جڑواں اور دوہری ڈگری کی اجازت دینے والے ضابطے جاری کئے ہیں۔ این ای پی کے تحت اِن پہلوں نے اعلیٰ تعلیم کو پہلے ہی رُکاوٹوں سے آزاد کردیا ہے۔

این ای پی کی ایک اہم کشش یہ ہے کہ یہ لچیلا پن اور  تا عمر سیکھنے کے لئے کثیر رُخی داخلے ، باہر نکلنے کی اجازت دیتی ہے۔یہ ڈیجی لاکر پلیٹ فارم پر اکیڈمک بینک آف کریڈٹ کے ساتھ طلباء کے لئے اُن کی سہولت اور پسند کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کو ممکن بناتی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے 383اداروں نے اے بی سی کے لئے رجسٹریشن کرایا ہے اور 10 ہزار سے زیادہ طلباء نے اے بی سی اکاؤنٹ کھولے ہیں۔

این ای پی یہ یقینی بنانے کے لئے تعلیم اور تربیت میں کثیر لسانی کو بڑھاوا دیتی ہے کہ انگریزی میں اہلیت کی کمی کسی بھی طالب علم کی تعلیمی ترقی میں رُکاوٹ نہ بن سکے۔اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے ریاستیں بنیادی سطح پر ذولسانی اور سہہ لسانی نصابی کتابوں کی اشاعت کررہی ہیں اور دِکشا پلیٹ فارم پر تعلیم مواد 33ہندوستانی زبانوں میں مہیا کرایا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کو جمہوری بنانے میں ایک طویل سفر طے کرے گا۔

جب بھی میں قومی تعلیمی پالیسی کے موضوع پر غور کرتا ہوں تو میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ  جگدیش چندر بوس جیسے بایولوجسٹ، فیزیسسٹ ، بوٹنسٹ اور سائنس کی موضوعات پر کہانیاں لکھنے والے عظیم پولی میٹھ نے ان کے لچیلا پن اور رسائی کی ستائش کی ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی مستقبل میں کئی اور جگدیش چندر بوس کے لئے راہ ہموار کرے گی۔

کوئی بھی شخص سائنس کی اہمیت کو مسترد نہیں کرسکتا ۔ہندوستان جیسے ملک کے لئے سماجی اور اقتصادی طور سے اہم نتائج میں تحقیق کے استعمال کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے تعلیمی ماہرین ، صنعت اور پالیسی سازوں کے درمیان تعاون بے حد ضروری ہے۔ہندوستان میں ایسی کئی پہلیں ہیں، جو دونوں طرح سے کام کررہی ہیں-تحقیق کے فوائد کو بازارتک پہنچانا ہو یا بازار کی مہارت کو تعلیمی ماہرین تک پہنچانا ہو۔اس کے علاوہ اے آئی سی ٹی ای-آئی این اے ای-وزیٹنگ اسکالر شپ منصوبہ ادارے کے لئے بازار کی مہارت لاتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ اس کانفرنس کے دوران جو بحث ہوئی اُس سے اس شعبے کی بہتر سمجھ ملے گی اور اسے آگے بڑھانے کے لئے پالیسی پر مبنی ترقی میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

تسلیم شدہ اعتقادات پر سوال اٹھانا اور لہر کے خلاف بہنا اکثر انسانی کی ترقی کی بنیاد رہی ہے۔ حالانکہ غیر معمولی تکنیکی ترقی کے عہد میں یہ صرف ذاتی صلاحیت ہی نہیں ہے، بلکہ حمایت کے سسٹم بھی ہیں، جو اس طرح کی ترقی کو آسان بناتی ہے۔یہ انسانی ذہانت کی پولنگ ہے،جس نے اس مادہ جاتی ماحول کو جنم دیا۔جب میں نے اُبھرتی اور تخریبی ٹیکنالوجی میں تعلیم اور تحقیقی کے موضوع پر توجہ دی تو میرے دماغ میں یہ خیال آیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں ہماری بحث اعلیٰ تعلیم کے اس انتہائی ضروری پہلو کے بارے میں ہماری سمجھ کو بڑھائے گی۔

