نیتی آیوگ

وزیراعظم نے ماحولیاتی اعتبار سے بیدار طریقہ زندگی اختیار کرنے کے لئے  ‘لائف  موومنٹ’ کی شروعات  کی


موسمیاتی تبدیلی کے تئیں انفرادی رویہ کی تبدیلی پر توجہ دینے کے لئے عالمی لیڈران نے  ہندوستان کی تعریف کی

Posted On: 05 JUN 2022 8:33PM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج  ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ماحولیات کے  لئے طریقہ زندگی (لائف) موومنٹ کا آغاز کیا ۔

آغاز نے  ‘ لائف گلوبل کال فار آئیڈیاز  اینڈ پیپرز ’ کی  پہل بھی کی ،جس میں  انفرادی اشخاص   ،یونیورسٹیوں  ، مفکرین  اور دوسرے عالمی سطح کے  غیر استفادہ کنندگان   کو دعوت دی گئی کہ وہ  قابل پیمائش  رویہ کی تبدیلی کا حل  پیش کریں ، جو  انفرادی اشخاص ،  برادریوں   اور تنظیموں  میں  ماحولیات دوست رویے  پیدا کرسکیں ۔

کلیدی خطبہ  پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زوردیا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمارے کرہ ارض  کے ذریعہ   سامنا کرنے والے  چیلنج کو حل کیا جائے  اور انسان  پر مرتکز اجتماعی کوشش اور عمل کیا جائے تاکہ  پائیدار ترقی کو مزید آگے بڑھایا جاسکے ۔

وزیراعظم نے  حاضرین کو یاد دلایا کہ یہ عالمی  پہل، ان کے ذریعہ  سی او پی -26 میں  گزشتہ سال  پیش کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائف  کا وژن  ایک ایسا  طریقہ زندگی گزارنا ہے ،جو ہمارے کرہ ارض سے مناسبت رکھتا ہو  اور اس کو نقصان نہ  پہنچائے۔اور جو لوگ  اس  طرح کی  زندگی گزارتے ہیں ،  انہیں  ‘‘ پرو- پلانیٹ   پیوپل ’’کہا جاتا ہے ۔مشن لائف  ماضی سے ماخوذ ہے۔ حال میں کام کرتا ہے اور مستقبل  پرتوجہ مرکوز کرتا ہے۔ریڈیوس ، ری یوز اور ری سائیکل  ایسے نظریات ہیں جو ہماری زندگی کے ساتھ  منسلک ہیں۔سرکلر اکانومی   ،ہماری ثقافت اوررطریق  زندگی کا ایک لازمی  حصہ رہا ہے۔

وزیراعظم نے  کہا کہ ملک کے 1.3 ارب  ہندوستانیوں کا شکریہ  کہ وہ اس لائق بن سکے کہ  اپنے ملک میں ماحولیات کے لئے بہت سی اچھی چیزیں کرسکے ۔ انہوں نے  مزید کہا کہ  ہندوستان کا جنگل کور  بڑھ رہا ہے  اور اسی طرح  شیروں  ،چیتوں  ،  تیندووں  ، ہاتھیوں  اور گینڈوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی غیر فاصل   ایندھن  پر مبنی ذرائع سے   40 فیصد  بجلی کی صلاحیت تک  پہنچنے کی عہد بندی   شیڈیول سے  9 سال پہلے ہی حاصل کرلی گئی ہے۔ پٹرول میں  10 فیصد ایتھنول بلینڈنگ کا ہدف   نومبر  2022 کے ہدف سے  5  ماہ پہلے حاصل کرلیا گیا ہے۔ یہ اس بات کو مدنظررکھتے ہوئے کہ بلینڈنگ  14-2013  میں بمشکل   1.5 فیصد تھا اور 20-2019  میں  5 فیصد تھا ، یہ ایک اہم حصولیابی ہے ۔انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی  پر حکومت میں  بڑی توجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب ہمارے سامنے اختراع ہے اور انفتاح   ہے ۔ جب ٹکنالوجی اورروایت  ملتی ہیں تو زندگی کا وژن مزید آگے بڑھتا ہے ۔

