محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

افرادی قوت (ورک فورس)میں خواتین کی حصہ داری

Posted On: 14 MAR 2022 3:56PM by PIB Delhi

نئی دہلی:14؍مارچ2022:

روزگار اور بے روزگاری پر اعدادو شمار محکمہ قومی شماریات (این ایس او)، شماریات اور پروگراموں کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی)کے ذریعے پریوڈک لیبر فورس سروے(پی ایل ایف ایس)جمع کئے جاتے ہیں۔سال 20-2019ء کے لئے دستیاب تازہ ترین پی ایل ایف ایس رپورٹ کے مطابق مرد اور خواتین دونوں کے لئے 15 سال اور اُس سے زیادہ عمر کے لئے عام صورتحال کی بنیاد پر تخمینہ مزدور آبادی تناسب (ڈبلیو پی آر)بالترتیب 73.0فیصد اور 28.7فیصد ہے۔ اس کے علاوہ ریاست؍مرکز کے زیر انتظام ریاست وار خاتون مزدور آبادی کے تناسب کا تخمینہ (ڈبلیو پی آر)15 سال اور اُس سے زیادہ عمر کے لئے عام صورتحال کی بنیاد پر ضمیمے کے ساتھ منسلک ہے۔

سرکار نے افرادی قوت میں خواتین کی حصے داری اور اُن کے روزگار کے معیار میں بہتری لانے کےلئے کئی قدم اٹھائے ہیں۔خاتون مزدوروں کے لئے یکساں مواقع اور موافق کام کے ماحول کےلئے محنت قوانین میں کئی حفاظتی التزام شامل کئے گئے ہیں۔ اِن میں پیڈ میٹرنٹی لیو کو 12ہفتے سے بڑھا کر 26ہفتے کرنا، 50یا اُس سے زیادہ ملازمین والے اداروں میں لازمی کریچ سہولت کا التزام، رات کی پالی میں خاتوں مزدوروں کو مناسب تحفظاتی اقدام کے ساتھ اجازت دیناوغیرہ شامل ہے۔

کھلی کان کنی سمیت زمینی سطح کی کانوں میں خواتین کو شام سات بجے سے صبح چھ بجے کے درمیان زمین کے نیچے کی کانوں میں تکنیکی مشاہداتی اور انتظامی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جہاں مستقل موجودگی کی ضرورت نہیں ہوسکتی۔

یکساں محنت قانون 1976کو اب تنخواہ قانون 2019 میں شامل کیا گیا ہے، جس میں یہ التزام موجود ہے کہ تنخواہ سے متعلق معاملوں میں صنف کی بنیاد پر کسی ادارے یا اس کی کسی اِکائی میں ملازمین کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔اس کے علاوہ کوئی بھی نوکری دینے والا کسی بھی ملازم کو مساوی کام یا مساوی فطرت کے کام کےلئے روزگار کی شرائط میں بھرتی کرتے وقت صنف کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرے گا، سوائے اس کے کہ ایسے کام میں خواتین کو روزگار دینے پر پابندی ہےیا کسی قانون کے تحت فی الحال پابندی نافذ ہے۔

خاتون مزدوروں کی روزگار صلاحیت بڑھانے کےلئے سرکار اُنہیں خاتون صنعتی تربیتی اداروں ، قومی کاروباری تربیتی اداروں اور علاقائی کاروباری تربیتی اداروں کے نیٹ ورک کے توسط سے تربیت فراہم کررہی ہے۔

ضمیمہ

ریاست؍مرکز کے زیر انتظام ریاست وار  خاتون مزدور آبادی کے تناسب کا تخمینہ (ڈبلیو پی آر)(فیصد میں)سال 20-2019ء کے لئے 15سال یا اُس سے زیادہ کی عمر زمرے کےلئے عام حالت کے مطابق۔

 

نمبر شمار

ریاست ؍مرکز کے زیر انتظام علاقے

خاتون ڈبلیو پی آر

1

آندھرا پردیش

37.6

2

اروناچل پردیش

20.8

3

آسام

14.2

4

بہار

9.4

5

چھتیس گڑھ

52.1

6

دہلی

14.5

7

گوا

24.9

8

گجرات

30.7

9

ہریانہ

14.7

10

ہماچل پردیش

63.1

11

جھارکھنڈ

35.2

12

کرناٹک

31.7

13

کیرالہ

27.1

14

مدھیہ پردیش

37.2

15

مہاراشٹر

37.7

16

منی پور

26.8

17

میگھالیہ

44.1

18

میزورم

34.9

19

ناگا لینڈ

31.1

20

اُڈیشہ

31.8

21

پنجاب

21.8

22

راجستھان

37.6

23

سکم

58.5

24

تمل ناڈو

38.3

25

تلنگانہ

41.8

26

تریپورہ

23.5

27

اتراکھنڈ

30.1

28

اترپردیش

17.2

29

مغربی بنگال

23.1

30

انڈمان اینڈ نکوبار

25.9

31

چنڈی گڑھ

18.8

32

دادر اینڈ نگر حویلی

52.3

33

دمن اینڈ دیو

34.8

34

جموں و کشمیر

33.1

35

لداخ

51.1

36

لکشدیپ

23.1

37

پڈوچیری

28.4

 

کل ہند

28.7

ذریعہ:پریوڈک لیبر فورس سروے(پی ایل ایف ایس)، جولائی 2019-جون 2020، شماریات اور پروگراموں کے نفاذ کی وزارت۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں محنت و روزگار کے وزیر مملکت  جناب رامیشور تیلی نے دی۔

 

************

 

 

ش ح۔ج ق۔ن ع

(U: 2601)



(Release ID: 1805936) Visitor Counter : 150


Read this release in: English , Tamil