مجھے یہاں این ای پی کے تحت پہل کی طرف لوٹنا چاہئے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اسٹارٹ اَپ اور اختراعات کے ایک ایکو سسٹم کی حوصلہ افزائی کے لئے 28ریاستوں اور 6مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تقریباً 2775ادارہ جاتی اختراعاتی کونسل قائم کی گئی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان سماجی طور سے ضروری شراکت داری کے مقاصد کو بڑھاوا دینے میں ایک طویل سفر طے کرے گا۔مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اختراعات کی تہذیب کی تعمیر کے سمت میں ہماری کوششوں نے نتائج دکھانا شروع کردیا ہے اور گلوبل اینوویشن انڈیکس میں ہندوستان کی رینکنگ 2014 میں 76سے بڑھ 2021 میں 46ہوگئی ہے۔ حالانکہ اختراعات اور کاروبار کی تہذیب میں بہتری کے لئے ہمیں پیٹنٹ کے لئے فائلنگ کی حوصلہ افزائی کرنے اور اس کے لئے عمل کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم یقینی طور سے ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مقرر شدہ کئی اہداف کو حاصل کرنے کے سلسلے میں اداروں کے سامنے آنےو الے چیلنجز کے بارے میں غور کریں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ کئی چیلنجوں کا سامنا تنہا اداروں کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا اور انہیں پالیسی سطح کی تبدیلی اور حمایت کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں مجھے معلوم ہے کہ وزیر محترم اور ان کی ٹیم اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے لئے موافق ماحول کو یقینی بنانے کے لئے بنیادی ڈھانچے سے متعلق ایشوز پر سرگرم طورسے توجہ دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی جیسا کہ میں ہمیشہ مشورہ دیتا ہوں صرف وقت کی حد پر عمل کرنے سے ادارے کئی ایشوز جیسے فیکلٹی کی کمی کو دور کرسکتے ہیں۔

آپ کے رول سے کچھ بھی چھینے بغیر میں کہنا چاہوں گا کہ فطرت ہمارے سامنے سب سے اچھی استاد ہے۔جس طرح فطرت زندگی کے توسط سے ایک پائیدار ترقیاتی عمل کو یقینی بناتی ہے ویسے ہی تعلیم کو بھی ہونا چاہئے، جو بڑے ہونے پر ضروری طرز زندگی مہیا کرتی ہے۔ اسکولی تعلیم اور اعلیٰ و کاروباری تعلیم کو مربوط کرنا جو اس کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ ہے، فطرت کے اس پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک بار پھر ہماری توجہ این ای پی پر مبذول کراتا ہے ۔ تعلیم نظام کو اس طرح سے ہونا چاہئے جو نہ صرف علم میں اضافہ کرے، بلکہ ایک مکمل اور بامقصد زندگی جینے کی صلاحیت بھی فراہم کرے۔اسکول بنیاد رکھتا ہے، لیکن یہ ایک طالب علم کو اعلیٰ یا کاروباری تعلیم کی طرف لے جاتا ہے، جو اہلیت اور توقعات دونوں کو پورا کرتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ یہاں جو بات چیت اور غوروخوض ہوا اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ فطرت اتنی آسانی سے کیا حاصل کرسکتی ہے۔ میں اس موضوع کی اہمیت کو محسوس کرتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں ایسے مرحلوں سے گزرا ہے، جہاں ہم جوپڑھتے ہیں اور جو ہم چاہتے ہیں وہ الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آج کی بحث ایسے تضادات کو کم کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

ختم کرنے سے پہلے مجھے ایک بار پھر بحث کے لئے منتخب کئے گئے موضوعات کی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہئے۔یہ اس اہلیت کو ظاہر کرتا ہے جسے ہم محسوس کرنے کی امید کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ صلاح و مشورہ اعلیٰ نوعیت کو ہوگا ۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ یہاں ہم سب موجود ہیں اور جو ورچوئلی طور پر جڑے ہوئے ہیں، انہیں سیشن سے زیاد ہ فائدہ ہوگا۔ حالانکہ اس کانفرنس کی اہمیت اس بات سے ثابت ہوگی کہ ہم نے کیا کارروائی اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے۔

میں کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ میری نیک خواہشات آپ کی تمام کوششوں میں آپ کےساتھ ہیں۔

شکریہ

جے ہند

 

*************

 

ش ح- ج ق–ن ع

U. No.6218


(ریلیز آئی ڈی: 1831916) وزیٹر کاؤنٹر : 267
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Punjabi