وزیراعظم نے  یاددلایا کہ مہاتما گاندھی  صفر کاربن طریق زندگی کے بارے میں بات کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اپنے روز مرہ  زندگی کے انتخابات میں  ہمیں سب سے زیادہ  پائیدار متبادل کو اختیار کرنا چاہئے ۔انہوں نے حاضرین سے درخواست کی کہ وہ ری یوس ، ریڈیوز  اور ری سائیکل کے اصولوں کی  پیروی کریں ۔اپنی بات ختم  کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا کرہ ارض  ایک ہے لیکن ہماری کوششیں   بہت ساری ہونی چاہئیں۔ ایک کرہ ارض  اور بہت سی کوششیں ۔ ‘‘ ہندوستان  ،عالمی بہتری   کے لئے بہتر ماحولیات کے لئے کسی  بھی کوشش کی معاونت کے لئے تیار ہے ۔ہمارا ریکارڈ  ،خود اس بات کی دلیل ہے۔’’

اس پروگرام میں منجملہ اور لوگوں کے  بل  اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے کو -چیئر مین  جناب بل گیٹس  ،  موسمیاتی  ماہر اقتصادیات   لارڈ  نکولس  اسٹرن ، نج تھیری  کے مصنف  پروفیسر  کاس سنس ٹین اور یواین  ای پی کے عالمی ہیڈ  جناب انگر انڈر سن  ، عالمی ریسورس انسٹی ٹیوٹ کے  سی ای او اور صدر  جناب انیردھا داس  گپتا ،  یواین ڈی پی کے عالمی سربراہ  جناب اچیم  اسٹینر  اور ورلڈ عالمی بینک کے صدر  جناب ڈیوڈ مالپاس  نے شرکت کی ۔

بل اور ملنڈا گیٹس  فاؤنڈیشن کے  کو- چیئر مین  بل گیٹس نے کہا کہ‘‘ میں  وزیراعظم مودی کو شہری ایکشن   کی قیادت کرنے  اور  کرہ ارض کے حق میں  رویوں کی  ہمت افزائی  پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم ایک ساتھ  ایک ہرا صنعتی انقلاب  لاسکتے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کوروکے اور کمزور برادریوں کی  حفاظت  کرے اوردنیا کو ترقی کی راہ  پر گامزن کرے ۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے   اجتماعی عمل کی ضرورت  آج سے  پہلے زیادہ  نہیں تھی اور ہمارے  موسمیاتی  اہداف   تک پہنچنے کو یقینی بنانے کے لئے ہندوستان کا کردار بہت اہم ہے۔’’

بین الاقوامی موسمیاتی  ماہر اقتصادیات   لارڈ نکولس اسٹرن نے  کہا ‘‘ پائیدار طریق  زندگی  کوفروغ  دینا ، جو ماحولیات سے ہم آہنگ ہو ،وقت کی ضرورت ہے۔ ہمیں  اپنے وسائل کو استعمال کرنے  اور زیادہ موثر انداز میں دوبارہ استعمال کرنے کے لئے  مستحکم کارروائی کرنی چاہئے۔ عوامی ایکشن   نجی ایکشن کو   ترغیب دے سکتی ہے اور دینی چاہئے ۔  پائیدار طریق  زندگی جیسے کہ سائیکل چلانا اور پیدل چلنے  کے لئے ہمیں  اپنے  قصبات اور شہروں  میں  سرمایہ کاری کرنی چاہئے ۔اس تبدیلی کے لئے  مالیات  ضروری  ہیں۔’’

