بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم روزگار فراہمی پروگرام (پی ایم ای جی پی)

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 FEB 2022 5:19PM by PIB Delhi

بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے مرکزی وزیر جناب نارائن رانے نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی  صنعتوں کی وزارت  ایک نوڈل ایجنسی کی حیثیت سے  غیر زراعتی شعبے میں  بہت چھوٹی صنعتیں قائم کرکے ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے 2008-09 سے  کھادی اور دیہی صنعت کمیشن ( کے وی آئی سی) کے ذریعہ  وزیراعظم کے  روزگار فراہمی کے پروگرام  (پی ایم ای جی پی ) پر عمل درآمد کررہی ہے ۔

وزیراعظم کے روزگارفراہمی پروگرام کے تحت، عام زمرے کے فیضیافتگان دیہی علاقوں میں  پروجیکٹ پر آنے والی لاگت کی کم از کم سبسڈی 25 فیصد اور شہری علاقوں میں 15 فیصد حاصل کرسکتے ہیں ۔ خصوصی زمروں کے لئے ، جیسے  ایس سی/ ایس ٹی / او بی سی / اقلیتیں/ خواتین / سابق فوجی ملازمین/ جسمانی طور پر معذور افراد / این ای آر / پہاڑی  اور سرحدی علاقے وغیرہ ، دیہی علاقوں میں کم از کم سبسڈی 35 فیصد اور شہری علاقوں میں کم  از کم سبسڈی 25 فیصد ہے ۔ مینوفیکچرر یونٹ کی  زیادہ سے زیادہ منصوبہ  جاتی لاگت 25 لاکھ روپئے اور  خدمات کےشعبے کے لئے 10 لاکھ روپئے ہے۔

اپنے آغاز سے  31 دسمبر 2021 تک  اس پروجیکٹ کے ذریعہ7.38 لاکھ نئی بہت چھوٹی  اکائیوں کو مدد دی گئی ہے  ،جنہوں نے  17819.23 کروڑ  روپئے کی کم از کم سبسڈی سے استفادہ کیا ہے اوراس کے نتیجے میں تقریبا 60.60 لاکھ افراد کو  روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں ۔

یہ اسکیم دیہی روزگار کی فراہمی میں بہت کامیاب رہی ہے ، جس نے بہت سے سماجی زمروں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ پی ایم  ای جی پی کی تقریبا 80 فیصد اکائیاں  دیہی علاقوں میں قائم کی گئی ہیں ، جبکہ ان اکائیوں میں سے 50 فیصد ایس سی / ایس ٹی خاتون صنعت کاروں کے ذریعہ  لگائی گئی ہیں ۔ وزیراعظم روزگارفراہمی پروگرام کے تحت ملک بھر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران اور اس برس میں 27 جنوری 2022ء تک  مقرر کئےجانے والے اہداف  اور حصولیابیاں  ذیل میں دی گئی ہیں :

 

 (کم از کم رقم:۔ لاکھ میں)

سال

ہدف

حصولیابی

اکائیوں کی تعداد

کم از کم رقم

 تقسیم شدہ

تخمینی  فراہم کردہ روزگار

اکائیوں کی تعداد

کم از کم رقم

 تقسیم شدہ

تخمینی  فراہم کردہ روزگار

2018-19

72381

206880.00

579048

73427

207000.54

587416

2019-20

79236

239644.00

633888

66653

195082.20

533224

2020-21

78625

228968.52

629000

74415

218880.15

595320

2021-22 (27 جنوری 2022 کے مطابق)

92666

285000.00

741328

60180

185122.76

370840

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

گزشتہ تین برسوں کے دوران  اوراب تک اس برس کے دوران  پی ایم ای جی پی منصوبے کے تحت استفادہ کرنے والی خواتین کی ریاست / مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے  اعتبار سے تعداد  ضمیمہ میں دی گئی ہے۔

وزیراعظم کے روزگار فراہمی پروگرام کی موثر طور پر عمل آوری کے لئے  درج ذیل ااقدامات کئے گئے  ہیں:

