امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

صارفین کے تحفظ سے متعلق مرکزی اتھارٹی نے وائرلیس جیمرز کی غیر قانونی فروخت اور سہولت فراہم کرنے  کے خلاف ای کامرس کمپنیوں کو ایڈوائزری جاری کی


وائرلیس جیمرز  فروخت اور عام استعمال کے لیے ممنوع ہے اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے اس کی سہولت  کی فراہمی  ایک  غیر قانونی سرگرمی اور صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی تصورکی جائیگی

Posted On: 30 APR 2022 7:13PM by PIB Delhi


صارفین کے تحفظ سے متعلق مرکزی اتھارٹی (سی سی پی اے) نے ای کامرس کمپنیوں  کو ان کے ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کو وائرلیس جیمرز کی فروخت یا سہولت فراہم کرنے سے متعلق ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔

انڈین ٹیلی گراف ایکٹ، 1885 یا انڈین وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ (آئی ڈبلیوٹی اے)  1933کے تحت اجازت/لائسنس کے بغیر کسی بھی وائرلیس ڈیوائس کی فروخت اور استعمال، جب تک کہ ضوابط کے تحت مستثنیٰ نہ ہو، غیر قانونی ہے۔ جیمرز آئی ڈبلیوٹی اے ، 1933 کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور ایکٹیہ بتاتا ہے کہ جیمرز کو رکھنے اور استعمال کرنے کے لیے لائسنس ضروری ہے۔

بھارتی حکومت  کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق، جیمرز کو صرف غیر معمولی حالات میں ہی اجازت دی جا سکتی ہے، جب کابینہ سکریٹریٹ کے سکریٹری (سکیورٹی) کی طرف سے اجازت دی گئی ہو۔رہنما خطوط https://cabsec.gov.in/others/jammerpolicy.پر حاصل کیے  جا سکتے  ہیں۔

واضح رہے کہ محکمہ ٹیلی مواصلات  نے21جنوری  2022 کو آن لائن پلیٹ فارمز پر وائرلیس جیمرز کی غیر قانونی اور  سہولت فراہم  کے حوالے سے ایک ایڈوائزری جاری کی تھی۔ اس کے علاوہ، صنعت اور داخلی  تجارت کے فروغ کے محکمے نے تمام ای کامرس کمپنیوں  کو ایک مکتوب جاری کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے موبائل جیمرز کی فروخت اور خریداری کے خلاف بھارتی  حکومت کی طرف سے وضع کردہ قواعد و ضوابط کی تعمیل کریں۔

صارفین کے تحفظ سے متعلق ایکٹ، 2019 کی  دفعہ  18 کے تحت، سی سی پی اے کو ایک کلاس  کے طور پر صارفین کے حقوق کے  تحفظ ، فروغ اور ان کو نافذ کرنے اور صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کا اختیار حاصل ہے۔ مزید، سی سی پی اے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو روکنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بااختیار ہے کہ کوئی بھی شخص خود کو غیر منصفانہ تجارتی طریقوں میں ملوث نہ کرے۔

سی سی پی اے ملک میں صارفین کے تحفظ کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ حال ہی میں،سی سی پی اے نے ایکٹ کی  دفعہ  18(2)(j) کے تحت سیفٹی  نوٹس جاری کیے تاکہ صارفین کو ایسی اشیا خریدنے سے خبردار کیا جا سکے جو ویلڈ آئی ایس آئی مارک نہیں رکھتیں  اور لازمی بی آئی ایس معیارات کی خلاف ورزی کرتی  ہیں۔ پہلا سیفٹی نوٹس ہیلمٹ، پریشر ککر اور رسوئی  گیس سلنڈر کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا اور دوسرا سیفٹی نوٹس گھریلو سامان بشمول الیکٹرک ایمرشن  واٹر ہیٹر، سلائی مشین، مائیکرو ویو اوون، ایل پی جی کے ساتھ گھریلو گیس اسٹو وغیرہ کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔

آن لائن خریداری کے دوران صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے، سی سی پی اے نے تمام مارکیٹ پلیس ای کامرس کمپنیوں  کو ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کنزیومر پروٹیکشن (ای کامرس) رولز2020 کے ضابطہ  6 کے ذیلی ضابطہ  (5) کے تحت لازمیطور پر فروخت کنندگان کی تفصیلات فراہم کی جائیں بشمول شکایت افسر کا نام اور رابطہ نمبر واضح اور قابل رسائی انداز میں فراہم کیا جائے  اور  پلیٹ فارم پر صارفین کے لیے  نمایاں طور پر پیش کیاجائے ۔

 

************

 

 

ش ح۔ف ا۔ م  ص

 (U:4876 )



(Release ID: 1821681) Visitor Counter : 121


Read this release in: English , Hindi