          یواین  ای پی  کے عالمی سربراہ  ، انگر انڈرسن  نے کہا :‘‘ ہم  کرہ ارض  سے متعلق تین طرح کے بحرانوں میں  ہیں: موسمیاتی تبدیلی ، بایوڈائور سٹی نقصان  اور آلودگی  اور فضلہ ۔ یہ بحران  مکمل طورپر دہائیوں کے  ان تھک  اور عدم  پائیدار  استعمال   اور پروڈکشن   کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہم کس  طرح رہتے ہیں اور چیزوں کو کس طرح استعمال کرتے ہیں  ، یہ بہت اہم ہے۔ میں عالمی یوم ماحولیات  پر ہندوستان کے وزیر اعظم کے ذریعہ لائف موومنٹ کے آغاز کا استقبال کرتا ہوں۔ اس لئے کہ ہر شحص  اور ہر ملک کو کرہ ارض کی قیادت کی ضرورت ہے۔ایک ار ب سے زیادہ لوگوں  اور  اختراع کرنے والےانٹر پرونیور   ز   کی زبردست  نسل  کے  گھر ہونے کے ساتھ ہندوستان عالمی ماحولیاتی ایکشن  کے لئے  ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔مجھے امید ہے کہ آپ کی پیش  رفت  اور زبردست  اہم تحریک کے آغاز  کی پیروی کروں ۔اس لئے  کہ جب ہندوستان اس طرح  کا کوئی قدم اٹھاتا  ہے تو دنیا اسے دیکھتی ہے اور اس کے نقش قدم پرچلنے کی کوشش کرتی ہے۔

          عالمی وسائل ادارہ  کے سی ای او اور صدر انیردھ داس گپتا نے کہا کہ وزیراعظم  صحیح کہتے ہیں  کہ سوچا سمجھا استعمال ہونا چاہئے۔ حقیقت  میں اس کا مطلب کچھ لوگوں کے لئے زیادہ استعمال ہوسکتا ہے ۔ دنیا میں  800 ملین لوگ ہیں ، جن کے پاس بجلی کا کنکشن نہیں ہے ۔  یہ سوچا سمجھا استعمال ہے۔ 100سال سے ہم نے خوشحالی کی کامیابی کو  کھپت سے مربوط  کررکھا ہے ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ تحریک اس  کو الٹ دے گی۔آج ہندوستان  عالمی  اوسط  اخراج کا ایک تہائی استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا جہاں  دنیا کو جانے کی ضرورت ہے وہاں  ہندوستان  موجود ہے اور اس کے برعکس نہیں  ہے۔ہندوستان اور پوری دنیا کے قدیم معاشرے   ضرورت اور دانشمندی کی وجہ سے  قدرت کے ساتھ رہنے،قدرت کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے اور قدرت کی نگہداشت کرنے کی راہیں ڈھونڈ لی ہیں۔اس علم کو اب ہمارے اجتماعی علم کا حصہ ہونے کی ضرورت ہے۔

