وزارت دفاع

دفاعی شعبہ کو دیسی بنانے کا عمل

Posted On: 01 APR 2022 3:10PM by PIB Delhi

حکومت نے ملک کے اندر دفاعی آلات کے دیسی ڈیزائن، تیاری اور پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے گزشتہ چند برسوں میں ’میک ان انڈیا‘ کے تحت پالیسی  سے متعلق کئی قدم اٹھائے ہیں اور اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے، تاکہ دفاعی آلات کی درآمد کو کم کیا جا سکے۔ ان اقدام میں شامل ہیں ترجیح کی بنیاد پر، دفاعی تحویل کے طریقہ کار (ڈی اے پی)-2020 کے تحت گھریلو ذرائع سے بڑے سامانوں کی خریداری؛ صنعت کی قیادت میں ڈیزائن اور تیاری کے لیے 18 بڑے دفاعی پلیٹ فارموں کا اعلان؛ دفاعی پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (ڈی پی ایس یو) کی بالترتیب  خدمات کی کل 209 اشیاء کی دو ’مثبت دیسی فہرستیں‘ اور 2851 اشیاء کی دو ’مثبت دیسی فہرست‘ اور 107 لائن قابل تبدیلی اکائیاں (ایل آر یو)، جن کے لیے ان کی متعینہ ٹائم لائن کے بعد درآمد پر پابندی ہوگی؛  طویل درستگی کی مدت کے ساتھ صنعتی لائسنس کی فراہمی کے عمل کو آسان بنانا؛ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پالیسی  کو لبرل بنا کر خودکار راستے سے 74 فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت دینا؛ بنانے کے طریقہ کار کو آسان بنانا؛  دفاعی مہارت کی اختراعات (آئی ڈیکس) اسکیم کی شروعات، جس میں اسٹارٹ اپس اور بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو شامل کیا جائے گا؛ عوامی خریداری (میک ان انڈیا کی ترجیح) کے حکم نامہ 2017 کا نفاذ؛  ایم ایس ایم ای سمیت ہندوستانی صنعت کے ذریعے دیسی بنانے کے عمل میں مدد کرنے کے لیے ’سریجن‘ نام سے دیسی پورٹل کی شروعات؛ اعلیٰ نتائج کی تفویض کے ذریعے دفاعی پیداوار کے لیے آف سیٹ پالیسی میں اصلاح، جس کے تحت سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیا جائے گا؛ اور دو دفاعی صنعتی گلیارے کا قیام، ایک اتر پردیش میں اور ایک تمل ناڈو میں۔

وزارت دفاع نے صنعت کے ذریعے دیسی بنانے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے ایک ’سریجن‘ پورٹل بھی شروع کیا ہے۔ ابھی تک، 19509 دفاعی ساز و سامان، جنہیں پہلے درآمد کیا جاتا تھا، کو دیسی بنانے والے اس پورٹل پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے، ہندوستانی صنعت نے اب تک 4006 سازو سامان کو ملک کے اندر ہی بنانے میں دلچسپی دکھائی ہے۔

حکومت کی کوششوں سے، غیر ملکی ذرائع سے دفاعی خریداری پر ہونے والے اخراجات میں کمی آئی ہے اور یہ 46 فیصد سے گھٹ کر 36 فیصد ہو گئی ہے، اس طرح گزشتہ تین سالوں کے دوران، یعنی 19-2018 سے 21-2020 تک، درآمد کا بوجھ کم ہوا ہے۔ مزید برآں، سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کی دفاعی کمپنیوں کی پیداوار کی قدر، گزشتہ تین سالوں کے دوران، یعنی 20-2019 سے 21-2020 تک ، 79071 کروڑ روپے سے بڑھ کر 84643 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔

یہ معلومات رکشا راجیہ منتری جناب اجے بھٹ نے یکم اپریل، 2022 کو لوک سبھا میں جناب اروند گنپت ساونت اور جناب کرپال بالاجی تمانے کے سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*****

ش ح – ق ت – ت ع

U: 3638



(Release ID: 1812394) Visitor Counter : 139


Read this release in: English , Bengali