  1. درخواستوں کی وصولی کاعمل، جس میں بینک کی منظوریاں ا ور تقسیم بھی شامل ہے ،  آن لائن پورٹل متعارف کراکے  تیز رفتار اور شفاد بنادیا گیا ہے ۔
  2.  مالی مدد دینے والے بینکوں  کے لئے تجاویز/ درخواستوں کی سفارش میں اپریل 2020 کے بعد سے  ضلعی سطح ٹاسک فورس کمیٹی (ڈی ایل ٹی ایف سی) کے کردار کے سلسلے کو منقطع کرکے  صنعت کاروں کے انتخاب کے عمل کو مزید متوازن بنایا گیا ہے ۔ تبدیل شدہ منظر نامہ میں ،  تجاویز کو  ایک اسکور کارڈ ماڈل کے طرز پر  براہ راست عمل درآمد کرنےوالےاداروں کے ذریعہ فائنانس کرنے والے بینکوں کو بھیجا جاتا  ہے جس کی بنا پر منظوری دیئے جانےکی مدت میں تخفیف کی جاسکی ہے ۔
  • iii. اکتوبر 2019 سے صنعت کاری تربیتی پروگرام (ای ڈی پی) کے اہتمام کو ، جوکہ بینکوں کے ذریعہ قرض کی تقسیم سے پہلے لازمی ہے ، آن لائن کردیا گیا ہے ، جس کا مقصد استفادہ کنندگان کے لئے تربیت اور قرض کےاجرا کو تیز رفتار بنانا ہے ۔
  • iv. خواہش مند درخواست گزاروں کے لئے دو روزہ ماقبل ای ڈی پی تربیتی پروگرام متعارف کرایا گیا ہے ۔
  1. صنعت کاروں کو مختلف النوع اکائیاں قائم کرنے کے لئے ترغیب دینے کی غرض سے سرگرمیوں کی فہرست کو توسیع دی گئی ہے ۔
  • vi. کھادی اور دیہی صنعتی کمیشن (کے وی ا ٓئی سی)، ر یاستی کھادی اور دیہی صنعتی بورڈ ( کی وی آئی بی) اور ضلعی صنعتوں کے مراکز (ڈی آئی سیز) جیسے عمل درآمد کرنے والے ادارے کال سینٹروں، آن لائن تدریس ، ہیلپ ڈیسک، بینک کاری اور مارکیٹنگ ایکسپرٹس کے ذریعہ درخواست گزاروں کو امداد فراہم کررہے ہیں ۔
  1. ہراتوارکو  شعبہ / صنعت وار  ویبنار بھی منعقد کئے جاتے ہیں  جس میں صنعتی ماہرین اوربینکوں کے علاوہ  3 لاکھ سے زیادہ ممکنہ درخواست گزاروں کی طرف سے شرکت کی جاتی ہے ۔

 

گزشتہ تین برسوں اوراس برس کے دوران (27 جنوری 2022تک) پی ا یم ای جی پی کے تحت  استفادہ کرنے و الی خواتین کی تعداد

نمبرشمار

ریاست /مرکز کے زیرانتظام علاقے کا نام

 

2018-19

2019-20

2020-21

2021-22

(27.01. 2022)تک

1

جموں و کشمیر

2449

1861

3235

5982

2

لداخ

0

0

85

46

3

ہماچل پردیش

528

447

431

279

4

پنجاب

703

681

737

493

5

یوٹی چنڈی گڑھ

13

8

6

5

6

ہریانہ

547

592

622

469

7

دہلی

54

41

33

30

8

راجستھان

524

732

663

446

9

اتراکھنڈ

499

467

551

288

10

اترپردیش

1433

1574

2777

2193

11

چھتیس گڑھ

726

670

753

444

12

مدھیہ پردیش

738

627

1435

1075

13

سکم

27

29

24

13

14

اروناچل پردیش

99

77

38

41

15

ناگالینڈ

535

481

310

232

16

منی پور

533

518

725

265

17

میزورم

542

389

417

110

18

تری پورہ

248

219

224

136

19

میگھالیہ

126

117

140

102

20

آسام

999

798

951

464

21

بہار

861

582

665

425

22

مغربی بنگال

810

911

907

530

23

جھارکھنڈ

428

451

444

256

24

اڈیشہ

1185

1160

1319

936

25

انڈمان اور نیکوبارجزائر

51

17

42

25

26

گجرات*

2382

2719

1841

2061

27

مہاراشٹر**

1965

1636

1179

984

28

گوا

30

36

18

26

29

آندھرا پردیش

1101

1113

856

811

30

تلنگانہ

668

735

734

579

31

کرناٹک

1086

1167

1492

1160

35

لکشدیپ

0

0

2

-

33

کیرالہ

1052

1003

953

612

34

تملناڈو

2463

2841

2663

1699

35

پڈوچیری

29

21

13

20

کل میزان

25434

24720

27285

23237

 

 

 

 

 

 

 

*************

 

 

 

ش ح ۔ س ب۔ ف ر

 

U. No.1844

 


(ریلیز آئی ڈی: 1800009) وزیٹر کاؤنٹر : 200
یہ ریلیز پڑھیں: English , Tamil