         یواین ڈی پی کے ناظم ،اچیم  اسٹینر  نے کہا :‘‘ اقوام متحدہ  بہت سے ممالک اور برادریوں  کے شانہ بہ شانہ   کام کررہا ہے  تاکہ کاربن کے اخراج کے خاتمے میں  اور ہماری، قدرتی  دنیا کی بحالی میں انسانی ترق کو آگے بڑھاتے ہوئے   مددکرے ۔ہندوستان جیسے ممالک  ،دنیا کی سطح  پر موسمیاتی ایکشن کے  پیچھے  توانائی کے طورپر خدمت کررہے ہیں۔ اس میں  جدید ترین ٹکنالوجی  بین الااقوامی شمسی   اتحاد  اور  تباہی سے مبرہ بنیادی ڈھانچہ اور ایک سورج  ایک دنیا اور ایک گرڈ  کے کام شامل ہیں،جس کا مقصد  شمسی توانائی کو  عالمی سطح  پر آپس میں مربوط کرنا ہے ۔گزشتہ سال  گلاسگو میں  سی او  پی -26  میں وزیر اعظم  مودی نے لائف کا نظریہ آگے بڑھایا ۔ یہ اس نظریہ  پر مبنی ہے کہ انفرادی  عمل اوررویہ  ہماری اجتماعی ذمہ داری کا کلیدی حصہ ہیں۔اس کا مقصد  دنیا کےکچھ سب سے بہترین حل کو  اپنی طرف متوجہ کرنا ہے تاکہ موسمیات دوست  رویے کو انفرادی اشخاص اور برادریو ں  میں آگے بڑھا یا جاسکے  ۔عالمی بینک کےصدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا :‘‘ ہندوستان کے  قدیمی  نصوص  کے الفاظ ماحولیات  کی اہمیت کے بارے میں  بات کرتے ہیں۔پائیدار ترقی کے لئے برادریوں  کو  تیار کرنا اور جمع کرنا عالمی بینک کے  اصل کاموں  میں شامل  ہے۔برادریو ں  کو تیار کرنے کے لئے  فرنٹ لائن  تحریک  پیدا کرنے والوں  کی  ضرورت  ہے ۔ ہندوستان کی  آنگن واڑی  اور آشا کے ورکرس  اور سیلف-  ہیلپ گروپس  کے ممبران   فرنٹ لائن ورکرس کی مثالیں  ہیں ، جو برادریوں اور پیمانے  پر کام میں  سرائیت کئے ہوئے ہیں۔برادریوں  میں سرائیت شدہ   فرنٹ  لائن تحریک پیدا کرنے والوں  کو پائیدار ترقی کے لئے رویہ  اور ترغیبات میں  بہت سی تبدیلیا ں  لانے کی ضرورت ہوگی۔  برادریوں  کو تیار کرنے میں  زیادہ موثر  مقامی حکمرانی   اور انتظامیہ کی ضرورت  بھی ہوگی۔

لائف کیا ہے؟

          لائف کا آئیڈیا  وزیر اعظم کے ذریعہ   گذشتہ سال گلاسگو  میں  منعقدہ   اقوام متحدہ کی  موسمیاتی تبدیلی سے متعلق  26 ویں کانفرنس (سی او پی -26) میں متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ  نظریہ  ماحولیاتی اعتبار سے  بیدار  طریق زندگی کو  فروغ دیتا ہے  ، جو  غیر حساس  اور بیکار کھپت کی جگہ  ایک حساس  اور سمجھے  بوجھے استعمال پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

          لائف تحریک   کا مقصد اجتماعی ایکشن کی طاقت کا استعمال کرنا  اور پوری دنیا میں  لوگوں کے اندر  یہ تحریک  پیدا کرنا ہے کہ وہ  اپنی روز مرہ کی زندگیوں  میں سادہ   آب وہوا -دوست  ایکشنز اختیار کریں  ۔لائف  تحریک   مزید آب وہوا سے  متعلق سماجی  اصولوں  کو متاثرکرنے کے لئے سماجی نیٹ ورکس   کی طاقت سے فائدہ اٹھانا بھی چاہتا ہے ۔ اس مشن   کا منصوبہ ہے کہ انفرادی اشخاص کے عالمی نیٹ ورک کو  پیداکرے اور اس کی پرورش وپرداخت کرے ۔ایسے لوگو ں کو ‘پرو-پلانٹ  پیوپلز  ’ (پی3) کہا جاتا ہے۔ جن کی ایک مشترکہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ  ماحولیاتی اعتبار سے دوست طریق زندگی کو اختیار کریں اور فروغ دیں ۔  پی  3 برادری کے ذریعہ مشن   ایک ایسا ایکو سسٹم  پیداکرنا چاہتا ہے جو ماحولیاتی اعتبارسے دوست رویوں  کو  پیدا کرے گا اور مستحکم کرے گا اور خود پائیدار ہوگا۔ مشن کا تصور ہے کہ غالب  غیر حساس اور  تباہی  پیدا کرنے والے استعمال   کی وجہ سے پیدا شدہ  ‘یوز- اینڈ-ڈسپوز’ اقتصاد کی جگہ سرکلر اقتصاد   ، جو کہ حساس  اور سمجھے بوجھے استعمال   پر مبنی ہوگا، لے لے ۔     

*************

 

 

ش ح۔اک۔رم

U-6153

 



(Release ID: 1831516) Visitor Counter : 225


Read this release in: English , Hindi